قدیم بلتی تہذیب ہماری پہچان!! تحریر : سید حسین

دنیا کی ہر مھذب قوم کے نزدیک مہمان کی عزت واکرام کرنا خود اس کی اپنی عزت اور اس کی ذلت وتوہین خود اپنی ذلت وتوہین کے مترادف سمجھی جاتی ہے، مہمان اپنے ساتھ خیر وبرکت لےکر آتاہے ،اسلام بھی مہمان کی عزت وتکریم کرنے کا درس دیتا ہے ، روایات کے مطابق مہمان کا اکرام ایمان کی علامت قرار دیا گیا ہے ،ممکن ہے آپ کا اُس بندے  کے ساتھ جو آپ کے گھر آیا ہے  سماجی ، سیاسی ، نظریاتی  وفکری ہم آہنگی نہ ہو مگر جب وہ تیرے گھر آیا ہے تو وہ آپ کا مہمان ہے لہذا اس کا بھر پور انداز میں خیرمقدم کرنااور اس کی خدمت کرنا آپ کا فرض ہے۔ اقوام عالم میں مہمان نوازی کے مختلف طور وطریقے ہیں ، ہر معاشرہ اپنے اپنے انداز میں مہمان داری کرتے ہیں ، بلتی ثقافت میں بھی مہمان نوازی ، اخلاق ،محبت اور ہمدردی انتہائی اہمیت کے حامل ہے۔بلتی قوم مہمان کی عزت اور خدمت پر فخر محسوس کرتی ہے اور ان کی خدمت میں ہمہ تن پیش پیش رہتی ہے۔قدرتی حسن سے مالامال یہ خطہ سال کے تقریباً چھ مہینے دینا بھر کے سیاحوں سے بھرا رہتاہے ، یہاں کے لوگ ہر آنے والے سیاح کو فراخ دلی سے خوش آمدید کہتے ہیں اور ان کی ہر ممکن تعاون کو اپنامعاشرتی  اور دینی فریضہ سمجھ کر انجام دیتے ہیں۔ ہاں البتہ کچھ سازشی عناصر یہاں کی تہذیب اور ثقافت کو بدنام کرنے کی مذموم کوششیں کرتے رہتے ہیں اوربعض اوقات وہ اپنے ان مذموم مقاصد میں کامیاب بھی ہوجاتے ہیں۔حال ہی میں ۲۵ اکتوبر کو مملکت عزیز کے وزیر اعظم جناب شاہد خاقان عباسی صاحب نے اس خطے کا دورہ کیا۔ ان کے اس دورے کی شیڈول میں جگلوٹ سکردو روڈ کی سنگ بنیادرکھنا اور  بلتستان یونیورسٹی کی سنگ بنیاد رکھنا سمیت مختلف دیگر سرگرمیاں شامل تھیں۔ان میں سے ایک سکردو میں عوامی جلسے سے خطاب کرنا بھی شامل تھا۔مگر کچھ نامعلوم وجوہات کی بناپر جناب وزیر اعظم صاحب کو عوامی جلسے سے خطاب کاموقع نہ مل سکا۔ اس سے محترم وزیر اعظم اور علاقے کی اعلیٰ تہذیب دونوں کی سبکی ہوئی۔اس واقعے پر سیاسی اور سماجی رہنماوں نے بھی شدید غم وغصے کو اظہار کیا،  بلتستان  کی تاریخ ایک مہذب ، پرامن اور مہمان نوازی سے رقم ہے اس واقعے نے علاقے کی اس قدیم اقدار کو کافی نقصان پہنچایا، بلتستان کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جس میں کسی بھی سربراہ مملکت کوجلسہ گاہ سے دور رکھا گیا اورباربار اصرار کے  باوجودطے شدہ شیڈول کے مطابق ہونے والے عوامی جلسے سے خطاب کرنے نہیں دیاگیا، اس طرح قدیم بلتی تھذیب اور ثقافت پر ڈاکہ ڈالا گیا۔پاکستان بننے  سےلے کر اب تک جتنے بھی سربراہان مملکت وحکومت نے اس علاقے کا دورہ کیا ہے ہر ایک کا پرتباک استقبال کیاگیا ہے، یہ بلتی قوم کا اعلیٰ ظرفی اور مہمان نوازی کا بیّن اور واضح دلیل ہے کہ وہ ہر آنے والے مہمان کا بلاتفریق استقبال کرتے ہیں اور ان کی خوب خاطر مدارات کرتے ہیں،  چاہے سیاسی اور نظریاتی لحاظ سے اس کے ساتھ اختلاف ہی کیوں نہ ہو۔ حالیہ ناخوشگوار واقعے کے پیچھے  کچھ عوامل نظر آتے ہیں۔ ان عوامل  میں سے ایک یہاں کے مقامی سیاسی نمائندوں کی  سادگی اور عوامی سطح پرمظبوط  رابطے کا نہ ہوناہے، اگر سیاسی نمائندے بھر وقت انتظام کرلیتے اور عوام کے ساتھ رابطے میں رہتے تو جلسے میں کافی تعدادمیں لوگوں کی شرکت ہوجانی تھی،  چونکہ صرف ضلع سکردو سے ہیحکمران جماعت دوتہائی اکثریت سے جیتی ہوئی ہے ،اگر مقامی نمائندے معینہ تاریخ تک گلگت اور اسلام آباد میں بیٹھے رہنے کے بجائے  اپنے اپنے حلقوں کا ایک دفعہ پیشگی دورہ کرلیتے کافی تعدادمیں عوام جلسے میں شریک ہوتی۔دوسرا یہ کہ جلسہ گاہ اور معزز مہمانوں کے قیام کی جگہ اتنے زیادہ فاصلہ پر نہ رکھے جاتے تو کافی ٹائم بچ جاتااورجناب  وزیر اعظم کو عوامی جلسے سے خطاب کرنے سمیت مختلف سیاسی، سماجی  اور مذھبی رہنماؤں سے ملاقات کا وقت مل جاتا، حوطو کالج اور ممکنہ جلسہ گاہ کےدرمیان کافی مسافت ہے  جس کی وجہ سے سازشی عناصر کو موقع ملا اور وزیر اعظم صاحب کو یہ جواب دیتا رہا جلسہ گاہ کافی دور ہے ۔تیسرا اور اہم نکتہ یہ ہے کچھ غیر مقامی سازشی عناصر کو بلتستان کی قدیم تہذیب وتمدن اور یہاں کی ثقافت و مہمان نوازی ہضم نہیں ہوتی  انہوں نے بلتستان کی اس عظیم پہچان کو بدنام کرنے اور آنے والے مہمانوں کو علاقے سے بدظن کرنے کے لیے دانستہ طورپر جلسے کو ناکام بنایا اور معزز مہمان کو عوام سے دورکھاگیا تاکہ مہمان یہاں کے لوگوں کے بارےمیں بددل ہوجائیں ، وزیر اعظم صاحب کے باربار خواہش کااظہارکرنے کے باوجود جلسہ گاہ تک نہ لے گئے  اور  یہ بھی ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے (خدانخواستہ )یہاں کے لوگ ملک  اور حکومت کے ساتھ مخلص نہیں ہیں۔ یہ اس علاقے کی ملک کےلیے دی جانے والی ستر سالہ قربانیوں کے ساتھ مذاق ہے ، اور یہ اس علاقے کے شہداء کے خون کے ساتھ ناانصافی ہے ، جب بھی  کوئیسربراہ مملکت چاہے وہ صدر ہوں یاوزیر اعظم اس علاقے کا دورہ کرتاہے یادگار شہداء پر ضرور حاضری دیتا ہے اور شہداء کو سلام عقیدت پیش کرتا ہے،  اس دفعہ مقامی انتظامیہ اور ارکین اسمبلی کی غفلت سے  وزیر اعظم کو یہ موقع بھی نہیں فراہم کیاگیاکہ وہ شھداء کی یادگار پر حاضری دے سکیں۔بلتستان کی دامن میں سینکڑوں شہداء دفن ہیں جنہوں نے مملکت عزیز کی خاطر دشمن کےخلاف سینہ سپر ہوکر لڑے اور جام شہادت نوش کیے، مادر وطن کی طرف اٹھنے والی ہر بری نظر کو توڑ کر رکھ دیا ہے ، چاہے وہ ۱۹۶۵ء کی جنگ ہو یا ۱۹۹۹ء کامعرکہ کارگل، چاہے وہ ملک میں ہونے والی خلفشار کےخلاف  ضرب عضب ہو یا آپریشن ردالفساد، ملک کی خاطر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ہر جوان صف اول میں شامل ہوے ہیں اور اب بھی ہورہے  ہیں۔ تاریخ شاہد ہے سرزمین بلتستان میں دنیا جہاں سے جو بھی مہمان آئے بلاتفریق کسی رنگ ونسل کے شایان شان انداز میں خوش آمدید کہتے اور ان کی خوب تواضع کی جاتی ہے۔ ماضی میں بہت سارےایسے وقعات ملتے ہیں کسی بھی سربراہ مملکت نے دورہ کیا، ان کے ساتھ سیاسی اور نظریاتی اختلاف اپنی جگہ مگر مہمان ہونے کے ناطے ان کی خوب پذیرائی کی اور عزت وتکریم کے ساتھ رخصت کیاجاتا رہا۔ مگرحالیہ واقعے نے بلتستان کے ہر باشعور شہری کو حیرت میں ڈال کر رکھ دیا ہے کہ اس قدیم تھذیب اور  روایات کے حامل علاقے سے ایک سربراہ مملکت کے ساتھ یہ ناروا سلوک کیوں اور کیسے ہوا؟  یہ صرف معزز وزیر اعظم صاحب کی نہیں بلکہ پوری بلتی قوم کی بےعزتی ہے۔یہ بلتی قوم کی  پہچان اور معاشرتی اقدار کے منافی ہے  جس سے ساری قوم پریشان ہے۔علاقے کے معززین ، سیاسی وسماجی نمائندوں ، نوجوانوں اور زعماء قوم کو اس واقعے کے بارے میں سوچنا چاہئے ، تاکہ اس طرح کے واقعات آئندہ دوبارہ نہ ہوں ، اور کسی بھی سازشی عناصر کو علاقے کی قدیم تھذیب وتمدن پر قدغن ڈالنے کا موقع نہ ملے۔ تھذیب بلتستان زندہ باد پاکستان پایندہ باد۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc