مقبول بٹ اور میں۔ تحریر : لیاقت انقلاب

ہم نے مقبول بٹ شہید کو کیوں اپنا لیڈر مانا ہم نے مقبول بٹ کو اس لیے اپنا لیڈر مانا ہمارا کوئی علاقائی نسلی یا خاندانی تعلق نہیں ہے مقبول بٹ کے ساتھ ہمارا مقبول بٹ کے ساتھ نظریاتی تعلق ہے ہمارا مقبول کے ساتھ اصولوں کا تعلق ہے ہمارا مقبول کے ساتھ غیرت کا تعلق ہے ہمارا مقبول کےساتھ ایمان و عقیدےکا تعلق ہے لیکن ایک بڑاتعلق ےجو میرا اور مقبول بٹ کا ہے جو کہ تمام غیرت مند کشمیروں کا ہے وہ یہ کہ عوامی مسلع جدوجہد جو دینا میں بیسویں صدی میں شروع ہوئی عظیم ماو نے کامریڈ لینن نے یہ اصطلاح شروع کی مقبول بٹ اس راہ پر چلا لیکن میں جو کہنا چاہتا ہوں جو میرا اور آ پ کا افتخار ہے کہ میرے اور آپ کے اجداد نے انیسو یں صدی میں 1832 سے لیکر 1838 تک عظیم سبز علی خان اور ملی خان نےبیرونی غاصبوں کےخلاف بیرونی جارحین کے خلاف جو مہاراجہ رنجیت سنگھ آیا تھا ریاست جموں کشمیرکو فتح کرنے ک لیے اور اسی کا گلاب سنگھ لشکری بن کے دلال کے طور پر ہمارے لوگوں پر ظلم کر رہا تھا اس کے خلاف عظیم سبز علی خان اور ملی خان نے اپنی جانوں کا نزرانہ دے کر اس جدوجہد کا آغاز کیا اور یہی تعلق ہے میرا اور مقبول بٹ کا تھا مقبول بٹ شہید نے میرے اجداد کی اس سنت کو 1968 میں شروع کیا پہر 1976 میں شروع کیا اور اپنے آ پ کو تختہ دار تک پنچایا اور ایسا ہی تعلق ہے جو اٹوٹ ہے اس لیے اٹوٹ ہے کہ میرے اور آپ کے خون میں نسل درنسل یہ جو عوامی مسلح جدوجہد کا جزبہ ہےچلتا آ رہا ہے ساری دینا لمبی لیٹ جاۓ 1832 میں بھی جموں کشمیر میں لوگ لیٹ گئے تھے کیا معزرت کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے لیکن میرے اور آپ کے اجداد نے عوامی مسلح جدوجہد کے علم کو تاما تھا 1947 میں بھی لوگ لیٹ گئے تھے کیا؟ اور آج بھی لوگ اگر لیٹ جاتے ہیں تو؟
آج بھی نام نہاد پیس پراسس کے نام پر قومی غیرت کا سودا ہوتا ہے۔ میرے غیرت مند کشمیری بھائیوں عظیم مقبول بٹ کے مانے والو ہم نے اس پر کمپروماٴز نہیں کرنا ہےکیونکہ قومی آزادی کی تحریک ہمیں انقلاب کی تحریک میں عوامی مسلح جدوجہد جو ہے وہ روح کا درجہ رکھتی ہے اور اگر عوامی مسلح جدوجہد کو اس سے باہر نکالو گے تو سب بھس بھسا ہو جائے گا منافقت ہو جائے گی دوغلا پن ہو جائے گا۔
اور دینا میں کسی قوم نے عوامی مسلح جدوجہد کو چھوڑ کر حقیقی معنوں میں آزادی حاصل نہیں کی ہو اس لیے جو عوامی مسلح جدوجہد کے فلسفہ سے منہ موڑے گا وہ عظیم شہدا کے ساتھ غداری کرے گا مقبول بٹ کیساتھ غداری کرے گا اور جو مقبول بٹ شہید کے افکار کا غدار ہے وہ قوم کا غدار ہے میرا غدار ہے اور آ پ کا غدار ہے۔

کچھ عرصے سے ہمارے عقل سے عاری تاریخ انسان سے نا بلد لوگ ان دو ناسوروں کو اپنا ہیرو بنا کر پیش کر رہے ہیں جو کسی صورت ہمیں قبول نہیں ہمارا ہیرو ہمارا رہبر مقبول بٹ ہے رہے گا ہم ان جیسے ناسوروں کو ہر جگہ ننگا کرتے رہیں گئے

جئے بٹ جئے کشمیر
سرخ انقلاب زندا باد

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc