ٹیکس قضیہ اور گلگت بلتستان کی آئینی پوزیشن۔۔ تحریر : پروفیسر علی شفاء

گلگت بلتستان کے سادہ لوح عوام اور شاطرانہ لیڈرشپ کی فنکارانہ رویہ گلگت بلتستان اور پاکستان کے لئے تباہ کن طوفان کی شکل اختیار کرنے جارہا ہے عوامی نمائندوں اور اہل منبر کی منا فیقنہ چالوں کی وجہ سے آج عوام بالخصوص نوجوانوں نسل سخت کوفت کا شکار ہیں اور ہر بدلتے دن ایک نیا سوال جنم دے رہے ہیں جن کا جواب کسی کے پاس بھی نہیں پہلا سوال آیین پاکستان گلگت بلتستان کو اپنا حصہ قبول نہیں کرتا جو کہ اقوام متحدہ کے قوانین کے تعبع ہے جو کہ مسئلے کشمیر کے تناظر میں مجبور ہے یا مملکت کی پالیسی وہ اربابِ اختیار کو معلوم ۔۔پاکستان کے صاحب اقتدار نے گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ “سانپ سیڑ ھی کا کھیل” گزشتہ 70 سالوں سے کیھل رہے ہیں جو کہ ختم ہو کا نام نہیں لے رہا ہے جسکی وجہ مثال مختلف حکومتوں کی طرف سے پیکجز اور کمیٹیوں کی تعداد ہے جن کا مقصد صرف عوام کو مصروف رکھنے کے علاوہ کچھ نہیں۔یہاں ایک بات قابل ذکر ہے وہ ہے گلگت بلتستان کے نام نہاد لیڈروں اور علماء کا کردار انکی مراعاتی اور مفاداتی پالیسیوں کی وجہ سے کنفیوز ن بڑھتی گئی ان نام نہاد طبقے نے ذاتی مفادات کی خاطر عوام کو گمراه کیا معاشرتی اجتماعات میں دبے الفاظ میں گلگت بلتستان اور پاکستان کے مبہم تعلق کا ذکر کرتے ہیں لیکن نا معلوم قوتوں کی ڈر سے کھل کر بولنے سے قاصر رہے ہیں جس کا نقصان پاکستان اور گلگت بلتستان دونوں کو ہوا پاکستان کی محبت میں کمی اور گلگت بلتستان کے عوام میں کنفیوژ ن کی صورت میں آیا جس کی مثال آج کل کے شوشل میڈیا بحث سے لگایا جا سکتا ہے گلگت بلتستان کے پڑھے لکھے نوجوان موجودہ حالات خاص طور پر مسلکی اختلافات کو پاکستان کے صاحب اختیار کے خاطے میں ڈال دیتے ہیں اس میں کہا ن تک صداقت ہے یہ ایک الگ بحث ہے ۔گلگت بلتستان کے لوگ کرپشن اقرباء پروری اور سفارشی کلچر کو بھی پاکستان سے آے ہو ے غیر مقامی انتظامیہ کو ذمدار ٹھراتے ہیں اور کسی بھی انتظامی تبدیلی کو شازش کہہ کر کچھ وقت کے لئے اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہیں گندم سبسیڈی اور ٹیکس کا معاملہ اسکا منہ بولتا ثبوت ہے ۔یہاں ایک اہم سوال بنتا ہے ان نام نہاد علماء اور نمائند گان سے جو 70 سالوں سے گلگت بلتستان کو پاکستان کا حصہ سمجھتے اور سمجھا تے رہے ہیں ۔۔اگر پاکستان کے چاروں صوبوں کے عوام ٹیکس دیتے ہیں تو گلگت بلتستان والے کیونکر چھوٹ کی اپیل کرتے ہیں؟ کس بنیاد پر مثتسنا مانگتے ہیں؟ ٹیکس کی افد یت سے کیسے انکار کیا جاسکتا ہے تمام ترقیا فتہ اقوام نے اپنی ترقی ٹیکس کی ادائیگی سے ہی ممکن بنایا ہے تو ہم کیسے انکار کر سکتے ہیں۔اب وقت آیا ہے کی 70 سالوں کی منافقانہ درویش کو تبدیل کر کے اصیلی سمت پر اپنی رائے کی تر بیت کی جائین اور کھل کر اپنا مقدمہ چلایا جائے ۔۔اکر ہم پاکستان کا حصہ ہیں تو اچھے شہری بن کر ٹیکس دین ورنہ اپنی اصلی پوزیشن کو وا ضع کر کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے ورنہ کوئی وجہ نہیں کی ہر وقت موقف بدلتے رہے جب کچھ دینے کا وقت اے تو ہم متناضہ اور 14 اگست کو ناچنا ہو تو پاکستانی؟ بے ضمیر ی کی بھی انتہا ہوتی ہے لوگوں!!! آپ کو حق حاصل ہے کہ حکومت پاکستان سے دو ٹوک انداز میں بات کر ین اور اضترابی کیفیت کا خاتمہ کر ین تاکہ آنے والی نسلیں کچھ بامقصد بقائے باہمی پر کام کر سکے ۔جزبات سے زیادہ عقلمندی سے کام لینے کی ضرورت ہے جس کا پھل گلگت بلتستان اور پاکستان کو ملے گا گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے حوالے سے کشمیر یوں پر لگائے جانے والے الزامات کی بوچھاڑ میں بھی کم ہونگی تاکہ وہ اپنی جد وجہد تیز کر سکے تاکہ ان کی آزادی ممکن ہو کے جو کہ ہم سب کے لئے باعث سکون ہو گی بحثیت مسلمان اور انسان ۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc