شاہراہِ کرگل تحریر : مبشر آخوندی

ایک دِیوار کی دُوری ہے قفس
یہ نہ ہوتی تو چمن میں ہوتے( حسنی)
لوگ اپنے پیاروں کیساتھ خوش باش زندگی گزار رہے تھے اچانک چراغِ وفا بجھ گیا ایسا اندھیرا چھایا کہ تاریکی میں کہیں باپ بیٹے سے دور ہوا ، کہیں میاں بیوی سے بچھڑ گیا اور کہیں چھوٹے چھوٹے بچوں نے ماں اور باپ دونوں کو کھو دیا. یہ تذکرہ جنگِ آزادی 1857ء یا جنگِ پلاسی کا نہیں ہے بلکہ ستر برس پہلے گلگت بلتستان میں واقع ہونے والا ایک واقعہ ہے،
خبر رساں ذرائع کی عدم دستیابی کی وجہ سے بے خبر لوگوں کو اچانک برّصغیر کے ٹکڑے ہونے کی خبر ملی تو تب تک کافی دیر ہوچکی تھی، بغیر کسی قسم کے عوامی ریفرنڈم کے سرحد بازی بھی اتنی تیزی سے کی گئی کہ جیسے کئی دنوں سے قیدی بلی کے سامنے دودھ رکھا ہو، لوگوں کو اپنے احباب تک جانے کی مہلت اور اجازت نہ مل سکی کئی واقعات تو ایسے رونما ہوئے کہ اکثر لوگوں کو سرحد بندی کے بعد علم ہوا کہ میں اِس پار رہا ہُوں مگر میرے چھوٹے چھوٹے بچے اُس پار رہ گئے، کیا بیتی ہوگی اُن چھوٹے چھوٹے بچوں پر جب اُنکا اکلوتا سہارا اُن سے زندہ رہتے ہوُئے بچھڑ گیا۔
کارگِل، لداخ اور بلتستان کی تاریخ ایسی سینکڑوں کہانیوں سے بھری ہوئی ہے کہ کون کہاں رہ گیا، کِس کا کون بچھڑ گیا اور کِس کِس نے قیامت خیز زیست کا تن تنہا سامنا کیا. اُس وقت کے ظالم حالات کا سامنا کرنے والے بزرگوں سے آج بھی کوئی دو چار لمحے باتیں کرکے دیکھیں تو انسان یہ بات دِل کی گہرائی سے مان لے گا کہ دُنیا میں مال و دولت اور آرام و آسائش کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ اگر حیثیت ہے تو اپنوں کے ساتھ چار دِن کی زندگی ہی سہی مگر خوشی خوشی گزارے، لاکھ غربت اور پریشانیاں ہی سہی مگر اُن سب مسائل کو بُھلانے کے لئے عزیز و اقارب کی ایک ایک مسکراہٹ ہی کافی ہے. آج بھی بہت ساری ترسی نگاہیں اپنے عزیزوں کا ایک جلوہ دیکھنے کیلئے غموں کا انبار لئے بے چین و مضطرب ہے۔.
حکامِ بالا سے پُرزور اپیل ہے کہ شاہراہِ کارگِل کو جلد سے جلد کھولا جائے تاکہ ہزاروں ترسی نگاہوں کو جگر کے پاروں کا دیدار ہوجائے… نہ صرف اِس لئے بلکہ اِس شاہراہ کو پاکستان اور ہندوستان کے سفارتی، تجارتی اور سیاحتی تعلقات کو بڑھانے کی ایک بہترین راہ سمجھی جائے کیونکہ آج کے ترقی یافتہ ممالک کی ایک بہترین پالیسی ہوتی ہے کہ وہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہترین خارجہ پالیسی کو فروغ دیں، مگر آج بھی پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات میں کشیدگی ہے جو دونوں سرزمینوں کے لئے نیک شگون نہیں ہے. شاہراہِ کارگِل کو کھولنے سے دونوں ملکوں میں تجارتی سرگرمیوں کی ایک بہت بڑی لہر دوڑ سکتی ہے، اِس لئے تجارت اور سیاحت کیلئے اِس شاہراہ کو کھولا جائے

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc