ایفاد پراجیکٹ اور کھرمنگ۔ تحریر: ذوالفقار علی کھرمنگی

قدرتی حسن سے مالا مال گلگت بلتستان کی سر زمین عالمی سیاحت کے ماتھے کا جومر بنتے جا رہے.ویسے تو خطے کی تمام وادیاں اپنی قدرتی حسین نظاروں دلکش آبشاروں اور میٹھے و ٹھنڈے جھیلوں کی وجہ سے بہت مشہور ہے.اسی طرح ان علاقوں میں پائے جانے والے پھلوں اور میووں کو بھی پاکستان بھر میں نہیایت شوق سے کھایا جاتا ہے.ویسے تو پورا خطہ پسماندگی اور غربت کی آخری حد میں ہے.لیکن ان تمام وادیوں میں سے بھی ایک اور وادی ‘ وادی کھرمنگ انتہائی حد تک پسماندہ یے.اس کی ایک بڑی وجہ حکومتی سطح پر عدم توجہی کے ساتھ ساتھ اس علاقے کی جغرافیائی حالات ہے.علاقے کی زیادہ تر رقبہ میدانی نہ ہونے کی وجہ سے قابل کاشت رقبہ بہت کم ہے.کیونکہ بنجر زمینوں کو آباد کرنے کے حوالے سے کیے جانے والے منصوبے عوام کی معاشی دسترس سے دور ہے تو دوسری طرف حکومت نے کھبی بھی اس اہم معمولے پر نظر رکھنے کی زحمت بھی نہیں کی ہے.خدا خدا کر کے ایفاد پراجیکٹ کے نام سے حکومتی سرپرستی میں ایک امید کی روشن صبح نظر آ رہی تھی.لیکن اس پراجیکٹ کو صرف اور صرف کچھ ضلعوں تک محدود کر کے حکومت اور ایفاد این جی اوز نے اس کی افادیت کم کی ہے.حالانکہ اس کی ضرورت کھرمنگ جیسے پسماندہ اور مشکل پہاڑی علاقوں کے باسیوں کے لیے تھے.جن کے عوام بغیر کسی بڑے پراجیکٹ کے اپنی مدد آپ کے تحت مشکل راستوں سے نہیریں نہیں بنا سکتی..کھرمنگ ضلع کے اکثریتی رقبہ قابل کاشت ہوتے ہوئے بھی بنجر ہے اس کی بڑی وجہ نہری نظام آبپاشی کا ناقص ہوناہے چونکہ علاقے کی نہری نظام کا دارومدار مشکل راستوں پر مشتمل ہے اور غریب عوام اپنے بل بوتے پر نئے نہریں نہیں بنا سکتی.اور نہ ہی کسی بھی دور حکومت میں اس پر توجہ دیا گیا ہے.اب ایفاد پراجیکٹ جس سے تھوڑی امید تھی اس کا رخ بھی اس علاقے سے شاید موڑ دیا گیا ہے حالانکہ زمینی حقائق کا مطالعہ کریں تو واضح ہو جائے گا کہ اس پراجیکٹ کی ضرورت کس علاقے کو ہے.عوامی مطالبعہ زور پکڑتا جا رہا ہے کہ وہ اس پراجیکٹ کھرمنگ ضلع تک وسیع کریں تاکہ ایفاد اور وزیر اعلی کا سرسبز و خود مختار گلگت بلتستان خواب کی تعبیر ہو سکے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc