وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا دورہ سکردو.. پس پرد ہ ہدف کیا تھا؟ تحریر: محمد حسن جمالی

رواں ہفتہ پاکستان کے وزیراعظم جناب شاہد خاقان عباسی صاحب نے خطہ بے آئین گلگت بلتستان کا دورہ کیا۔ ان کی اپنی پارٹی کے افراد نے پورے جوش و خروش سے ان کا پرتپاک استقبال کیا، نہایت احترام سے انہیں جلسہ گاہ میں لے جایا گیا، البتہ توقع کے برخلاف وزیراعظم صاحب عوامی اجتماع سے خطاب نہیں کرسکے چونکہ نااہل قرار پانے والے سابقہ وزیراعظم جناب نواز شریف نے گلگت بلتستان کے مسائل پر بالکل بے توجہی کرکے اہلیان گلگت بلتستان کو خفا کررکھے تھے جس کی وجہ سے ان کے نائب وزیراعظم جناب شاہد خاقان عباسی کی تشریف آوری سے قبل ان کے چہیتوں اور پارٹی کارکنوں کے پورا اہتمام کرنے کے باوجود وہ عوام کو جمع کرکے عوامی اجتماع تشکیل دینے سے قاصر رہے اس سے یہ شہ ضرور ملا کہ گلگت بلتستان والے مسلم لیگ ن کی حکومت سے بہت نالاں ہوچکے ہیں اور پہلے کی نسبت عوام میں مجموعی طور پر شعور کسی حد بیدار ہوچکا ہے۔ بہر صورت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ آنجناب کا قریب سے دیدار کرنے اور خطاب سننے کے لئے اپنی تمام تر مصروفیات چھوڑ کر تقریب گاہ پہنچ گئے۔مقررہ وقت پر وزیر اعلی گلگت بلتستان سمیت ایوان بالا کے چیدہ افراد کی جھرمٹ میں وزیر اعظم صاحب اجتماع میں پہنچ گئے اور سٹیچ پر تشریف لے جاکر عوام سے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں اہالیان گلگت بلتستان کے کچھ بنیادی مسائل کو اپنی گفتگو کا محور قرار دیا اور اپنے ماسلف حکمرانوں کی سنت کو دوام بخشتے ہوئے انھوں نے بھی جی بی عوام کو بہت سارے سبز باغ دکھائے، طرح طرح کے ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح اور تکمیل کرنے کی نوید سنائی۔ انہوں نے اپنے دست مبارک سے بلتستان یونیورسٹی کا ایک بار پھر افتتاح کیا، بشمول اس افتتاح کے پانچ سے زیادہ بار اس یونیورسٹی کا افتتاح ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ اور بہت سارے وعدہ وعید کئے, یوں بزعم خود جی بی عوام کے جلسہ میں موجود افراد کو خوش کرکے وزیراعظم صاحب واپس لوٹے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی اس دفعہ نئے وزیراعظم صاحب کے دل میں گلگت بلتستان کی عوام کے لئے نرم گوشہ پیدا ہوگیا ہے؟ کیا سکردو کے اس دورے پر وزیراعظم صاحب کو درد دل نے کھینچ لایا تھا؟ کیا جو وعدے انہوں نے اجتماع میں عوام سے کئے ہیں وہ پورے بھی ہوں گے؟ کیا اس دفعہ جن اہم منصوبوں کے افتتاح یا تکمیل کی خوشخبری انہوں نے جی بی عوام کو سنائی ہے ان کا افتتاح ہونا یا تکمیل ہونا قطعی ہے؟
ہمارا خیال یہ ہے کہ یہ سارے وعدہ وعید مثل سابق صرف قول کی حد تک ہی محدود رہیں گے۔ انہیں عملی جامہ نہیں پہنایا جائے گا۔ ان کے اس دورے کا مقصد فقط اپنی پارٹی کے مفادات کی تکمیل تھا۔ سکردو کا دورہ کرنے کا ہدف یہ تھا کہ آئندہ ہونے والے الیکشن میں عوام کو ایک بار پھر مختلف قسم کے سبز باغ دکھاکر ابھی سے ہی انہیں اپنی طرف جذب کرلیں اور ان کی ذہنیت کو اپنی پارٹی کی طرف مائل کریں۔ ہمارے حکمرانوں کا شروع سے ہی یہ وتیرہ رہا ہے کہ جب بھی الیکشن کا وقت نزدیک آتا ہے تب انہیں عوام اور عوامی مسائل اچھی طرح یاد آجاتے ہیں۔ اس دوران میں وہ جگہ جگہ جاکر تقریبات میں عوام سے پوری دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں، ان کی ضروریات پوری کرنے کی یقین دہانی کراتے ہیں، ان کے ہر مطالبے کو حل کرنے کا وعدہ کرتے ہیں، ان کی مشکلات کو جلد از جلد دور کرنے کی امید دلاتے ہیں، لیکن جب عوامی ووٹ کے ذریعے وہ اقتدار تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو وہ بے چارے عوام کے مسائل کو یکسر فراموش کر بیٹھتے ہیں۔ شعور کی کمی کے باعث بار بار کے ناکام تجربات حاصل ہونے کے باوجود ہماری عوام حکمرانوں کی عوام فریبی کی سیاست کے دام میں پھنسنے سے محفوظ نہیں رہتے۔
اگر وزیراعظم صاحب واقعا گلگت بلتستان کے ساتھ مخلص ہیں تو ہمارا سب سے اہم اور دیرینہ مطالبہ ہماری آئینی حیثیت کا تعین ہے۔ اسے پورا کیوں نہیں کیا جاتا؟ اگر ہمارے حکمرانوں کی نظر میں گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہیں ہے تو الیکشن کے نزدیک وہ خطہ بے آئین کا دورہ کرنے کی زحمت کیوں اٹھاتے ہیں؟کیوں مختلف قسم کے سبز باغ دکھاتے ہوتے یہاں کے عوام سے ووٹ مانگتے ہیں؟ کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے؟ الیکشن کے نزدیک سبز باغ دکھاکر عوام کو بے وقوف بنانے کا سلسلہ خطہ بے آئین میں شروع سے چلا آرہا ہے، حالیہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا دورہ سکردو بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس میں دورائے نہیں ہوسکتی۔
اب اہالیان گلگت بلتستان کے لئے آنے والا الیکشن ایک بڑا امتحان ہوگا۔ جس میں اپنی کامیابی اور ناکامی کا ایک بار پھر فیصلہ ان کا ووٹ کرے گا، انہیں چاہیے کہ ابھی سے ہی اپنے ووٹ کے لئے لائق باصلاحیت اور قابل شخص کی تلاش میں رہیں۔ یہی وہ حساس وقت ہے جس میں عوام کی مرضی اور اختیار چلتا ہے۔ ووٹ دے کر اپنے لئے نمائندہ منتخب کرنے کے بعد پھر اگلے پانچ سال کے لئے عوام بے بس ہوتے ہیں۔ پانچ سال کے لئے اپنی تقدیر بنانے اور بھگاڑنے کا اصلی محرک عوامی ووٹ ہے، جس کا ایک بار پھر عوام کو موقع ملنے والا ہے۔ پس ضروری ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام سوچ سمجھ کر اپنے ووٹ کے لئے شخص کا انتخاب کریں۔ سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والوں کی غلط کنونسینگ سے متاثر ہوکر اندھی تقلید کا شکار نہ ہوجائیں۔ جذبات میں آکر اپنے قیمتی ووٹ کو ضائع کرکے بعد میں پشیمان ہونے کا کوئی فائدہ نہیں۔ لہذا ابھی سے ہی اپنی عقل سے رہنمائی لیتے ہوئے قومی مفادات کے لئے کام کرنے والے افراد کو اپنے لئے نمائندہ انتخاب کرنے پر مشورے اورگفتگو کرکے متفق رہیں ۔ ابھی سے ہی آپ مختلف پارٹیوں اور ان کی قیادت کے سابقہ ریکارڈ چیک کریں اور دیکھئے کہ گلگت بلتستان کی عوام کے لئے کس کی کارکردگی اچھی رہی ہے۔ آپ ابھی سے ہی اس بات کا جائزہ لیتے رہیں کہ ماضی میں کس نے گلگت بلتستان کی ترقی کے لئے کوشش کی ہے اور کون اقتدار پر براجمان ہونے کے بعد گلگت بلتستان کے مسائل اور مشکلات سے لاتعلق رہے ہیں۔ اب تک کے تجربات کو سامنے رکھ کر اس پر غور و غوض کرنا ہرگز نہ بھولیں۔ اگر اچھے نمائندے کے انتخاب میں اہالیان گلگت و بلتستان کامیاب ہوئے تو یقین جانیے کہ گلگت بلتستان کے سارے مسائل ہوں گے۔ یونیورسٹی بھی بنے گی۔ روڈ بھی بنے گا اور دوسرے فلاحی وترقیاتی امور پر کام شروع ہونا بھی یقینی ہوگا۔ کیا گلگت بلتستان کے عوام اس کام کے لئے حاضر ہیں ذرا سوچیں لمحہ فکریہ ہے۔ کیونکہ زندہ قومیں اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرتی ہیں۔

About admin

One comment

  1. Muhamad Hassan Hassni

    Masha Allah jamali saheb bht acha lekhtey h ap khuda ap k ilum or shoor me mazeed ezafa farma

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc