لفظ “میں” ھم سب کی توجہ چاہتا ہے. تحریر حمایت خیال

لفظ  “میں”  ھم سب سے توجہ چاہتا ہے. تحریر حمایت خیال

      تنقید کرنا میرا مشغلہ بن چکا ہے. میں معاشرے میں رونما ہونے والی ہر تبدیلی پہ منفی تنقید کر سکتا ہوں. ہر سیاسی ,سماجی ,مذہبی لوگوں کی باتوں کو کرید کر ان کے مضبوط بیانات کو کمزور کر تو سکتا ہوں , لیکن کوئی اچھا عمل انجام دے نہیں سکتا. میں اگر کوئی قول اچھی بھی بیان کر دوں اس پہ عمل پیرا ہونا میرے بس میں نہیں. یہی وجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ میرے جیسے لوگوں سے بھرا پڑا ہے. جو خود تو کچھ کر نہیں سکتے مگر اچھوں پہ کھل کے تنقید کئے جاتے ہیں. ہماری تنزلی کا ایک سبب منفی تنقید ہے.

میں لوگوں کو اچھی زندگی گزارنے کے طریقے اور مقصد زندگی بتا تو سکتا ہوں  لیکن! خود اپنی باتوں سے انحراف کر جاتا ہوں. میں اپنے قول و فعل میں مطابقت نہیں دیکھتا. مجھے اپنے اردگرد موجود جاندار بلکہ غیر جاندار کی جہاں فکر رہتی ہے وہیں خود کو ان سے برتر سمجھ کے خود کو تنہا کئے دیتا ہوں. میرے اور میرے معاشرے کے فائدے اور نقصانات مشترک ہیں لیکن ہمیشہ آپنے آپ کو اول ترجیح پہ رکھتا ہوں.

میں اپنی بالکونی سے کوڑا کرکٹ سامنے کھلے میدان میں پھینکتے  ہوئے  اپنے آپ سے کہتا ہوں کہ وقت ایک قیمتی شئے ہے. وقت کو بچانا چاہیے. لیکن!  میں اس بات سے نالاں ہوں کہ اسی کوڑا کرکٹ سے اٹھنے والی بدبودار ہوا واپس میرے کمرے تک آتی ہے اور میری بیماری کا سبب بن جاتی ہے. میرا آلودہ معاشرہ میری توجہ چاہتا ہے.

میں ریپ، بدفعلی اور سیکس سکینڈل پہ آواز اٹھا تو رہا ہوں لیکن! میرے اندر چھپے شیطان سے بیت ہی کم لوگ واقف ہوں گے. میری ننگی آنکھیں برقعہ پوش انسانوں کو برہنہ کئے دیتی ہیں. میری آنکھیں مجھے سے توجہ چاہتی ہیں.

رات سونے سے قبل واش روم جا کے نل کھول کے رکھ دیتا ہوں تاکہ صبح جب پانی آئے تو ٹب /بالٹی بھر جائے. اسی طرح ٹب کے بھرنے کے بعد پانی ضائع کئے دیتا ہوں. اور میں (save water save life) پہ سیمینارز اور لیکچرز پہ بولتے بولتے سامعین کی سمع خراشی کرتا ہوں. خدا کی بے بہا نعمتیں میرے قول و فعل میں مطابقت چاہتی ہیں.

میرے الفاظ پانامہ زدہ لوگوں اور کرپشن میں ملوث لوگوں کے حق میں نہیں. میں انہیں ملک پاکستان میں غربت مفلسی اور بے امنی کے ذمہ دار سمجھتا ہوں لیکن خود اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام دینے سے قاصر ہوں.

میرے الفاظ میری توجہ چاہتے ہیں.

 

 

نوٹ. ( اگر آپ بھی لفظ میں خود کو سمجھے اور دیکھئے کہ خرابی کہاں ہے. اگر واقعی معاشرے میں کچھ کمی ہے تو اس سے ٹھیک کرنے کی کوشش کریں. اگر اپنے آپ کو قصوار سمجھتے ہیں تو پہلے اپنی اصلاح کیجئے گا)

 

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc