انصاف پر مبنی قانون اور پاکستان۔ تحریر : محمد حسن جمالی

انسان فطری طور پر مدنی الطبع ہے۔ اجتماعی زندگی قانون کا محتاج ہے -کسی بهی ملک کی ترقی کے لئے انصاف پر مبنی قانون ناگزیر ہے۔ قانون اجتماعی زندگی کی حیات ہے – جس کے بغیر انسان کی اجتماعی زندگی کا تصور لغو ہے – دنیا کے تمام انسانی معاشروں میں کسی نہ کسی صورت میں قانون ضرور ہے، چونکہ قانون اجتماعی زندگی کی جان ہے – قانون نہ ہو تو اجتماعی زندگی درہم برہم ہوکر رہ جاتی ہے – غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آج کے معاشرہ انسانی میں دو طرح کے قانون حاکم ہیں – “انصاف پر مبنی قانون” ظلم پر مبنی قانون” – ایک دو کے علاوہ دنیا کے ملکوں میں ظلم پر مبنی قانون حکمرانی کررہا ہے، جن میں سر فہرست پاکستان کا نام آتا ہے۔یہ ملک اگرچہ اسلام کے نام پر بنا – اس کے بنانے والوں کی نیت پاک اور صاف تهی- انہوں نے اخلاص سے اس کی بنیاد رکهی۔ انہوں نے ناانصافی کے دلدل سے مسلمانوں کو نکال باہر کیا – ہندو ریاست کے ظلم پر مبنی قانون سے مسلمانوں کو نجات دلائی۔ پاکستان کی شکل میں اسلامی ریاست بنا کر مسلمانوں کو عزت اور سربلندی سے مالامال کیا – پاکستان اتفاق سے وجود میں نہیں آیا۔ اس کے حصول کے لئے بڑی قربانیاں دی ہیں – قائد اعظم اور علامہ اقبال نے پاکستان کو وجود بخشنے کے لئے اپنی پوری توانیاں خرچ کی ہیں۔ بانی پاکستان اور مفکر پاکستان کا خواب مسلمانوں کے لئے ایک ایسی آزاد مملکت کا قیام تھا جو خود مختار ہو، جہاں حقیقی جمہوری نظام قائم ہو۔ معاشی, تعلیمی و.. مساوات، اقلیتی گروہ کے حقوق کا تحفظ، انصاف پر مبنی قانون کا احترام اور اَمانت صداقت شرافت جیسی صفات اس ملک کی پہچان ہوں – اس مملکت میں اقتدار اور منصب کے لئے افراد کو تعلیمی قابلیت اور صلاحیت کی بنیاد پر چناو کریں۔ جس میں امیر وغریب کی تفریق کا خاتمہ ہو ، جس کے ایوان بالا کے کرسی نشین عوام سے زیادہ احساس ذمہ داری کرنے والے ہوں۔ اس ممکت کے حکمران تعلیمی اور سیاسی مہارت رکهنے کے ساتهہ اس ملک کے خیر وشر اور نفع ونقصان کو ادراک کرنے کی صلاحیت کے حامل بهی ہوں و….چنانچہ ان کی انتهک کوششوں کے نتیجے میں پاکستان معرض وجود میں آیا – اس ملک میں انصاف پر مبنی قانون کا نفاذ ان کی دلی تمنا اور آرزو تهی – وہ جانتے تهے کہ انصاف پر مبنی قانون کے اجرا سے پہلے اس صفت کا حامل قانون وضع کرنا ضروری ہے – وہ اس بات سے بهی واقف تهے کہ ایسا قانون بنانا ہم جیسے انسانوں کے بس میں نہیں، اس کے لئے اللہ کی کتاب سے ہی رہنمائی لینا ضروری ہے – چنانچہ قائد اعظم رح نے اسلامی دستور کے مطابق آئین اور قانون بنایا – انصاف پر مبنی قانون قرآنی تعلیمات سے اخذ کرکے پاکستان کا دستوری ڈهانچہ تشکیل دیا -وہ کتاب خدا کو ہی دستور زندگی سمجهتے تهے۔ قرآنی احکامات سے ٹکراو قانون کو وہ لاقانونیت کا مترادف تصور کرتے تهے ۔ ان کی نظر میں صحیح قانون وہی ہے جو اللہ کی کتاب اور نبی کے فرمان سے موافق ہو۔ چنانچہ مختلف مواقع اور مقامات پر آپ نے اس حقیقت کا اظہار کیا – جون 1938 مسلم لیگ کا جھنڈا نبی اکرمؐ کا جھنڈا ہے 22 نومبر 1938 اسلام کا قانون دنیا کا بہترین قانون ہے- 7اگست 1938 میں اول وآخر مسلمان ہوں – 14نومبر 1949انسان خلیفۃ اللہ ہے۔ ٹائمز آف لندن 9 مارچ 1940ہندو اور مسلمان دو جداگانہ قومیں ہیں – 22 مارچ 1940میرا پیغام قرآن ہے – نعیم قاسم صاحب لکهتے ہیں : ( ایک اندازے کے مطابق قائد نے 1940ء سے لیکر 1947ء کے درمیانی عرصے میں ایسی نوے اہم تقاریر کیں جس میں انہوں نے مسلم عوام کو یقین دلایا کہ جو پاکستان وجود میں آ رہا ہے وہ اسلامی ہو گا مثلاً قائد فرماتے ہیں: ’’پاکستان کا مطلب محض آزادی اور استقلال نہیں، اسکا مطلب مسلم نظریہ ہے جسے ہم نے بچانا ہے جو ہم تک ایک بیش قیمت ہدیے اور خزانے کے طور پر منتقل ہوا اور جس کے متعلق ہمیں امید ہے کہ دوسرے بھی ہمارے ساتھ اس سے مستفید ہونگے‘‘۔ اسی طرح دستور ساز اسمبلی کی نوعیت واضح کرتے ہوئے قائد کہتے ہیں:’’مجلس دستوریہ مسلمانوں کیلئے ایسی قانون سازی کر سکے گی جو شرعی قوانین سے متصادم نہیں ہو گی۔ مسلمان اب مزید مجبور نہیں ہونگے کہ غیر اسلامی قوانین کا اتباع کریں۔‘‘قائد اعظم کی ذاتی زندگی بھی اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ وہ ایک سچے اور اعتدال پسند مسلمان تھے۔ انہوں نے رتی سے شادی کیلئے یہ شرط رکھی کہ وہ اسلام قبول کرے۔ قائد اعظم نے اپنی اکلوتی بیٹی سے اس لیے قطع تعلق کر لیا کہ اس نے غیر مسلم سے شادی کر لی تھی) لیکن بانی پاکستان کی رحلت کے بعد قرآن پر کمزور ایمان یا ایمان نہ رکهنے والے افراد اس ملک پر قابض ہوئے – جن میں جان ہتیهلی پر رکھ کر خون پسینہ ایک کرکے پاکستان کو بنانے والوں کی خوبیاں یکسر طور پر مفقود تهیں – جن میں نہ ان کی طرح کا علم تها نہ فکر – نہ ان کی طرح کی قابلیت وصلاحیت تهی اور نہ بصیرت ودور اندیشی – وہ نہ ان کی مانند مسولیت پزیر تهے اور نہ باشعور – چنانچہ انہوں نے اس ملک پر قابض ہوتے ہی اس میں اسلامی قانون کی جگہ سرمایہ دارانہ قانون اجرا کردیا – ملک کا پورا نظام مادیات کی بنیاد پر تشکیل دیا – انصاف پر مبنی قانون کی جگہ ظلم پر مبنی قانون کو رواج دیا – کتاب خدا کے متضاد ومنافی من گهڑت تصورات وتوہمات کو قانونی درجہ دیا گیا – یوں آہستہ آہستہ پاکستان کے نظام اور قانون کو انصاف کے دائرے سے خارج کردیا گیا اور پاکستان کو خود ساختہ ناانصافی اور ظلم پر مشتمل قوانین کے خول میں بند کردیا گیا ۔ یہ ظالمانہ قانون اب تناور درخت کی شکل اختیار کرچکا ہے – جس کی شاخوں اور پتوں کے زیر سایہ پاکستانی عوام زندگی گزارنے پر مجبور ہیں – اس درخت کی ہر شاخ پہ الو بیٹها ہوا ہے – بقول شاعر ہر شاخ پہ الو بیٹها ہے انجام گلستان کیا ہوگا – مجهے یہ جملہ لکهنے میں کوئی باک نہیں کہ آج پاکستان میں جنگل کا قانون راج کررہا ہے، جس میں انصاف کی بو تک نہیں پائی جاتی- جس طرح جنگل میں طاقتور شیر ہمیشہ کمزور جانوروں کی تلاش میں رہتا ہے، وہ جب بهی ملے جہاں سے ملے شیر ان پر حملہ کرکے انہیں چیر پهاڑ کر کهالیتے ہیں – شیر جنگل کا بادشاہ ہوتا ہے وہ دوسروں کو اپنی خوراک سمجهتے ہیں ٹهیک ویسے ہی آج وطن عزیز پاکستان کے حکمرانوں کی صورتحال ہے – وہ اس ملک کو جنگل اور اپنے آپ کو اس جنگل کا بادشاہ سمجهہ بیٹهے ہیں – وہ جنگلی شیر کی طرح ہمیشہ غریبوں پر حملہ آور ہوتے رہتے ہیں اور عوام کو ڈرا دہمکا کر خوفزدہ کرکے ان پر اپنی بادشاہت کا رعب جمانے کی فکر میں لگے ہوئے ہیں – اپنے مفادات کے خلاف جہاں سے بهی آواز اٹهے وہ ریاستی طاقت استعمال کرکے اسے دبانے کی کوشش کرتے ہیں , جس کی حالیہ مثال پاکستان کی اہم سیاسی و مذہبی جماعت مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل اور معروف قانون دان سید ناصر شیرازی کا اغواء کرنا ہے – ابهی تک ان کے اغواء کرنے والوں اور ان کے سہولت کاروں کا کوئی علم نہیں ہو سکا جو ملکی اداروں کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے – اس کے علاوہ پاکستان میں حکمرانوں کے اشارے پر عمل کرتے ہوئے حکومتی کارندوں نے بہت سارے افراد کو غائب کررکها ہے – ملک کی جگہ جگہ حکمرانوں کے اس قبیح اور انسانیت کے منافی اقدامات کے خلاف لوگوں نے احتجاج کیا، ریلیاں نکالیں، تضاہرات کئے اور ان لاپتہ افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا، مگر حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی – وہ ٹس مس نہیں ہورہے ہیں اور ابهی تک یہ مسئلہ اپنی جگہ معمہ بنا ہوا ہے – یہ حکمرانوں کی انتہائی بے حسی کی نشاندہی کراتا ہے – ان کی بے حسی یہ بتاتی ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو عوامی مسائل اور مشکلات کوئی اہمیت نہیں رکهتی، جو چیز ان کے لئے اہم ہے وہ صرف اپنے مفادات ہیں – اس سے یہ بات سمجهنے میں بهی دیر نہیں لگتی کہ ہمارے حکمران اغیار کے غلام ہیں – جن کے اشارے اور حکم سے وہ سر مو اختلاف نہیں کرسکتے۔ ہر باشعور انسان جانتا ہے کہ پاکستان کی سرزمین سے افراد کو لاپتہ کرانے کا سلسلہ بهی اغیار کے اشارے سے ہی چل پڑا ہے، جس کا ہدف شہریوں کو ہراساں کرکے پاکستانی عوام کو یہ پیغام دینا ہے کہ وہ اس ملک میں حکمرانوں کے سامنے بے بس ہیں – حکمرانوں کے خلاف آواز بلند کرنا جرم ہے – ریاستی امور میں مداخلت کرنے کا کسی کو کوئی حق نہیں – جس شخص یا جماعت نے حکمرانوں کے کرتوت یا کردار پر انگلی اٹهائی اس کا ٹهکانہ جیل ہوگا ۔مگر یہ حکمرانوں کی سخت بهول ہے ، انہیں متوجہ ہونا چاہیے کہ معاملہ اس کا برعکس ہے، کسی ملک میں عوامی طاقت کو ہی اصالت حاصل ہوتی ہے۔عوامی طاقت کے سامنے حکمرانوں کی طاقت ہیچ وپوچ ہے – انہیں اس حقیقت سے مطلع ہونا چاہیے کہ وہ اگر آج منصب اعلی پر براجمان ہیں تو عوام کے ووٹ سے ہیں – جن کے ووٹ سے تمہیں اقتدار نصیب ہوا ہے وہی عوام تمہاری حکمرانی کا تختہ الٹ بهی سکتے ہیں – عوام نے لاپتہ افراد کے سنگین مسئلے پر بہت صبر کیا ہے- حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ مزید عوام کے صبر کا امتحان نہ لیں – اگر حکمران اپنی بقا چاہتے ہیں تو وہ فوری طور پر لاپتہ افراد کو عدالت میں لائیں اور عدالت کے قانون کے مطابق ان پر احکامات جاری کروائیں – ایڈوکیٹ شیرازی صاحب کو رہا کرکے انہیں اغوا کرنے والوں کو عوام کے سامنے پیش کریں، نیز اغوا کرنے والے افراد سمیت ان کے سہولت کاروں کو قانون کے مطابق سزا دلوانے میں دیر نہ کریں تاکہ آئندہ اس طرح محب شہری کو جبری گم کرنے یا کرانے کی کوئی جرات نہ سکے ،در نتیجہ وطن عزیز کے باشندے سکون سے رہتے ہوئے ملکی ترقی میں کردار ادا کرسکیں – یہ طے ہے جب تک حکمران پاکستان میں انصاف پر مبنی قانون کے نفاذ کو یقینی نہیں بنائیں گے ملک کی ترقی خواب بن کر رہے گی اور قوم تنزلی وپستی کا شکار رہے گی – پوری قوم کو اس مسئلے پر توجہ کرنی چاہیے – اسے مسلک اور فرقے سے جوڑ کر خاموش نہ رہے ، یہ خالص انسانیت کا مسئلہ ہے- بے چارے عوام کی مظلومیت کا مسئلہ ہے – پس ضروری ہے کہ ہر انصاف پسند انسان حکمرانوں کے اس غلط اقدام کو غلط کہے – ریاستی طاقت کے بل بوتے پر جبری لاپتہ کئے ہوئے افراد کی بازیابی کے لئے آواز اٹهائے، چونکہ انسانیت کا تقاضا یہ ہے کہ ظالم سے نفرت اور مظلوم کی حمایت کریں۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc