بھتہ۔ تحریر عبدالحمید

اچانک ہال تالیوں سے گونج اُٹھا ایک نامور صحافی تقریر کے بعد سٹیج سے نیچے آرہے تھے۔ کمال کی تقریر کی گئی تھی گویا اُن کی حب الوطنی اورقومی درد الفاظ میں ڈھل گئے ہوں۔ گویا وہ درد رکھتے ہوں قوم کا۔ ۔۔ تقریب معذور افراد کے حوالے سے بچوں کی پینٹینگ (فن مصوری) کے مقابلے کا تھا۔
مگر اس صحافی کی تقریر سن کر مجھے لگا کہ ہمارے ہاں اگربچپن میں بچہ کا مستقبل قدرت پہ چھوڑ دیا جائے اور بچہ کو کسی طور کچھ کرنے کا نہ کہا جائے تومجھے یقین کامل ہے کہ وہ بڑا ہو کرصحافی ہی بن پائے گا۔ میں نے کسی سے پوچھا بھی کہ’ اچھے صحافی بننے کے لئے تعلیم کیسی ہونی چاہیئے‘ تو جواب ملا ’بہت بُری‘۔
غالباٌہمارے اکثر صحافی بھی ایسے ہی ہیں۔ اُنھوں نے بچپن میں اپنے مستقبل میں رخنہ نہیں ڈالا، اور فقد قدرت پر چھوڑا یعنی کچھ نہیں کیا۔ کچھ کے ماں باپ نے بہت زور بھی لگایا کہ بچہ پڑھے ، اچھی اچھی سکولوں میں، کالجز میں ڈالے، مگر بچہ نے اپنے مستقبل میں کچھ نہ کر کے صحافی بننے کو باقی سب پر فوقیت دی۔ اور اِس سلسلے میں والدین کے تمام ارادوں کو کہ بیٹا بڑاہو کر ڈاکٹر انجینئر بنے، آرمی میں جائے یا کوئی اور اچھی پیشہ اختیار کرے، مٹی میں مِلا دیا۔
خیر، صاحب مذکور نے اپنی تقریر میں محفل میں عدم شرکت پر انتظامیہ کو ہدفِ تنقید بنایا اور اُن کی نااہلی اور عدم دلچسپی پر خوب چار حرف بھیجے اور صدرِ محفل کی آمد پر اُن کے تعریف میں زمین اور آسمان کے پُل ملا دیئے اور دلائل سے ثابت کیا کہ امانت داری، قوم کا درد ، اور کوئی خیر خواہی رکھتا ہے تو صدرِ محفل ہی ہیں چونکہ صدر محفل ایک اچھے بوٹ والے تھے اس لئے مذکور نے ثابت بھی کیا وہ اچھی موچی بھی ہیں۔ ایک واقعہ بھی ڈھونڈ لیا تاکہ ثابت کر سکیں کہ تمام دلائل صحیح ہیں کہ ایک دفعہ وہ کسی ایمرجنسی کی جگہ نیوز کوریج کے لئے پہنچے تو صدرِ محفل خود پہلے سے موجود تھے اور کارکنوں کی طرح کام کر رہے تھے۔ واقعی دلیل کافی وزن رکھتا بھی تھا مگر اِس سے صدرِ محفل سے زیادہ خود کی سُستی کا دخل بھی تو ہو سکتا تھا۔
اُن کی پُر کشش تقریر سُن کر میں بھی کھو گیا کہ ایسے بھی لوگ ہیں ، واقعی ایسے بھی سوچ رکھنے والا ہے۔ کیا واقعی ایسے۔۔۔۔
پل بھر کو تو محفل کے بچوں نے بھی ضرور سوچا ہو گا کہ ہم سکول میں پڑھ کہ اپنا مستقبل خراب کر رہے ہیں ؟ ہمیں بھی اپنا مستقبل قدرت پر چھوڑ کر صحافی بننا چاہیے۔
محفل تھی سماجی تنظیم کی ،یعنی نیک کام کی، اور نیک کام میں شیطان ہمیشہ ساتھ ہوتا ہے۔
دماغ کو اِدھر اُدھر بھٹکا دیتا ہے۔۔۔
میں بھی بھٹک گیا اپنی سوچوں میں ماضی جھانکنے لگا۔۔۔
بات اس محفل سیتینسال قبل کی ہے میں خزانہ آفیسر کے دفتر میں تھا اور تاریخ تھی ۳۰ جون یعنی مالی سال کا آخری دن اور سال شاید جان بوجھ کر بھول گیا۔
خزانہ آفسر کے کمرے سے گزر کے کلرک کے کمرے میں پہنچااور دیکھا کہ ہر شخص جو سرکار سے چیک پاس کروانے کے لئے آئے تھے کلرک اُن سب سے پھُرتی سے پیسے مانگتا اور ریمارکس لکھ کر خزانہ آفیسر کو بھیج دیتے۔ میں اندر داخل ہوا اور اپنے والد کی ایک چھوٹی رقم کا چیک کلرک کو کلیرنس کے لئے پیش کیا۔ کلرک نے مسکراتے ہوئے پیسے مانگے میں انکار کیا۔ میرے انکار کی شدت یا میرے بچپن کی معصومیت نے ایسا کچھ کیا کہ کلرک نے بغیر کچھ لئے مجھے کلیئر کر دیااور میں واپس خزانہ آفیسر کے پاس پہنچا۔
کمرے میں نگاہ ڈالی اور خزانہ آفیسر کے میز کے ایک طرف کی کُرسی پر براجمان ہو گیا۔خزانہ آفیسر بڑی ڈھٹائی سے مجھ سے مخاطب ہوئے بغیر پوچھا ’بھتہ دیا ہے‘۔ میری سمجھ میں نہیں آیا،بولا ’جی؟؟‘ تو پھر بولے ’بھتہ نہیں سمجھتے؟ وہ ایم کیو ایم والے لیتے ہیں بھتہ، بھتہ!!‘ میں نے نہیں میں جواب دیا۔
مذکورہ صحافی، جو شاید اپنا کوئی چیک بھی پاس کروانے ایا ہوا ہو گا، نے مجھے سمجھانے کے انداز میں حکم دیا’اندر کلرک کے پاس بھتہ جمع نہیں کروائے؟ جائیں پہلے صاحب کے لئے کلرک کے پاس بھتہ دے آئیں‘ ۔
جو صحافی خود کسی سرکاری آفیسر کے لئے بھتہ دینے کا کہہ رہا تھا وہ تقریر میں سکول کے بچوں کو ایمانداری اور حب الوطنی سکھا رہا تھا۔
میں سوچوں میں گم تقریب سے نکل آیا۔

نوٹ: عبدالحمید کالم نگار حسن آباد چھوربٹ بلتستان سے تعلق رکھتے ہیں اور سماجی، سیاسی اور ثقافتی موضوع پر لکھتے ہیں۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc