ضلع کھرمنگ موضع غاسنگ میں کئی ہزار کنال بندوبستی قابل کاشت زمینیں حکومتی عدم توجہی کے سبب بنجر پڑی ہے۔حکومت کو چاہئے کہ ان زمینوں پر کو بھی ایفاد پراجیکٹ میں شامل کریں۔ عوامی حلقے

کھرمنگ( نمائندہ خصوصی) ویسے تو گلگت بلتستان کی قدرتی حسُن اوور خوبصورتی دنیا میں جنت سے کم نہیں، لیکن اکثر اوقات قدرت کے حسین شاہکار علاقے قیادت کے فقدان کی وجہ سے قبرستان کا منظر پیش کر رہا ہوتا ہے ۔ ایسا ہی منظر کھرمنگ کے وادی غاسنگ میں دیکھنے کو ملے گا۔سکردو شہر سے ٹھیک ساٹھ کلومیٹر دوری پر واقع وادی غاسنگ کا شمار ضلع کھرمنگ کے وسیع ترین علاقوں میں ہوتا ہے، تاریخی حوالے سے اس علاقے کی سیاسی اور سماجی اہمیت کسی سے ڈھکی چُھپی نہیں۔ وادی کے بلکل ہی عقب میں دریائے سندھ کے کنارے اور غاسنگ ندی سے ملحق کئی ہزار کنال پر مشتمل (پولی کنال) جسے سجن پور بھی کہتے ہیں واقع ہیں۔ ایک زمانے میں یہاں آبادی تھی کھیت کھلیار تھے لیکن غاسنگ ندی میں پانی کی کمی اور اس حوالے سے منظم حکمت عملی نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کی زمینیں ویران ہوگی۔ پولی کنال کے بلکل نیچے سے دریائے سندھ بھی بہہ رہا ہے یوں دریائے سندھ سے اس ویران رقبے کو آباد کرنے کیلئے نہایت ہی آسانی کے ساتھ پانی نکالا جاسکتا تھالیکن سیاسی طور پر منظم نہ ہونے اور علاقے کے عوام اور عمائدین میں مستقبل کی ضروریات کے حوالے سے شعور نہ ہونے کی وجہ سے کئی بار سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر اس رقبے کی دوبارہ آباد کاری کیلئے فنڈز منظور ہونے کے باجود پایہ تکمیل تک نہیں پونچ سکے۔ اس ویران آبادی پر قلیل سرمایہ کاری کیا تو کھرمنگ کی خوبصورتی کو نہ صرف کو مزید چار چاند لگ سکتاہے بلکہ معیشت اور قومی خزانے کو بھی خوب فائدہ بھی ہوسکتا ہے کیونکہ زرعی ماہرین کے مطابق یہاں کی زمینیں چیری ،انگور،الو اور گندم کی کاشت کیلئے بڑا فیورٹ ہے۔
اہلیان علاقہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان زمینوں کو بھی ایفاد پراجیکٹ میں شامل کریں ایسا کرنے سے نوازئدہ ضلع کھرمنگ میں سیاحت اور زراعت کے شعبے کو فروغ مل سکتا ہے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc