ڈوگروں سے ٹھوکروں تک کی آزادی ۔ تحریر : ایڈوکیٹ محمد تقی لیوان

عشق و آزادی بہار زیست کا سامان ہے
عشق میری جان آزادی میرا ایمان ہے
عشق پر کردوں فدا اپنی ساری زندگی
لیکن آزادی پہ میرا عشق بھی قربان ہے
اللہ تعالی کے عظیم نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت آزادی ہے
آزادی ہر انسان اور ہر قوم کا بنیادی حق ہے. آزادی انسان کے افکار اور نظریاے کی اشاعت کا نام ہے. اپنی وسائل اپنے نظریات میں استعمال میں لانے کے اختیار کا نام ہے. یقیناً آزادی بلبل میں شاہین کی ادائیں پیدا کرتی ہے. ممولوں کو شہبازوں سے لڑنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے. انسانی جسمانی اور روحانی صلاحیتوں کو جلا بخشتی ہے. اور غلامی اپنے افکار اور نظریات کا جنازہ اپنے کاندھوں پر اٹھا کر زندہ درگور ہونے کا مجرمانہ فعل ہے. غلامی حسن زیبائی سے محرومی کا نام ہے.
غلامی ذہنی صلاحیتوں کی زنگ آلودگی کا نام ہے. غلامی ضمیر فروشی اور مردہ ضمیر کا نام ہے. غلامی انسانیت کی ذلت کا نام ہے. غلامی روز روشن میں تاریک شب کا تسلط کا نام ہے. غلامی دوسروں کی خوشی اور ضرورت کے لے اپنی خوشیاں اور ضروریات کو پامال کرنے کی رسم کا نام ہے. آقاؤں کی خوشنودی کےلے اپنی اجتماعی خودکشی کا نام غلامی ہے.
زندہ قومیں آزادی کی خاطر ہر قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرتی ہیں اور اپنی آزادی کی حفاظت کے لے لمحہ برابر غفلت کا مظاہرہ نہیں کرتی.
آزادی گلگت بلتستان کی جنگ دنیا میں لڑی جانے والی عام جنگوں سے منفرد نوعیت کی جنگ تھی. یہ جنگ کسی دوسرے خطے کو قبضہ کرنے کی خاطر نہیں لڑی گئی تھی. بلکہ یہ جنگ اپنے اوپر مسلط ناجائز اور غیر قانونی طریقے سے مسلط ہونے والی حکومت کا خاتمہ اور بیرونی مداخلت کو ختم کرکے ایک آزاد خود مختار ریاست کا قیام تھا.
جب گلگت بلتستان کے مقامی حکمرانوں کے آپس کے اختلاف اور خلفشار کی بدولت ڈوگروں اور سکھوں کو قدم جمانے کا موقع ملا اور انہوں نے مقامی حکمران اور راجاؤں کے اختلافات سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے پورے خطے پر قابض ہو گئے روز اول سے ہی عوام نے سکھوں اور ڈوگروں کہ حکمرانی کو دل سے قبول نہیں کیا وقتاً فوقتاً جنگیں لڑتے رہیے.
گلگت بلتستان چونکہ اپنی قدرتی بناؤٹ کے لحاظ سے بڑے بڑے پہاڑوں کے دامن میں اور دور دراز اور دشوار گزار پہاڑی چوٹیوں کے آغوش مین پھیلا ہوا ہے.
اس وجہ سے ایک تربیت یافتہ منظم اور اسلحہ سے لیس سکھ اور ڈوگرہ فوج کے مقابلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا. لیکن مقامی عوام کے دلوں میں ان کے خلاف نفرت کے آگ کی چنگاری سلگتی رہتی تھی. وہ کسی مناسب وقت اور حالات کے انتظار کے تلاش میں تھے. تاکہ مناسب وقت میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ڈوگروں پر حملہ کر کے ان کے ناجائز قبضے سے اپنے خطے کو آزاد کروا سکیں.
جب کرنل حسن خان جنگ عظیم دوئم کے بعد برما سے لوٹ کر آئے تو کشمیر میں اسٹیٹ آرمی کے اندر تقسیم ہند اور خطے کے متوقع مستقبل کے بارے میں مسلم آفیسر گفتگو کر رہے تھے.

۱۹۴۶ میں سٹیٹ آرمی میں موجود مسلم آفیسر نے ایک خفیہ انقلابی پلان ترتیب دے کر ایک (Revolutionary council) تشکیل دے کر کرنل حسن خان کو اس کونسل کا چیئرمین منتخت کیا. اس انقلابی کونسل کا مقصد یہ تھا کہ اگر مہاراجہ کشمیر انڈیا سے الحاق کرئے گا تو اس کے خلاف بغاوت کیا جائیگا. اور اگر پاکستان کے ساتھ الحاق کرتا ھے تو کوئی اعتراض نہیں ہوگا اور اگر آزاد رہنا چاہئے تو سب سے بہتر ہوگا.
مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ نے انگریز وں کی توقع اور عوامی رائے کے خلاف ورزی کرتے ہوئے انڈیا سے الحاق کیا. اب انگریزوں کے پاس ایک ہی راستہ بچا ہوا تھا کہ وہ کسی بھی صورت گلگت بلتستان کا ۱۴ ہزار مربع میل علاقہ کشمیر سے الگ کر کے پاکستان کے ساتھ ملایا جائے تاکہ روس اور انڈیا کا راستہ کٹ جائے اور روس گرم پانی تک رسائی حاصل نہ کر سکے. دوسری جانب کرنل حسن خان کی قیادت میں گلگت سکاؤٹس اور عمائدین ڈوگروں سے آزادی حاصل کرنے کے لئے منصوبہ تیار کیا تھا. کرنل حسن خان اور اس کے ساتھیوں نے ۳۱ اکتوبر اور یکم نومبر کے درمیانی شب اپنے منصوبے کو عملی جامعہ پہنانے کے لئے تیار بیٹھے تھے . مہاراجہ کے خلاف جنگ لڑنے کی یہ راز جب ۳۰ اکتوبر کو صوبیدار میجر بابر خان کی وساطت سے میجر براؤن پر آشکار ہوگیا تو براؤن کو اپنے مشن آپریشن دتہ خیل کو مکمل کرنے کا موقع ملا. اس موقع کو غنیمت جان کر براؤن نے میجر بابر کے ساتھ دینے کا وعدہ کر لیا. اس طرح ۳۱ اکتوبر کی شب آپریشن شروع ہوا اور یکم نومبر کو گورنرگھنسارہ سنگھ کو گرفتار کر کے ریاست جمہوریہ گلگت کا اعلان کیا گیا.
آزادی کے فوراً بعد میجر براؤن نے سرحد میں موجود انگریز پولیٹکل ایجنٹ بیکن اور عبدالقیوم خان کو ٹیلی گرام کے ذریعے گلگت پہنچنے کی دعوت دی. اس طرح ۱۶ نومبر کو پاکستان کا پولیٹکل ایجنٹ سردار محمد عالم خان گلگت پہنچ گیا اور کرنل حسن خان استور میں محاز جنگ میں مصروف تھے.
انقلابی حکومت ان کی غیر موجودگی میں اپنوں کی نافہمی اور غیر سیاسی بصیرت
اور اغیار کی سازشوں کا شکار بن گئی. عالم خان گلگت کے سفید و سیاہ کے مالک بن گئے عوام کو پاکستان میں شمولیت کا سبز باغ دکھا کر اندھیرے میں رکھا اور دوسری جانب حکومت پاکستان نے کشمیر کے ریفرنڈم کی خاطر گلگت بلتستان کو مقبوضہ رکھا اور اس کا حصہ قرار دیا. گلگت بلتستان کے باسیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کشمیری ڈوگرہ سے لی ہوئی آزادی کو تسلیم بغیر کشمیر حکومت کو گلگت بلتستان کی وارث حکومت سمجھ کر ۲۸ اپریل ۱۹۴۹ کو معائدہ کرلیا. اور دوسری جانب جمہوریہ گلگت کو گلگت ایجنسی میں تبدیل کر کے ایک نائب تحصیلدار کو گلگت بلتستان کے سیاہ و سفید کا مالک بنا دیا گیا. اس طرح ستر سالوں سے دنیا کی اس جنت نظیر خطے کو نوٹیفیکشن کے ذریعے چلاتے آ رہے ہیں.
اس طرح نہ ہم کشمیر کا حصہ رہ سکے اور نہ ہی آئینی طور پر پاکستانی بن سکے اور نہ ہی آزاد ریاست قائم کر سکے.
جب بھی ہر سال یکم نومبر آتا ہے تو آزادی مبارک باد دینے زبان مچک جاتی ہے لیکن جب آنکھیں موجودہ صورتحال کو دیکھتی ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے کہ ہم نے ۷۰ سالوں سے ڈوگروں سے ٹھوکروں تک کا سفر طے کیا ہے.
۷۰ سال قوموں کی زندگی کا ایک بڑا عرصہ ہوتا اگر ہم اپنے اس تاریخی عرصے پر نظر ڈالیں اور اپنا موازنہ دوسری اقوام سے کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بقول شاعر…
سلب آزادیاں ہیں اور میں ہوں
یہی سچائیاں ہیں اور میں ہوں
میری دھرتی کے ہر اک خشک تر پر
تری من مانیاں ہیں اور میں ہوں
۷۰ سال سے حاصل کچھ نہیں ہے
فقط محرمیاں ہیں اور میں ہوں

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc