گلگت بلتستان کے نوجوانوں کے نام کھلا خط. تحریر : طالب حسین

گلگت بلتستان کے باشعور اور غیور نوجوانو اسلام علیکم جیسا کہ بہ خوبی احسن آپ تمام کے علم میں ہے کہ گلگت بلتستان تاریخ کے نازک اور اہم ترین دور سے گزر رہا ہے.دنیا کے اہم ترین کایا پلٹ اقتصادی منصوبے سی پیک کو عملی جامہ پہنایا جارہا ہے اور ہمارا خطہ اس کا سرچشمہ ہے.مگر جس طرح سے ہم اپنے زور بازو پر آزادی حاصل کر کے بلا مشروط وطن عزیز پاکستان میں شامل ہونے کے باوجود تقریباً ستر سالوں سے بے آئین چلے آرہے ہیں ایسے میں بجائے اس کے کہ ہمیں بھی اس عظیم اقتصادی منصوبے کے فوائد و ثمرات سے مستفید کیا جائے ہماری شناخت ہی مسخ کی جارہی ہے.اور ہم اس عظیم راہداری منصوبے میں محض تماشائی کا کردار ادا کریں گے اور یہاں سے گزرنے والے کنٹینروں کا دھواں اور اڑتی دھول ہی ہمارا مقدر ہوگی.ستم بالا ستم تو یہ ہے کہ یہاں کے عوام اور حکومتِ چین کے شدید دباؤ کے باوجود بھی موجودہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان کو باقاعدہ آئینی دھارے میں شامل کرنے سے یکسر انکار کر رہی ہے.رہی بات گلگت بلتستان کی موجودہ حکومت کی تو اس کا تو یہ حال ہے کہ کچھ عرصہ قبل چین میں ہونے والے اہم ترین اجلاس میں بری طرح نظر انداز کئے جانے کے باوجود ہمارے نام نہاد عوامی نمائندے شترمرغ کی طرح ذاتی مفادات اور مراعات کی ریت میں سر دبائے بیٹھے ہیں.صرف یہی نہیں بلکہ یہاں کی عوامی زمینوں پر خالصہ سرکار کے نام پر قبضہ اور اسلام آباد کا بدنام زمانہ سکینڈل چیخ چیخ کر ان کی بے غیرتی,نااہلی,حرص و ہوس اور مفاد پرستی کی داستانیں سنا رہا ہے.گلگت بلتستان کے باشعور نوجوانو آپ کو یہ بھی یاد ہوگا سینئر وزیر نے آپ کو ریت اور بجری نکالنے کا مفت مشورہ صادر فرمایا تھا اور سکردو میں رضاکارانہ طور ہر ٹوٹی سڑکوں کی مرمت کرنے والے خدمتِ انسانی کے جذبے سے سرشار نوجوانوں کو بے شرم کہا تھا. نوجوان کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں اور دنیا کی تاریخ میں انقلابی تبدیلیوں میں نوجوانوں نے ہر اول دستے کا کردار ادا کیا ہے۔اور کسی بھی انقلاب اور حقوق کی جنگ میں انکا کلیدی کردار ہوتا ہے۔کیونکہ نوجوانوں میں بھر پور امنگ، جوش و خروش،طاقت و توانائی کام کی لگن اور آگے بڑھنے کا جذبہ بدرجہ اتم موجود ہوتا ہے۔تو کیا ایسے میں ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش جیسے عظیم پہاڑی سلسلوں کے دامن میں رہنے والے بلند حوصلہ اور باشعور نوجوانوں کا مستقبل ریت اور بجری نکالنا ہے۔
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے
خدا کے واسطے اے نوجوانو ہوش میں آو۔۔
دلوں میں اپنے غیرت کو جگا دو جوش میں آو۔۔
آج تک گلگت بلتستان کو حکمران تو بہت ملے مگر ہماری قوم کسی رہنما کو ترستی رہی۔ترقیاتی کاموں کی اہمیت اپنی جگہ مگر بنیادی حقوق اور اجتماعی شعور ہی قوموں کی اصل زندگی ہوتی ہے۔
گلگت بلتستان کے نوجوانو ذرا ستر سالہ تاریخ پر غور کرو بہت سے بھاری مینڈیٹ والے جمہوری دور آئے کئی مطلق العنان آمر گزرے مگر مجال تھی کہ کوئی گلگت بلتستان کو آئینی حقوق دیتا یا کم از کم ایک اس ضمن میں ایک قدم ہی آگے بڑھاتا یہ تو درکنار کسی کو اس معاملے میں سوچنے کی بھی توفیق نہیں ہوئی۔اب ذرا دوسری طرف تدبر کریں ذوالفقار علی بھٹو شہید نے اس زمانے میں اس گمنام علاقے کا درد محسوس کیا یہاں کی محرومیوں کو سمجھا کیونکہ وہ عوامی نبض شناس، دور اندیش اور صاحب بصیرت رہنما تھے انہوں نے ایف سی آر اور راجگیری جیسے ظالمانہ اور جابرانہ قوانین کا خاتمہ کیا اور یہاں کے عوام کو اپنے حقوق کے لئے سوچنے،سمجھنے اور آواز بلند کرنے کا شعور بیدار کیا۔یہ گلگت بلتستان کے حقوق کی طرف پہلا قدم تھا۔اسکے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے گلگت بلتستان کے حقوق کی طرف دوسرا قدم بڑھایا اور ایک سیاسی سیٹ اپ دے کر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرائے جس سے یہاں کے عوام میں نہ صرف سیاسی شعور پختہ ہوا بلکہ قومی سطح پر بھی اس علاقے کی پہچان بن گئی۔اسکے بعد سابق صدر آصف علی زرداری نے شدید ترین عالمی اور ملکی دباؤ کے باوجود تیسرا اور نہایت اہم قدم بڑھاتے ہوئے سلف گورننس آرڈیننس کے ذریعے نیم صوبائی سیٹ اپ دیا جس میں قانون سازی کے ساتھ ساتھ بھرپور اختیارات بھی تفویض کئے اور اس بے نام علاقے کو گلگت بلتستان کے نام سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر شناخت دی۔اور پیپلز پارٹی کی جانب سے کی جانے والی انہی اصلاحات کے تسلسل کا ثمر ہے کہ آج گلگت بلتستان کے عوام باقاعدہ آئینی دھارے میں شامل ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔یہاں یہ بات نہایت حوصلہ افزا اور قابلِ قدر ہے کہ پیپلز پارٹی کے نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے معاملے میں بلکل واضح موقف رکھتے ہیں اور انہوں نے متعدد بار برملا اظہار بھی کیا یے کہ گلگت بلتستان کو باقاعدہ آئینی دھارے میں شامل کیا جانا لازمی ہے اور انشاءاللہ بلاول بھٹو ہی گلگت بلتستان کو باقاعدہ آئینی صوبہ بنائیں گے۔اس سلسلے میں پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے قافلہ سالار امجد ایڈوکیٹ گلگت بلتستان کے حقوق کے علمبردار کی حیثیت سے ابھرے ہیں۔انہوں نے تحریک حق ملکیت اور حق حاکمیت کے ذریعے گلگت بلتستان کے عوام کو نہ صرف سیاسی بلوغت تک پہنچایا ہے بلکہ اپنے مدلل،فکر انگیز،دوٹوک اور دلیرانہ افکار و نظریات اور عمل سے گلگت بلتستان کے نوجوانوں کی پژمردہ فکر کو جلا بخشا ہے اور گلگت بلتستان کے عوام کی امیدوں اور امنگوں کا مرکز و محور اور نجات دہندہ بن کر ابھرے ہیں اور گلگت بلتستان کی سیاسی تِیرگی میں مثلِ اخترِ سحر روشن ہوئے ہیں۔گلگت بلتستان کے باشعور نوجوانو آگے بڑھو اور حقوق کی جنگ میں پیپلز پارٹی کے سنگ شامل ہو کر اپنی ستر سالہ محرومیوں کا ازالہ کرنے کا سنہرا موقع ہاتھ سے جانے مت دو۔بقول شاعر
شریک جرم ہی ہوگا جو اب رہا خاموش۔۔
قسم خدا کی یہ مٹی وفا کو ترسے گی۔۔
ورنہ ہم سب ہاتھ ملتے رہ جائیں گے اور ڈوگروں سے آزادی حاصل کرنے والے شہدا اور آنے والی نسلوں کے مجرم ہونگے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc