بچوں کی تربیت اور خاندان۔ تحریر: ذوالفقار علی کھرمنگی

عمل سماجیت میں بچوں کی تربیت کا اہم زریعہ خاندان’ہم عمر گروہ’ہمسائے اور تعلیمی ادارے ہے.جن کا اثرورسوخ بچوں کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں. اور یہ ادارے بچوں کی تربیت باقاعدہ منظم اور موثر طریقے سے سرانجام دیتے ہیں.جن کی بدولت بچوں کی نشوونما بہتر انداز میں ہوتی ہے.لیکن اس کے برعکس جب یہ ادارے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام نہیں دے پاتے تو بچے سماج سے متنفر ہو کر غیر مذہبی و سماجی زندگی کی طرف راغب ہو جاتا ہے.بچوں کی تربیت کا اہم ادارہ خاندان جس میں والدین بچوں کی تربیت کرتا ہے اگر اس اہم دور میں والدین اپنی نگہداشت بچوں کی تربیت و نشوونما پر صرف کریں تو بچے معاشرے کا باعزت شہری بن جاتا ہے خاندان تربیت کے حوالے سے ایک اہم ترین معاشرتی ادارہ ہے جن میں ہر افراد کی الگ منصب اور ذمہ داریاں ہوتی ہے اور والدین اس ادارے کا سربراہ ہے جو بچے کی دیکھ بھال اور نگہداشت کا زمہ دار ہوتا ہے .اگر والدین اپنے بچوں کی تربیت کے سلسلے کو بہتر معاشرے کی عکاس کی طرف لے جاتا ہے تو بچہ معاشرے کا بہترین کردار بن جاتا ہے والدین کو چاہے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت میں اسلامی و اخلاقی آداب کا لحاظ رکھے کیونکہ اس سے بچوں کی ذہنی و ساجی تربیت بہتر ہو جاتی ہے.والدین کی زمہ داری یے کہ وہ بچوں کے بہتر تعلیمی’ ذہنی و سماجی تربیت کا انتظام کریں.ان کے ہم عمر ساتھیوں کے انتخاب میں ان کی مدد کریں کیونکہ خاندان کے بعد بچوں کی تربیت لاشعوری طور پر ہم سر گروہ سے وابستہ ہوتے ہیں.چونکہ بچے اپنے ہم عمروں کے کردار کو مثالی سمجھتے ہیں .ان کی تقلید کرتے ہیں اوران بچوں کی نقل کرنا شروع کرتے ہیں اسی لئیے والدین پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے دوست کا انتخاب کرنے میں بچوں کی مدد کریں کیونکہ بچے بہتر انتخاب کے متحمل نہیں ہوتے ہیں.اس کے بعد والدین کی دوسری اہم زمہ داری تعلیمی ادارے کا انتخاب کا ہے.چونکہ تعلیمی اداروں میں بچوں کی تربیت خاندان کے مقابلے میں منظم اور بہتر انداز میں انجام دیتا ہے جہاں بچوں کے سامنے ایک اہم مقصد رکھا جاتا ہے جس کے لیئے بچوں کے اندر تحریک پیدا کی جاتی ہے تاکہ وہ کامیاب زندگی گزار سکے اس لیئے والدین پر اہم زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بچوں کی تعلیم کے لئیے بہتر تعلیمی ادارے کا انتخاب عمل میں لائے.جس میں بچوں کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی اور تربیتی تدریس دی جاتی ہو.اور والدین اپنے بچوں کے سامنے ایک بہتر اور منظم سماجی ماڈل پیش کرئے.جس میں ان کے خاندانی وظائف’ عمل سماجیات کے اصول.ہم عمر جولیوں سے تعلقات’ معاشرتی آداب اور تعلیمی اداروں میں ان کے وظائف سے ہمیشہ آشنا رکھے.چونکہ ان عوامل کا بچوں کے زندگی میں بہت ذیادہ عمل دخل ہوتے ہیں.اگر بچوں کی زندگی میں والدین بچپن سے ہی ان عادات کو پروان چڑھائے تو بچے معاشرے میں بہتر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc