وزیر اعلیٰ جھوٹ بول رہے ہیں سی پیک میں جی بی کیلئے ایک روپے کی سکیم نہیں رکھی ہے، ہمیں اقوام متحدہ کے قراردادوں کے مطابق بنیادی حقوق نہیں دئیے گئے، ہمیں جموں کشمیر یا آزاد کشمیر طرف کا سیٹ اپ دیکر جی بی کے عوام کو مطمئن کیا جائے ۔استور سپریم کونسل

گلگت ( ارسلان علی ) 60سالوں سے ایک بے نامی معاہدے کے تحت ہم پر حکمرانی کی جا رہی ہے ، گلگت بلتستان جموں کشمیر کا ایک متنازعہ حصہ ہے ، 1947میں کشمیر کو صدارتی نظام اور ہمیں تحصیلداری نظام دیا گیا ۔ 1949کے کراچی معاہدے میں گلگت بلتستان اور کشمیری قیادت کا دستخط موجود نہیں ہے ایک قرار داد سے پاکستان بن سکتا ہے تو جی بی اسمبلی نے پاکستان کا صوبہ بنانے کیلئے کئی قراردادیں پاس کی ہیں ، جی بی پاکستان کا صوبہ کیوں نہیں بن سکتا ، پاکستان حکمران جی بی کے عوام کو بلوچی بنانا چاہتے ہیں سی پیک میں جی بی کیلئے ایک روپے کی سکیم نہیں رکھی گئی ہے ۔ ہم ستر سالوں سے ایک قوم نہیں بن سکے اگر وقت کی حساسیت کاادراک نہیں کیا گیا تو جی بی مستقبل میں عالمی قووتوں کا اکھاڑ بن جائیگا ۔ حقوق کیلئے ایک قوم بننتا ہوگا ، تقسیم ہند دو قومی نظریے پر ہوا تھا ان خیالات کا اظہار استور سپریم کونسل کے زیر اہتمام ’’ ستر سالہ آزادی استور بشمول گلگت بلتستا ن کی محرومیاں ‘‘ کے عنوان سے مقامی ہوٹل میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جسٹس (ر) سید جعفر شاہ نے کہا کہ 1949میں کراچی معاہدے پر کشمیری قیادت اور جی بی کے قیادت کے دستخط موجودنہیں ہیں ۔ 1947میں کشمیر کو صدارتی نظام اور ہمیں تحصیلداری نظام دیا گیا گلگت کو ایک تحصیلدار کے حوالے کیا گیا تمام غلطیاں پاکستانی حکمرانوں کی ہیں جسکا خمیازہ وہ بھگتیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا آئینی صوبہ بنانے کیلئے جی بی اسمبلی نے کئی قرادادیں پاس کی ہیں لیکن کوئی عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک قرار داد سے پاکستان بن سکتا ہے تو جی بی آئینی صوبہ کیوں نہیں ۔ ہمیں حقوق کیوں نہیں دئیے جاتے سی پیک میں ہمیں کچھ نہیں دیا گیا ، پاکستانی حکمران ہمیں بلوچی بنانا چاہتے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ جھوٹ بول رہے ہیں سی پیک میں جی بی کیلئے ایک روپے کی سکیم نہیں رکھی ہے ۔ مجھے احسن اقبال نے خود کہا انہو نے کہا کہ گلگت بلتستان کو متنازعہ بنانے کی جو دستاویزات مرتب ہوئے ہیں وہ جعلی ہیں کیونکہ کشمیری قیادت کی ان دستاویزات سے انکاری ہے ہمیں جموں کشمیر یا آزاد کشمیر طرف کا سیٹ اپ دیکر جی بی کے عوام کو مطمئن کیا جائے جو نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ اسکا وفاقی حکومت ذمہ داری ہوگی ، کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے استور سپریم کونسل کے کنوینئیر ڈاکٹر عباس نے کہا کہ تقسیم ہند دو قومی نظریے پر ہوا تھا ، اسٹیٹ آف کشمیر تقسیم ہند کے فارمولے میں شامل نہیں تھا پاکستانی حکمرانوں نے ہماری غفلت سے ناجائز فائدہ اٹھا کر ہمیں حقوق سے محروم رکھا ، ہمیں لولی پاپ دئیے گئے ہمیں اقوام متحدہ کے قراردادوں کے مطابق بنیادی حقوق نہیں دئیے گئے ، ساٹھ سالوں سے ایک بے نامی معاہدے کے تحت ہم پر حکمرانی کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے فیصے تک ہمیں وہ حقوق دئیے جائیں جو سٹیٹ آف کشمیر کے ایک آرگن کو دئے گئے ہیں۔ اس موقع پر معروف شاعر سابق نگران وزیر اطلاعات عنایت اللہ شمالی نے کہا کہ ستر سالوں سے ہم ایک قومی نہیں بن سکے اگر وقت کی حساسیت کا اداراک نہیں کرینگے تو جی بی مستقبل میں عالمی قوتوں کا اکھاڑ بنے گا ، اس موقع پر پیپلز پارٹٰ کے صوبائی جنرل سیکریٹری انجینئر اسماعیل نے کہا کہ ہمارا جینا مرنا پاکستان کیلئے ہے ، گورننس آرڈر 2009میں پیپلز پارٹی نے وہ تمام اختیارات گلگت بلتستان منتقل کئے وہ تمام اختیرات جو دیگر صوبوں کے وزراء اعلیٰ کے پاس ہیں وہ جی بی کے وزیر اعلیٰ اور وزراء کے پاس بھی ہیں یہ الگ بات ہے کہ پیپلز پارٹی نے وہ اختیارات ایکسرسائز نہیں کئے قومی اسمبلیا ور سینیٹ میں نمائندہ دلانا پیپلز پارٹٰ کے منشور کا حصہ ہے ۔ 1988سے 2012تک فرقہ واریت کراکر ہمیں حقوق سے محروم رکھا گیا ۔ 2012تک ہمیں آئینی حقوق کے حصول کیلئے کام کرنا نہیں دیا گیا ۔ علاقے میں فرقہ واریت پھیلائی گئیاب الحمد اللہ علاقے میں امن ہے اگر ٹیکس سابق کونسل نے لگایا ہے کہ موجودہ کونسل کے پاس اختیارات ہے وہ ختم کر سکتا ہے ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اسلامی تحریک کے رکن اسمبلی چےئرمین قائمہ کمیٹی ہیلتھ کیپٹن (ر) محمد شفیع خان نے کہا کہ ہم آپس میں قومیتوں میں بٹے ہوئے ہیں ہم شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بنے ہوئے ہیں بلوچستان والے حقوق کیلئے لڑ رہے ہیں اسلئے وفاقی حکمرانوں کے ذہنوں پر سوار ہیں ، اسلئے وہ جی بی والوں کو بھی بلوچی سمجھتے ہیں ، ہماری خلوص و محبت کا جواب محرومیوں سے دیا گیا ۔ اسلامی تحریک کا ممبر ہوتے ہوئے بھی مجھے پارٹی کے موقف سے اختلاف ہے ۔ حقوق کیلئے ہمیں ایک قوم بننا ہوگا ۔ موجودہ سیٹ اپ غریبوں کیلئے عذاب بنا ہوا ہے اسے فوری طور پر رول بیک کیا جائے ۔ اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم کے رکن اسمبلی ڈاکٹر رضوان علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے مرکزی وائس چےئرمین شکور عابد نے کہا آزادی اور حقوق کیلئے جدوجہد کرنا ہوتا ہے ۔ حکمرانوں کی پالیسیوں سے نوجوانوں میں مایوسیاں پھیل رہی ہیں ۔ یہ مایوسی کل کوئی اور شکل بھی اختیار کر سکتی ہے ، کشمیریوں کو رائے شماری کا حق دیا جائے اس موقع پر تحریک انصاف کے سابق صوبائی کنوےئیر حشمت اللہ خان نے کہا کہ حقوق کے حصول کیلئے ہمیں ایک قوم بننت اہوگا ۔ پاکستان کے مشکلات کو سامنے رکتے ہوئے ہمیں حقوق کا مطالبہ کرنا ہوگا اگر آپ کو کو حقوق نہیں مل رہے ہیں تو حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوجائے پاکستان کے خلاف نہیں ۔ اس موقع پر سابق امیدوار قانون ساز اسمبلی استور حلقہ ایک بیرسٹر خورشید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جی بی کے عوام کا منزل پاکستان ہے ۔ جی بی کے عوام آزاد قوم ہے اور رہیں گے جسکی وجہ سے جی بی آزادی کی کوئی تحریک نہیں ہے ۔ جموں کشمیر کے عوام آزادی کی تحریک چلا رہے ہیں جو لاکھوں شہید اکی قربانیاں اور پچیس ہزار خواتین کی عزتیں لوٹی گئی ہیں جی بی میں آئینی حقوق کا معاملہ ہے جسکے لئے پاکستان کے قانون کے مطابق جدوجہد کرنا ہوگا ۔ اس موقع پر حنیف الرحمن مقدم نے کہا کہ جی بی میں آئینی سیاسی اور معاشی محرومیاں ہیں جی بی کو 1999میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے مطابق آزاد عدلیہ اور بنیادی حقوق فراہم کئے جائیں اسکے لئے پورے ملک میں 14نومبر کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں جی بی کے حقوق کے حوالے سے مقرر پیشی سے قبل پریس کانفرنسز اور وکلاء تحریک آگے بڑھانا ہوگا تاکہ جی بی میں موجود جوڈیشلی غیر قانونی طور پر جو فیصلے ہو رہے ہیں اسکو روکا جا سکے ۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے چےئرمین مولانا سلطان رئیس نے کہا کہ گلگت بلتستان میں قومی قیادت کا فقدان ہے ۔ ہم شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بن کر اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارتے ہیں جو حضوری ترک کرکے قومی مفاد کیلئے ہمیں ایک ہونا ہوگا ۔ اس موقع پر بلور ریسرچ فاؤنڈیشن کے چےئرمین سلطان محمد نے کہا کہ خطے کے عوام کو حق حکمرانی سے محروم رکھا گیا ہے ۔ خطے کے وسائل پر ان کا کنٹرول نہیں آزاد عدلیہ نہیں ہے ۔ خطے کے بین الاقوامی پوزیشن کی وجہ سے حقوق سے محروم ہیں ۔ زمین خان نے کہا کہ سی پیک کیلئے پانچ سو ستر کلو میٹر علاقہ جی بی کا اسعمال ہو رہا ہے لیکن ہمیں سی پیک میں حق سے محروم رکھا گیا ہے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc