ن لیگ بلتستان کا بلتی قوم کو احسان فراموشی کا طعنہ۔ تحریر : انجینئر شبیرحسین۔

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی سکردو آمد اور عوام کی طرف سے مکمل لاتعلقی کے اظہار کی بحث سوشل اور پرنٹ میڈیا پر تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔ ہم اگر اس دورے کے اعلان سےلیکر جلسے کی ناکامی اور اس ناکامی کے بعد ن لیگ کے رہنماوں اور کارکنوں کے رد عمل کا جائزہ لیں تو لیگیوں کا ایک بہت ہی بھیانک چہرہ سامنے آجاتا ہے۔ آئییے اس سارے کھیل کا شروع سے آخر تک ایک جائزہ لیتے ہیں۔
وزیر اعظم کی سکردو آمد کے اعلان کے ساتھ ہی ن لیگ بلتستان نے اعلان کیا کہ وزیر اعظم سکردو روڈ اور بلتستان یونیورسٹی کا افتتاح اور بعد ازاں جلسے سے خطاب کریں گے۔ لیکن شاید ان کو اس بات کا خوف بھی تھا کہ جلسے میں لوگ شرکت نہیں کریں گے اور جلسہ ناکام ہو جائیگا اس لیئے کہ ان میں کوئی بھی رہنما ایسا موجود نہیں تھا جس نے سیف الرحمن مرحوم کے ایصال ثواب کی قران خوانی میں شریک بیس سے زیادہ بندے جمع دیکھے ہوں۔اسی لیئے سینئیر وزیر اکبر تابان صاحب نے سوچا کہ جلسے کی کامیابی کیلئے دیگر پارٹیوں سے مدد لی جاۓ۔ اس سلسلے میں ایک آل پارٹیز کانفرنس بلائی گئی جس میں پی پی ،تحریک اسلامی انجمن امامیہ جیسی بڑی تنظیموں نے شرکت کی اور ایک اعلامیہ جاری کر دیاکہ وزیر اعظم کا استقبال ”سب ملکر“ کریں گے۔ن لیگیوں نے اس اعلامیے پر بغلیں بجانے پر اکتفاء کیا اور عوام کو جلسہ گاہ تک لے جانے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے ۔عوام نے بھی اس اعلامیۓ بلکہ المیے کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔ ایک بات یہاں پر یہ بھی بتا دوں کہ ن لیگ کی حکومت کو ڈھائی سال ہوۓ اکبر تابان وزیر اخلاق اور اشرف صدا کی ساری زندگی ن لیگ کو پوجتے گزر گئی مگر آج تک میں نے ان کو کسی عوامی ایشو پر تمام پارٹیوں کو اکٹھا کر کے مشترکہ اعلامیہ جاری کر کے جد وجہد کرتے نہیں دیکھا مگر آج اپنی ناکامی کے ڈر نے انہیں آل پارٹیز کانفرنس بلانے پر مجبور کر دیا ۔
بتایا جاتا ہے کہ اس کے بعد ن لیگی کارکنان سکردو شہر کی گلی گلی محلے محلے جاکر لاوڈ سپیکر پر اعلان کرتے اور عوام کو وزیر اعظم کے جلسے میں شرکت کی اپیل کرتے رہے۔ مگر۔۔۔
وزیر اعظم آۓ کونسل اجلاس کی صدارت کی ،سکردو روڈ کا افتتاح کیا ،وہیں بیٹھے بیٹھے بلتستان پونیورسٹی کا افتتاح کیا۔ بقول ڈپٹی سپیکر عوام سے خطاب کرنے پر اسرار کرتے رہے مگر کیا کبھی خالی کرسیاں بھی عوام کہلائی جاتی ہیں،وزیر اعظم کی یہ خواہش دل میں ہی رہی اور ن لیگیوں نے بقول جعفراللہ بڑی مشکل سے جان چھڑائی۔
اب جلسے میں بری طرح ناکامی کے بعد ن لیگیوں کے رد عمل کا جائزہ لیتے ہیں ۔ اگر جلسے کی ناکامی کیبعد ن لیگی رہنماوں اور کارکنان کے اخباری بیانات اور سوشل میڈیا سیٹیس پر نظر دوڑائیں تو واضح طور پر ان کی فرسٹریشن دکھائی دیتی ہیں۔ انہوں نے اس ناکامی پر کئی طرح کے رد عمل دئیے جس میں وزیر اعظم کے پاس جلسے کے خطاب کا وقت نہ ہونے والا جھوٹا بیان کافی مشہور ہوا جس کاپول بعد ازاں ڈپٹی سپیکر جعفراللہ نے یہ کہ کر کھول دیا کہ وزیر اعظم نے چار بار عوام سے خطاب کرنے کی خواہش کا اظہار کیا اور ہم نے بڑی مشکل سے جان چھڑائی ۔ ن لیگ بلتستان والوں نے بارہ ہزار بندے جمع کرنے کا دعوی کیا تھا مگر وہاں دو سو بھی جمع نہیں تھے۔
ایک انتہائی تکلیف دہ اور قابل مذمت رد عمل یہ بھی سامنے آئی کہ ن لیگی کارکنان اور رہنماوں نے بلتستان کی عوام کو احسان فراموش نا عاقبت اندیش اور ب شعور جیسے خطابات سے نوازنا شروع کر دیا اور ان بیانات کے پیچھے اپنی ناکامی چھپانے کی کوشش کی۔ یہ انتہائی گھناونی حرکت تھی کہ اپنی ناکامی چھپانے کیلئے انہوں نے بلتستانی قوم کیلئے اس طرح کی قابل نفرت الفاظ کا استعمال کیا ۔ دنیا اپنی ناکامی کے اسباب جاننے کیلئے کمیٹیاں بٹھاتی ہیں تھینک ٹینکس بناتے ہیں غورو حوض کرتے ہیں تاکہ ناکامی کے اسباب جاننے کی کوشش کی جاۓ اور ان اسباب کا ازالہ کیا جاۓ مگر ہماری حکمران پارٹی نے اپنی ناکامی کا سارا ملبہ عوام پر ڈال کر بری الذمہ ہونے کی قابل مذمت کوشش کی۔ ان لوگوں کو سوچنا چاہیئے تھا کہ جو وزیر اعظم عوام کی مفاد کے اتنے بڑے منصوبے کا افتتاح کر رہا ہے ان کے جلسے سے اتنی بڑی اظہار بیزاری کی کیا وجوہات ہیں اور کیا اس کا تدارک ممکن ہے ؟ میرے خیال سے ن لیگ بلتستان میں ایسا کوئی بھی نہیں جو ان خطوط پر سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ میرے خیال سے اس اقدام سے بلتستان کے عوام نے ن لیگ کی صوبائی حکومت کی پالیسیوں کو مکمل طور پر رد کر دیا اور یہ واضح پیغام دیا کہ بلتستان کے عوام حفیظ حکومت کی بد عنوانیاں ،چور بازاری ،اقرباپروری علاقائی،لسانی اور فرقہ وارانہ تعصبات پر مبنی فیصلوں ، خالصہ سرکار کے نام پر عوام زمینوں کو ہتھیانےجیسے اقدامات سے ناخوش ہیں جس کے ازالےکی کوشش کی جانی چاہئے۔ حکومت کے پاس دو سال سے زیادہ کاوقت ہے جس میں وہ لینڈ ریفارمز کمیٹی کو فعال کر کے عوامی زمینوں پر عوام کی ملکیت میں دیکر ،قبضہ سسٹم ختم کر کے پرے جی بی کی ترقی کیلئے یکساں پالیسی اور برابری کی سطح پر اقدامات کر کے ،کشمیریوں کی وکالت کی بجاۓ گلگت بلتستان کی آئینی سٹیٹس میں بہتری کیلئے پر کوششیں کر کے، سی پیک میں جی بی کاحصہ لینے کیلئے اقدامات کر کے ، عوام سے سیلز ٹیکس اور سوست بارڈر پر لئے جانیوالے ٹیکسز سے حصہ مانگ کر اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کر سکتی ہے۔ نہیں اگر ان کی موجودہ پالیسیاں جاری رہیں تو اگلے الیکشنز میں ان کا حشر پی پی سے بھی برا ہو گا۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc