لاپتہ افراد اور صحافیوں کی خاموشی۔ تحریر: محمد حسن جمالی

قلم کی طاقت تلوار کی طاقت سے کہیں ذیادہ ہوتی ہے۔ یہ قلمی طاقت قوم کی تقدیرکو سنوار بھی سکتی ہے اور بگاڑ بھی، قلم کی سیاہی کے ذریعے انسانوں کو بیدار بھی کیا جاسکتا ہے اور خوب غفلت کی نیند میں سلا بھی سکتا ہے، قلمی موثر ہتھیار کی مدد سے آدم کی اولاد کو ہدایت کا راستہ بھی دکھا سکتا ہے اور گمراہی کے دلدل میں پھنسا بھی سکتا ہے۔ اگر اہل قلم اسے حق کی سربلندی اور باطل کی سرنگونی کے لئے استعمال کریں تو اس سے قوموں کو سعادت اور کمال نصیب ہوتا ہے، لیکن اگر قلمی طاقت کے حامل افراد اسے صرف باطل کی ترویج اور بے ہودہ مقاصد کی تکمیل میں صرف کریں تو اس سے قومیں زوال اور فنا کی گہرائی میں جاگرتی ہیں۔ آج اگر ہم اپنی سرزمین پر میدان صحافت کے طالع آزماؤوں کی جانب نظر دوڑائیں تو حق اور اہل حق کی حمایت کرتے ہوئے باطل اور اہل باطل کے خلاف لکھنے والے قلمکار آٹے میں نمک کے برابر نظر آتے ہیں، مظلوم کے دفاع اور ظالم کی مزمت میں قلم اٹھانے والوں کی تعداد انگشت شمار دکھائی دیتی ہے ۔ حق گو صحافیوں کی تعداد قلیل ضرور ہے لیکن ہر دور کے باطل کے لشکروں پر بھاری ہے۔یہی وہ لوگ ہیں جو دنیا و آخرت میں سرخرو ہیں۔ میڈیا کی دنیا میں ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ صحافت سے وابستہ افراد کی اکثریت اپنے مادی مفادات کے حصول کے لئے قلم کی عظمت اور حرمت شکنی کرنے میں کوئی خوف محسوس نہیں کرتی۔ صحافی برادری کی ایک قابل توجہ تعداد کرائے کے لکھاری ہے،ایسے افراد فقط پیسے کے پیاسے ہوتے ہیں، انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ ان کا قلم کہاں چل رہاہے، ان کی قلمی قوت مظلوم کے دفاع میں چل رہی ہے یا ظالم و ستمگر افراد کی حمایت اور مدد میں، انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تلوار سے ذیادہ طاقتور ان کا قلم عوام گمراہی کا باعث بن رہا ہے یا عوام کی ترقی وتکاملی کا سبب بن رہا ہے، وہ اس سے یکسر طور پر غافل رہتے ہیں کہ وہ انسانی معاشرے کی پیشرفت،فلاح اور کامیابی کے لئے لکھ رہے ہیں یا وہ اپنے قلم کے ذریعے معاشرہ انسانی کو قعر مزلت کی گہرائی میں پہنچانے میں کردار ادا کررہے ہیں، وہ اس بات کی طرف متوجہ نہیں ہوتے ہیں کہ وہ اپنی قلمی صلاحیت کے ذریعے لوگوں کو آگاہی اورشعور دے رہے ہیں یا لوگوں کو شبہات اور جہالت کی طرف دعوت دے رہے ہیں، ان کا ہم وغم پیسہ ہوتا ہے، وہ جہاں اور جس سے ملے اس کے عوض وہ اپنی قلم طاقت بھیجنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں اور نہایت اطمینان سے اپنے ضمیر کا سودا کرتے ہیں اور بے ضمیر لوگ ان کرائے کے لکھاریوں کو سہانے خواب دکھاکر اور طمع ولالچ دلاکر ان کی قلمی طاقت سے سوء استفادہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔
پاکستان کے مظلوم لاپتہ اسیروں کے دفاع میں کتنوں نے قلم اٹھایا ہے، کیا کئی سالوں سے لا پتہ افراد مظلوم نہیں؟ کیا بغیر ثبوت کے دن دہاڑے ملت پاکستان کے جوانوں کو غائب کرنا ظلم نہیں؟ کیا اسیروں کو قانون کے دائرے میں لاکر قانونی کاروائی کئے بغیر چھپاکر رکھنا سنگین جرم نہیں؟کیا مختلف بہانے تراش کر مسلکی تعصب کی وجہ سے اقلیتی گروہ کے جوانوں کو اٹھاکر جیلیں بھرنا دہشتگردی نہیں؟ اگر ہے تو ہمارے صحافی حضرات خاموش کیوں ہیں؟ اگر پاکستان کے کسی کونے میں حادثے کا شکار ہوکر یا ناگوار حالت میں کسی اداکار یا موسیقی کی دنیا سے وابستہ شخص کی موت واقع ہوجائے تو صحافی حضرات کئی دن اس پر لکھتے رہتے ہیں، امریکہ کے موجودہ صدر کے انسانیت کے خلاف بیانات کو عنوان بنا کر وہ قلم چلاتے نہیں تھکتے، مگر انہیں اپنے ملک کے لاپتہ مظلوموں کے دفاع اور حمایت میں چند سطر لکھنے کی توفیق کیوں نہیں ہوتی؟ اس کی بنیادی وجہ قلم کی حرمت، شعبہ صحافت کی عظمت سے واقف نہ ہونا اور احساس مسولیت کا فقدان ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صحافی برادران اس سنگین مسئلے پر توجہ کریں، ان مظلوم لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے اپنی قلمی طاقت کے ذریعے بھر پور کردار ادا کرتے ہوئے اخوت بھائی چارگی اور درد دل کا ثبوت پیش کریں۔
ہماری دانست کے مطابق، لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے،اب اہلِ قلم حضرات کو متفق ہوکر منظم طور پر متحرک ہونا چاہیے۔
آج کیوں پرواہ نہیں اپنے اسیروں کی تجھے
کل تلک تیرا بھی دل مہر ووفا کا باب تھا

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc