ہماری آزادی۔۔!! تحریر: سید حسین

آزادی ایک نعمت ہے جس کی قدر وقیمت اس سے پوچھے جو غلامی کی زندگی گزار رہا ہو، مملکت عزیز پاکستان کی تاریخ میں دو دن بہت اہم ہیں۔ ایک ۱۴ اگست اور دوسرا یکم نومبر ، ۱۴ اگست ۱۹۴۷َ۔۴۸ کو بالترتیب پاکستان اور بلتستان آزادہوا جبکہ یکم نومبر ۱۹۴۷ کو مقامی لوگوں کی مسلسل جدوجہد اور قربانیوں کی بدولت گلگت ڈوگرہ راج سے آزادہوا، اور عام طورپر اسے ہی یوم آزادی گلگت بلتستان کہاجاتاہے۔ گلگت بلتستان کے لوگوں کو آزادی سے اتنی محبت ہے کہ وہ سال میں دو بار یوم آزادی مناتے ہیں، ایک ۱۴ اگست کو یوم آزادی پاکستان بڑے جوش وخروش کے ساتھ مناتے ہیں شایدیہی ان کا وہ جوش وجذبہ ملک کے کسی دیگر علاقے میں ملے ، دوسرایکم نومبر کو یہاں کے لوگ یوم آزادی گلگت بلتستان مناتے ہیں۔۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان کی آزادی کے بعد کرنل حسن خان جو کہ اس وقت برطانوی فوج میں کرنل تھے ، کی قیادت میں گلگت بلتستان کےلوگوں نے مل کر یکم نومبر۱۹۴۷ء کو ڈوگرہ کے گورنر گنگھارسنگ کو گرفتار کرکے ڈوگرہ راج کا خاتمہ کیااور گلگت اورگرد ونواح کو آزاد کرایا ، گلگت بلتستان کے پہلے صدر شاہ رئیس خان اور کرنل مرزاحسن خان گلگت اسکاؤٹ کے چیف بن گئے ، گلگت صرف دو ھفتوں کے لیے ایک مکمل آزاد اور اسلامی جمہوری ریاست رہا،پھر۱۶ نومبر ۱۹۴۷ء کو وہاں کی حکومت نے قائد اعظم محمدعلی جناح سے بات کی اور بغیر کسی شرط وشروط کے پاکستان میں شمولیت کا اعلان کیا،۱۶نومبر کو پہلا پولیٹیکل ایجنٹ خان محمد عالم خان گلگت میں وارد ہوا اور انتظام وانصرام سنبھال لیا، اس دوران یعنی یکم نومبر ۱۹۴۷ء سے لے کر۱۴اگست ۱۹۴۸ ء تک صرف گلگت پر پاکستان کی طرف سے حکومتی نمائندہ پولیٹیکل ایجنٹ کی حکومت تھی، جبکہ بلتستان ابھی آزاد نہیں ہواتھا اور وہاں ابھی آزادی کی جنگ جاری تھی، بلتستان کو دس ماہ بعد ۱۴ اگست ۱۹۴۸ء کو وہاں کی عوام نے ڈنڈوں اور پھتروں کے بل بوتے پر آزاد کرایا۔گلگت بلتستان کی عوام کی توقع تھی کہ انہیں جلد ایک نئے صوبے کی حیثیت سے قبول کیاجائے گااور پاکستان کے دیگر تمام شہریوں کی طرح انہیں بھی برابرکے حقوق ملیں گےمگرقائد اعظم کی وفات کے بعد صوبہ بنانے کی بجائے اسے کشمیر کی طرح متنازعہ علاقہ قرار دیاگیااور حکومتی نظام رائج کرنے کیبجائے گلگت بلتستان کو راجاؤں کے رحم وکرم پر چھوڑدیا گیا۔ ۲۸ اپریل ۱۹۴۹ء کو گلگت بلتستان کے قائدین اور عوام کو اعتماد میں لیے بغیر کشمیری قائدین اور اس وقت کے حکومتی وزیر کے مابین ایک متنازعہ معاہدہ کراچی کے تحت اس خطے کی آئینی حیثیت کو واضح تعین کر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا گیا۔ یوں ۱۹۴۹ء سے گلگت بلتستان وفاق کے زیر انتظام ایک عضو معطل کی طرح پاکستان کے ساتھ جڑا ہواہے۔ ہر دور میں مختلف حکمرانوں نے اس علاقے کے ساتھ اپنے اپنے انداز میں سوتیلی ماں جیسا سلوک روارکھا۔گزشتہ سات دہائیوں سے حکومت نے اس خطے پر ہر وہ قانون نافذکیا جو کسی نہ کسی حوالے سے ان کے اپنے مفاد میں تھا مگر اس خطے کو آئینی وسیاسی اور معاشی حقوق سے محروم رکھ کر اس علاقے پر اپنا تسلط جمائے رکھا۔۱۹۴۷ء سے لیکر ۱۹۷۱ء تک وہاں راجاؤں کی حکومت رہی ، اسی دوران متعدد بار راجاؤں کے خلاف بغاوت بھی ہوئی ، راجگی نظام کے خلاف پہلی بغاوت ۱۹۵۲ء میں پونیال میں ہوئی جس کو ریاستی طاقت کے ذریعے کچل دیا گیا۔ نہتے لوگوں کو شھید ورخمی کردئے گئے ، بیس سال بعد دوسری بغاوت راجگی نظام کے خلاف نگر مین ہوئی جس کو کچلنے کے لئے حکومتی مشینری پھر سے متحرک ہوئی اور مظلوم شہریوں کو ایک بار پھر خاک وخون میں غلطان کیا گیا، حکومت کی سرپرستی میں کمیٹی بنا کر عوام کے مطالبات کو حل کرنے کے بجائے پھر ان راجاؤں کے رحم وکرم پر چھوڑدیا گیا اس سے عوام میں موجود مایوسی میں اضافہ ہوا۔سینکڑوں جانوں کے نذرانے دینے بعد کہیں جاکر اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقارعلی بھٹو نے ۱۹۷۲ء میں وہاں کا دورہ کیا اور راجاؤں کے دور کا خاتمہ کر کے الیکشن کا نظام رائج کردیا، ذوالفقار علی بھٹونے دو ایسے اقدامات کئے جس سے یہاں معاشی ترقی کا آغاز ہوا۔ان میں سے ایک یہاں سے اس ظالمانہ نظام کا خاتمہ کیاجو دھائیوں سے عوام کا خون چوس رہا تھا اور دوسراشاہراہ قراقرم کو تعمیر کیااُن کے اِن اقدامات سے عوام میں ایک امید کی کرن محسوس ہونے لگی تھی مگر ان کی پھانسی کے بعد یہ بھی ختم ہوگئی۔کہا جاتاہے کہ گلگت بلتستان کو آئینی حقوق دینے سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچ سکتاہے، چونکہ اقوام متحدہ کی عدالت میں گلگت بلتستان کو پاکستان ہی کی طرف سے متنازعہ قرار دیاہواہے اور اب اس خطے کو آئینی حقوق دئیے جائیں تو کشمیر پر ہماراموقف کمزور ہوجائے گا تو چلیں اس کا بھی کوئی متبادل حل ہوسکتاہے ، آج کے اس اکیسویں صدی میں بھی اس خطے کی ملک کے لیے دئیے جانے والی قربانیوں کو نظر انداز کرنا سراسر ناانصافی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ گلگت بلتستان ۲۰۰۹ء تک وفاق کے زیر انتظام علاقہ تھا جسے پوری دنیامیں شمالی علاقہ جات کے نام سے پہچاناجاتاتھا، ۲۰۰۹ ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ایک صدارتی آرڈینینس کے تحت اس خطے کو تشخص اور نیم خودمختار صوبائی درجہ دیاگیا، جس کے تحت اسےصوبہ گلگت بلتستان کہلانے لگا۔صوبے میں برائے نام اسمبلی، اراکین اسمبلی، سپیکر، وزیر اعلیٰ ، گورنر اور دیگر وزارتوں پر مشتمل مکمل سیٹ اپ تو موجود ہے مگر اختیار وانصرارم سے عاری ہے ، صوبے کے ہرفیصلے وفاق سے ہوتے ہیں ، اور یہ دنیامیں اپنی نوعیت کاوہ واحد صوبہ ہے جس کا وجود لفظی اور تحریری صورتوں میں تو ہے مگر عملاً اس کا وجود کہیں بھی نظر نہیں آتا، اسی لیے اسے سرزمین بے آئین بھی کہاجاتاہے، بعض اوقات ملک کے سیاسی نمائندے اور مقتدرقومی اداروں کے حکام اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اس خطے کو پاکستان کا اہم حصہ کہتے ہوئے بھی نہیں تھکتے۔ہمیں حیرانگی اس وقت ہوتی ہے جب حکمران اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لیے اپنے موقف تبدیل کرتے رہتے ہیں ، حال ہی میں ملک کے وزیر اعظم کو گلگت بلتستان کونسل کی طرف سے بریفنگ دی گئی تو جناب نے گلگت بلتستان کو ملک کااہم حصہ قرار دیا جبکہ اس سے پیشتر اسی حکومت کے وزیر اطلاعات نے اپنے بیان میں اس خطے کو پاکستان کو حصہ ماننے سے انکارکیا تھا۔ ہر دو میں حکومتی ذمہ داران کے اس قسم کے رویوں نے یہاں کے عوام میں ناامیدی اور مایوسی میں اضافہ کیا۔ورنہ اس خطے کو آئینی حقوق دئیے جائیں تو متعدد قانونی طریقے موجود ہیں۔ ان میں سب سے پہلے اس خطے کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ملک کے دیگر حصوں کی طرح مکمل صوبائی خودمختاری دی جائے، دوسرا اگر یہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کی طرح ہے تو ان کی طرح قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی دی جائے اور مقامی سطح پر ضروری سیاسی اور انتظامی اصلاحات عمل میں لائی جائے، اور اگر یہ بھی نہیں ہوسکتاتو کم ازکم کشممیر کو جتنے حقوق حاصل ہیں وہی دیے جائیں تاکہ عوام میں موجود مایوسی ، بے یقینی اور احساس کمتری کو کم کیا جاسکے۔ستم ظریفی تو یہ ہے کہ اس نیم خودمختار اور غیر آئینی صوبہ گلگت بلتستان کا جو کم وبیش ۲۸ ہزار مربع میل پر مشتمل ہےنہ کوئی آئین ہے اور نہ آئین ساز خودمختار ادارہ ، نہ سپریم کورٹ، نہ قومی اسمبلی میں نمائندگی ہے اور نہی سینیٹ میں نمائندگی ۔ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر ہے ، یہاں نہ میڈیکل کالج ہے اور نہ کوئی انجنئیرنگ کاادارہ، مناسب تعلیمی سہولیات نہ ہونے کے باوجود یہاں کے شرح خواندگی ملک کے دیگر صوبوں سے کئی گنا زیادہ ہے، یہاں کے لوگ پرامن ، مذہب اور مہمان نوازی میں اپنی مثال آپ ہیں ، اسی وجہ سے دنیا جہاں سے سال کے چار مہینے مئی ،جون، جولائی اور اگست یہ علاقہ ملکی اور غیر ملکی سیاحوں سے بھرا رہتاہے۔ دنیاکی دوسری بلند چوٹی کے ٹو، دنیا کی سب سے بلند اور برفانی محاذ سیاچن ، دنیا کی چھت کہلانے والا بلند ترین ہموار میدان دیوسائی( (Deosai، کوہ ہمالیہ، قراقرم وہندوکش جیسے بلندو بالا پہاڑی سلسلے ، چشموں ، آبشاروں ، ندی نالوں، دریاوؤں ، جھیلوں ، جنگلات، سرسبزو شاداب میدانوں، خوبصورت سیرگاہوں اور معدنیات سمیت قدرت کابے نظیر حسن اور خزانے اور سیاحت کے بے شمار مواقع قدرت نے ودیعت کئے ہوئے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے حکومت یہاں کی شہریوں کو بے جا قسم کے مقدمات میں الجھانے اور تنگ کر نے کے بجائے مکمل تحفظ دیاجائے اور لوگوں میں موجود مایوسی کو محرومی میں نہ بدلاجائے۔ گلگت بلتستان کے لوگ وطن کے ساتھ محبت کرنے والے اور وطن کی خاطر قربانی دینے والے لوگ ہیں ۔ اور اگر حکومت چاہے تو یہاں کے قدرتی وسائل سےبھی بھرپوراستفادہ کیا جاسکتا ہے ،اس طرح یہ علاقہ ملک کی معیشت اور ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند کام آسکتا ہے۔

About admin

One comment

  1. عارف حسین فیروزی

    ھم تب تک آزاد نھیں ھونگے جب تک ھم خود یہ نہ مانے کہ ھم آزاد ھیں. پر شرط ذرا سی ھے, تحریری حدود کو پار کر کے عملی حدود میں آنا ھوگا. Best Of Luck

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc