نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی رجسٹریشن لوکل سطح پر لازمی ہونے کے باوجود حکمران جماعت کے لوگ اس قانون کی دیجیاں اُڑا رہے ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔

استور(نامہ نگار) گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کے سبب یہاں اسمگل شدہ گاڑیوں کی بھرمار ہے صرف یہ نہیں بلکہ پاکستان کے مختلف شہروں سے چوری شدہ گاڑیوں کو بھی گلگت بلتستان میں نان کسٹم پیڈ کا نام دیکر چلایا جاتا ہے۔ گاڑیوں کی اس بھر مار کو روکنے کیلئے سابق حکومت نے تمام نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی رجسٹریشن کو یقینی بناتے ہوئے تمام گاڑیوں کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد محکمہ ایکسائز کی جانب سے لوکل سطح پر نمبر پلیٹ جاری کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔لیکن موجودہ حکومت کے دور میں مسلم لیگ نواز کے کارکنوں سے لیکر ممبران قانون ساز اسمبلی ،جی بی کونسل تک نے اس قانون کو مذاق بنایا ہوا ہے۔ لیکن غریب عوام کیلئے آج بغیر سرکاری سطح پر الاٹ شدہ نمبر پیلٹ کے گاڑی چلانا خطرناک جرم سمجھا جاتا ہے ۔ حکمران پارٹی کے لوگ کس کھاتے میں اس قانون سے بالاتر ہیں چیف سکریٹری کو چھان بین کرنے کی ضرورت ہے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc