کوئٹہ میں چہلم امام حسینؑ کیلئے کربلا جانے والے کئی ہزار گلگت بلتستان کے باشندے گزشتہ ایک ہفتے سے پریشان حال ، گلگت بلتستان حکومت تعاون کرنے کیلئے تیار نہیں۔

اسلام آباد( پ،ر)عراق میں چہلم امام حسینؑ میں شرکت کیلئے قانونی طور پر جانے والے کئی ہزار گلگت بلتستان کے باشندے جن میں ضعیف مردو عورت اور بچے شامل ہیں،کو اس وقت کوئٹہ میں سیکورٹی کا بہانا بنا کرروکا ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سیکورٹی حکام جانب سے  گلگت بلتستان کے زائرین کیلئے سیکورٹی کا بہانا بنایا جارہا ہے جبکہ گزشتہ دنوں میں کئی بسیں بغیر کسی سیکورٹی ایشو کے روانہ ہوچکی ہے لیکن گلگت بلتستان کے زائرین کو یہاں خاص طور پر ٹارگیٹ کیا جارہا ہے زائرین نے حکام بالا کو یہاں تک بتایا کہ ہم گلگت بلتستان والے پُرامن لوگ لوگ ہیں اور ہمارا مقصد صرف اپنے امام کی چہلم میں شرکت ہونا ہے لیکن دیگر صوبوں سے گلگت بلتستان کے زائرین کے ساتھ ذیادہ ناروا سلوک بھرتنا اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ گلگت بلتستان کے حکومت کی ایماء پر یہ سب کچھ ہورہا ہے۔ زائرین نے یہ بھی شکوہ کیا ہے کہ کیا وجہ ہے گلگت سست سے لیکر سندھ تک پرُامن ریلی کیلئے کوئی مسلہ نہیں لیکن گلگت بلتستان کے زائرین کاقانونی طریقے سے تمام حکومتی قوانین پر عمل کرتے ہوئے عراق جانے پر سیکورٹی کا بہانا بنا کر تنگ کیا جارہا ہے۔ اس وقت گلگت بلتستان کے کئی ہزار باشندے کوئٹہ کے مختلف عبادت گاہوں میں پناہ لئے ہوئے ہیں زائرین کی طرف سے احتجاج کرنے پر پولیس اور دیگر سیکورٹی فورسز کی جانب سے لاٹھی چارج کرتے ہیں اور لاٹھی چارج کی وجہ سے کئی ضعیف خواتین بری طرح زخمی ہوچُکی ہے۔ کوئٹہ میں پھنسے گلگت بلتستان کے زائرین نے شکوہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کو تمام تر قربانیوں کے باجود ہر جگہ شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں ۔زائرین نے سول سوسائٹی گلگت بلتستان مذہبی اور سیاسی جماعتوں سے اس معاملے میں حکومت گلگت بلتستان کی مکمل خاموشی کے حوالے سے آواز بلند کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc