غیرقانونی ٹیکسز کے حوالے سے نگران وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے عجیب منطق پیش کردیا۔

گلگت ( نمائندہ خصوصی) نگران وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اکبر تابان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام ابھی ٹیکس دینے کے قابل نہیں ہے کیونکہ گلگت بلتستان ایک پسماندہ علاقہ ہے اور یہ خطہ ابھی ترقی کررہا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا ہے کہ ٹیکس معطلی کے حوالے سے وزیر اعظم پاکستان کو حکومت گلگت بلتستان نے سپاس نامہ پیش کیا ہے جس پر بہت جلد عملدرآمد کرتے ہوئے ٹوٹفیکشن بھی جاری ہو جائے گا لہذا عوام کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ پرُامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے لہذا قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج کیا جاسکتا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اکبرتابان کو گلگت بلتستان کے عوام کو غریب اور خطے کو پسماندہ کہنا اُنکی ذہنیت کو واضح کرتی ہے کیونکہ گلگت بلتستان قدرتی وسائل سے مالا مال دنیا کا امیرترین خطہ ہے لیکن متنازعہ حیثیت کی وجہ سے یہاں سرمایہ کاری کا فقدان ہے اور مقامی وسائل پر مقامی افراد کے بجائے حکومت کی پشت پناہی سے غیر مقامی عناصر قابض ہیں لہذا اُنکا گلگت بلتستان کو پسماندہخطے کا اقرار کرنا اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ گلگت بلتستان میں آج تک کسی نے عوامی فلاح کیلئے کچھ نہیں کیا۔ لیکن ٹیکس کا معاملہ قانونی ہے گلگت بلتستان ایک متنازعہ اور مسلہ کشمیر کیلئے رائے شماری تک پاکستان کے زیر انتظام خطہ ہے لہذا جس خطے کی کوئی آئینی اور قانونی پہچان نہ ہو وہاں زبردستی ٹیکس نافذ کرنا اقوام متحدہ کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc