انسانی معاشرے کا عزم. تحریر: ذوالفقار علی کھرمنگی

ترقی کامیابی کا پہلا زینہ ہے جوں جوں ترقی ہوتا جائے گا کامیابیاں ملتی جائے گی اور یہ نہ رکنے والا سفر بھی روانی وآب وتاب کے ساتھ اپنی منزل بناتی جائے گی.لیکن یی ترقی و کامیابی کس شے کا نام ہے اس کی اصل منزل کیا ہے یہ سمجھ کے سفر طے کرنا کافی مشکل ہوتی جا رہی ہے.عام طور پر انسان اپنی کامیابی پر اس قدر مسرت و شاداب دکھائی نہیں دیتا کیا اس کی کوئی وجہ ہو سکتی ہے.بلکل وجہ صاف اور دلیل ہر انسان کی یہی ہوتی ہے کہ اس کامیابی کا جوڑ اس کے معاشرے کے عین مطابق نہیں ہوتی.میرے کہنا کا مقصد تعلیم یافتہ معاشرے کے آج کا عکس پیش کرناہے .بڑی حیرت میں مبتلا ہوں آج معاشرہ انتہائی اخلاقی.معاشرتی اور سماجی طور پر انحطاط کا شکار ہے.اس کے مقابلے میں ماضی قریب کا معاشرہ ان تمام معمولات میں مضبوط دکھائی دیتا ہے.وجہ کچھ بھی ہو ایک بات جو ہم سب پرحقیقت کی طرح عیاں ہے کہ آج کا معاشرہ پہلے والے معاشرے کی نسبت تعلیم یافتہ افراد سے بھرے ہوئے ہیں.اف ہیہاں پر میں دوش تعلیم کو دے رہا ہوں نہیں بھائی خدا نہ کریں الزام تعلیم پر لگ جائے تعلیم ہی تو تربیت فراہم کرنا کا پہلی سیڑھی ہے بلکہ یوں کہے پوری سیڑھی و عمارت ہے.تو کیا معلم زمہ دار تو نہیں .یہ کہنا بھی بےجا ہو گا کیونکہ معلم کا کام ہی اخلاقیات .درس و تدریس اورتربیت فراہم کرنا ہوتا ہے.تو اس کا زمہ دار کون ہو سکتا ہے.زمہ دار وہی ہوتا ہے جن پر فرض ہو.اور وہ انسان کی تربیت کا پہلا و مضبوط ادارہ خاندان ہے.اور معاشرے میں انسان کا خاندان ویسے ہی ہو گا جیسے ان کے معاشرے کے افراد ہونگے.اگر ہمارا معاشرہ تعلیم کو محض کمائی کی مشین سمجھے گے تو فرد اس جانب رخ کریں گا جس کی تربیت نہ اس کے سبق میں ہوتا ہے نہ اس کی سوچ کے عین مطابق.اسی لیئے کس بھی انسان کو جب اس طرح کی کامیابی ملتی بھی ہے تو وہ پرسکون زندگی نہیں گزارتا.کیونکہ اصل پر سکون زندگی تو دوسروں کی خدمت میں ہوتا ہے اور یہ ہرانسان کو خدا طرف سے قدرتی طور پر عطا کیا ہوا ہوتا ہے.لیکن روح اور نفس کی اس معمولے میں شدید جنگ ہوتی ہے اور جب ان دونوں کا ٹکر ہو جاتا ہے تو جیت نفس کی ہوتی ہے کیونکہ نفس کے غذا کا طرفدار پورا معاشرہ بن جاتا ہے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc