بول، کہ لب آزاد ہیں تیرے… بول، زباں اب تک تیری ہے؟ تحریر : شریف ولی کھرمنگی

یکم نومبر کوہر سال یوم آزادی گلگت بلتستان منایا جاتا ہے، گوکہ حقیقت میں یکم نومبر کو پورا گلگت بلتستان آزاد نہیں ہوا بلکہ تاریخ کے اوراق میں گلگت ریجن کو ڈوگرہ راج(موجودہ جموں و کشمیر+آزادکشمیر کے حکمران جنہیں برطانوی حکومت کی سر پرستی حاصل تھی اور ان کے احکام کے مطابق گلگت بلتستان کے مقامی راجگان راجگیری کرتے تھے ) سے آزاد کرالینے کا ذکر موجود ہے، اور دیگر علاقوں خاص کر بلتستان کے اکثر علاقے بغاوت کی زد میں آگئیں اور بالآخر ایک سال بعد جولائی، اگست 1948 میں موجودہ گلگت بلتستان ڈوگروں کی چنگل سے آزاد ہوگئے۔
چونکہ گورئمنٹ سطح پر اور اخبارات میں آزادی کا دن یکم نومبر کو ہی مناتے آئے ہیں، لھٰذا اس آزادی کے کچھ تقاضے بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے تو کیا ہی بات ہوتی۔ ھم ڈوگروں سے آزاد ہوئے، اور پھر کیا کیا ہوئے کہ 66 سال بیت گئے؟ اور کیا اب ھم اسی آزادی پر قائم ہیں یا کچھ اور حالت ہے ھماری؟
یکم نومبر 1947 سے لیکر 70 کی دہائی تک فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن کے تحت ھم پر مقامی راجے مسلط رہے، انکی من مانیوں کے زیر سایہ عوام پستے رہے، 1961 میں پہلی بار انتخابات کروائے گئے تو مقامی نیم خواندہ افراد ایک بہت بڑا احسان سمجھ کر خوش ہوگئے۔ 1969 میں این اے ایڈوائزری کونسل بنایاگیا،70 کی دہائی میں جب راجاوں کو طاقت سے مکمل محروم کیا گیا تو کون ہم پر مسلط ہوئے۔۔۔۔ بیوروکریسی۔۔۔۔۔۔اوراس بیوروکریسی کی غلامی میں نہ صرف عوام آئے بلکہ بغیر کسی آئینی تحفظ کے لیگل فریم ورک آڈر یا ایل ایف او کے تحت بنائی گئی مقامی شورا اب تک ایک ربڑ اسٹمپٹ کی طرح وزارت امور کشمیر و شمالی علاقہ جات کے انڈر کبھی ریذیڈنٹ ، کبھی ایڈمنسٹریٹر، چیف کمشنر اور اب چیف سیکریٹریز کےاحکامات کے تابع ہیں ۔
جس طرح انتظامی عہدوں کے نام وقتا فوقتا تبدیل کرتے رہے اسی طرح اب اس ربڑ اسٹمپٹ تنخواہ خور شورا کے ھیڈ کو کبھی ڈپٹی چیف، کبھی چیف ایگزیکٹیو اور اب وزیر اعلیٰ کے نام دئے جا چکے ہیں، اور اسی طرح اس شورا کو کبھی ایڈوائزری کونسل، کبھی کونسل،قانون ساز کونسل، اور اسمبلی کے ناموں سے موسوم کرتے رہے اور ھم اس علاقے کے باسی ھر نیا نام دینے والے کے حق میں نعرے لگا لگا کر گلے خشک کرتے رہے ہیں۔1994،بے نظیر دور میں پہلی بار جماعتی بنیاد پرانتخابات کروائے گئے، اور نشستیں بڑھا دی گئیں ناموں کو تبدیل کر کے چیف ایگزیکٹیو، مشیر وغیرہ کیا گیا اور عوام سے خوب نعرے لگوائے، 1999میں سپریم کورٹ نے واضح حکم دیا کہ علاقے کو باقاعدہ حقوق دی جائیں مگر نوازشریف حکومت نے ناردرن ایریاز کونسل کو قانون ساز کونسل کا نام دیکر بے اختیار کونسل کو قانون سازی کا حق دیا، پرویز مشرف نے منگل 23اکتوبر 2007 کو دورہ گلگت میں مقامی شمالی علاقہ جات سے موسوم علاقے کی قانون ساز کونسل کو اسمبلی کا نام دینے کا اعلان کیا گیا، اور سادہ لوح عوام کو ماموں بناتے ہوئے کونسل کے سربراہ جسے ڈپٹی چیف ایگزیکٹیو کہا جاتا تھا اسے چیف ایگزیکٹیو قرار دیا اور وفاق کی طرف سے وزیر جسکو علاقے سے تعلق کی دور کی بات ،نام بھی نہیں پتا ہوتا، کو چیئر مین شمالی علاقہ جات قرار دیا۔ آخری بار پی پی حکومت میں گلگت بلتستان (ایمپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر 2009 ) جاری کیا گیا جس کے تحت شمالی علاقہ جات سے تبدیل کر کے علاقے کا نام گلگت بلتستان رکھا گیا، اسمبلی کے چیف ایگزیکٹیو کے عہدے کا نام وزیر اعلیٰ قرار دیا اور ایک گورنر کے عہدے کا اضافہ کیا گیا۔ ھم نے پھر سے نعرے لگائے،گنگنائے، نہ جانے کیا کیا تماشے کئے۔۔۔۔ لیکن اپنی آئینی حیثیت ھم پھر بھول گئے۔
دیکھا جائے تو ایک صوبہ ہے،اسمبلی ہے، اسمبلی ممبران، عہدیدار اور نہ جانے کیا کیا ہے۔، لیکن اگر بغیر کسی آئینی تحفظ اوروفاقی اسمبلی میں فیصلہ سازی میں یہاں کے نمائندوں کو شریک کئے بغیر اسے اسی طرح بے اختیار رکھا جائے اور صرف ایک وزارت کے تحت دیئے گئے فنڈز کی بندر بانٹ کا حق دیا جاتا رہے تو اسے اس قوم کے ساتھ مذاق کے علاوہ اور کیا کہلائے گی؟
کیا ھم یکم نومبر کو یوم آزادی منا رہے ہیں؟ ہاں تو کب تک اسی آزادی کے جشن منائیں گے؟
کیا ھم اس موجودہ اسمبلی میں اسی لئے نمائندے منتخب کر کے بھیجتے ہیں کہ وہ جشن آزادی کا ایک بڑا اشتہار اخبار میں چھاپ دیں؟ یا اسی لیے کہ وفاق سے ملنے والی فنڈز سے خوب دورے کریں۔ کیا مشیروں ، وزیروں اور سکریٹریوں کی ٹیم کا کوئی اور کام بھی ہے؟ دوسرے صوبوں میں ہوتے ہونگے مگر ھم کہیں ڈھونڈ کر بھی نہیں پاتے۔ کیونکہ ھم جشن آزادی منا کرخوش ہوتے رہے ہیں اور ہمیشہ اسی طرح خوش ہوتے رہیں گے۔ خدا ھم سب کو خوش رکھے۔ آمین۔

 

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc