ہم کیاکھارہےہیں اورکیا پی رہے ہیں ؟ تحریر: میثم اینگوتی

یوں تو وطن عزیزپاکستان میں ملاوٹ کے بغیر کوئی بھی چیز دستیاب نہیں ہے اگر خدانخواستہ کسی کو ایسی خالص شے دستیاب ہوئی بھی تو اس ملاوٹ زدہ چیزوں کاعادی معدہ شاید قبول نہ کریں۔ پاکستان کے دیگر صوبوں میں چونکہ میڈیا آزاد ہے جہاں چاہے کسی بھی کارخانے، فیکٹری یا فلور مل میں جاکر لائیو سٹریمنگ شروع کردیتی ہے، دیکھئے ناظرین یہاں کیا ہورہاہے؟ عوام کی جانوں کے دشمن آج پکڑے گئے ہیں۔ یہ دیکھئے گندگی کاڈھیر ؟ توبہ توبہ اور یہ دیکھئے کہ دودھ میں سرف ملایاجارہاہے۔ ہم دودھ پی رہے ہیں یا زہر پی رہے ہیں؟ یوں کبھی کبھار چائے میں جانوروں کاخون ملانے والے، جانوروں کی انتڑیوں اور چربی سے آئل تیارکرنے والے، اور سرف زدہ دودھ تیارکرنے والے پکڑے جاتے ہیں۔
گلگت بلتستان اس بدقسمت ملک کا بدقسمت ترین خطہ ہے جہاں پورے پاکستان میں سب سے زیادہ غیر معیاری اور ڈیٹ ایکسپائر چیزیں لائی جاتی ہیں اور کھلائی جاتی ہیں۔ نہ میڈیا ہے نہ عوامی سطح پر کوئی شعور اور آگہی۔ رہی بات مقامی انتظامیہ کی تو اسے خاموش کرانا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔
اس وقت بلتستان لیول پر سب سے زیادہ مسائل صحت کے حوالے سے ہیں۔ بلتستان کاہر تیسرابندہ معدہ پکڑآ ہواہے ۔ علاج سے لے کر دم درود سے لر پرہیز تک، سوجتن کے باوجود بھی افاقہ نہیں اور لوگ نفسیاتی مریض بن کر رل جاتےہیں۔ آخر ایساکیوں ہے ؟ اس کی بنیادی وجوہات کیاہیں؟
ہم نے مقامی اجناس کااستعمال ترک کردیاہے۔ ہم نے زرعی زمینوں اور باغات ختم کرکے مارکیٹ اور بنگلے بناناشروع کردیے ہیں۔ ہم نے مقامی میوہ جات کو پیسے کی لالچ میں مارکیٹ میں بیچنا شروع کیاہے اور بازار سے گلی سڑی اور غیر معیاری اشیاء کا استعمال شروع کیاہے جن کی تاب نہ ہمارا معدہ لاسکتاہے اور نہ ہماری صحت۔ گذشتہ دنوں پاکستان کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ جانے اور وہاں کے سائنٹفک ریسرچ کے ذمہ دار فیض اللہ صاحب سے ملاقات کا موقع ملا۔ فیض اللہ صاحب فرزند گلگت بلتستان ہونے کے ساتھ اس ادارے میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور اس پہلے وہ دیگر صوبائی اور وفاقی اداروں میں بھی کام کرچکے ہیں۔ باتوں باتوں میں پتہ چلا کہ اس ادارے میں تمام اشیاء کے معیار ٹیسٹ کرنے کی سہولت موجودہیں۔ سربستہ عرض کیا کہ سر پھر بتائے نہ کہ ہم جو کچھ کھارہے ہیں وہ کیاہیں ؟
فیض اللہ صاحب نے تفصیل سے بتایا کہ دراصل مارکیٹ میں چھاپے لگانا، ٹیسٹ کے لے آنا اور منافع خوروں کو کنٹرول کرنافوڈ انسپکٹر کاکام ہے اور وہ زحمت کرتے ہیں تو ہم ٹیسٹ کرکے بتادیتے ہیں۔ گذشتہ دنوں فوڈ انسپکٹر صاحب 12 کمپنوں کے آئل چیک کرانے لے آئے ان میں سے صرف 3 پاکستان کے سٹینڈرڈ کے مطابق تھے۔ اس کے بعد سات قسم کے آئل لے آئے ان میں سے صرف 2 معیاری قرارپائے۔اسی طرح سکردو کی سات فلور ملز کا آٹا لایاگیا تو سب کے سب ناقص اور غیر معیاری ۔ تمام فلور ملز مالکان وزن زیادہ بڑھانے کے لئے پانی کا استعمال زیادہ کرتے ہیں اور فائن آٹآ بنانے اور چوکر نکالنے کے لئے بھی عوام کی جان سے کھیل رہے ہیں۔
پانی کے حوالے جب بات ہوئی تو انھوں نے فرمایاکہ سکردو کے پانی میں زہریلے مواد زیادہ مقدار میں پائے گئے ہیں۔ خصوصا فیز ون کے ساتھ جو نلکے لگے ہوئے ہیں اس پانی میں ارسینک کی مقدار چالیس فیصد پائی گئی ہے۔ ارسینک ایک قسم کا سلو پوائزن ہے جو انسان کو آہستہ آہستہ مار دیتاہے۔بہت سے جراثیم یا مضر کیمیائی مواد پانی ابالنے سے ختم ہوجاتے ہیں لیکن اسینک کے لئے ابالنا بھی موثر نہیں ہوتا۔ ارباباختیار اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور قوم پر رحم کریں۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc