سماجی آذادی۔ تحریر محمد ابراہیم آخوندی

لفظ آذادی سے کیا مراد ہے ؟دنیا میں تمام موجودات آذادی کا محتاج ہے خواہ وہ انسان ہو یا حیوان بہر کیف آذادی کا محتاج ہے۔البتہ انسان اور حیوان کی آذادی میں خاصہ فرق نظر آتا ہے،ہرزندہ موجودات کی خاصیت یہ ہوتی کہ وہ نشوونما پاتا ہے اور ترقی کی راہ طے کرتا ہے یعنی ہر زندہ موجودات منجمد سے استثناہے اور اس حال میں پڑانہیں رہتا۔جمادات چونکہ ان میں ارتقا اور نمو نہیں ہوتا اس بنا پر انہیں آذادی کی ضرورت نہیں ہوتی جبکہ انسان کے لیئے آذادی لازم ہے ۔
مرتضی مطہری اپنی کتاب میں لکھتا ہے لفظ آذادی یعنی رکاوٹ کا نہ ہونا ،آذاد انسان ،وہ انسان ہوتے ہیں جو اپنی نمو اور ارتقا کی راہ میں حائل رکاوٹوں سے مقابلہ کرتے ہیں وہ ایسے انسان ہوتے ہیں جو رکاوٹوں کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیک دیتے ،آذادی صرف راہ میں رکاوٹوں کا حائل ہونا نہیں بلکہ ان رکاوٹوں اور مشکلات سے مقابلہ کرنا ہے ۔سماجی آذادی یعنی انسان کو معاشرے میں ترقی یا ارتقا کی راہ میں دوسر ے افرادِ معاشرہ کی طرف سے رکاوٹ نہ ہو ،دوسر ے اس کے نمو اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہ ہو ،اسے قیدی نہ بناد یں اس کا راستہ نہ روکیں ،اسے اپنا غلام ،خادم بنا کر ترقی کی منزلیں طے کرنے میں رکاوٹ نہ بنے یعنی انسان فکری اور جسمانی دونوں صورتوں میں آذاد ہوتا ہے اگر ان دونوں صورتوں میں انسان آذاد ہے تو پھر آذادی کا نا م لینابجا ہے ۔آج ہم آذادی کی بات کر رہے ہیں کیا ہم ان تمام لوازمات سے آذاد ہے ؟ہماری سوچ،فکر آذاد ہے ؟کیا ہم فکری اور جسمانی دونوں صورتوں میں آذاد ہے ؟آج ہم گلگت بلتستان کی آذادی منارہے ہیں ،گلگت بلتستان ڈوگرہ راج سے آذاد تو ضرور ہواہے اس میں کوئی شک وشبہ کی بات نہیں اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کیا جا سکتااگر آج ہم گلگت بلتستان کی آینئی حقوق کی بات کر ے تو یہ سوال ہمارے ذہنوں میں آتے ہیں کہ ہم کس آینئی حقوق کی بات کر رہے ہیں ؟کیا ہمیں سماجی حقوق حاصل ہے ؟کیا ہم فکری اور جسمانی طور پر آذاد ہے ؟ہماری فکر ،ہماری سو چ ابھی تک آذاد نہیں ہے پھر کس آذادی کی بات کر رہے ہیں ؟جب تک ہم فکری ، جسمانی اور سماجی طور پر آذاد نہیں ہونگے اسوقت تک آذادی کی بات کرنا بے قدرو قیمت ہے آج طاقت ور افراد اپنے قوت وطاقت کے بل بوتے پر غلط فائدہ اٹھاتا ہے ،ضعیف اور کمزور افراد کو اپنا غلام ،خادم بنالیتا ہے آج دنیا میں جتنی بھی خونریزیوں اور جنگوں کی اگر بات کی جاے تو اس کا علت علل یہ ہے کہ معاشرے میں بسنے والے افراد ایک دوسرے کے سماجی آذادی کا خیال و احترام نہیں کرتے،یہی وجہ ہے کی آج گلگت بلتستان ڈوگرہ راج سے تو یقیناآذاد ہوا ہے لیکن سماجی طور پر آج بھی ہمیں آذادی نہیں ملی ہے جسکی وجوہات انسان کا دوسرے افرادِ معاشرہ کے حقوق کا علم نہ ہونااور سماجی آذادی کو مقدس نہیں سمجھناہے ۔پس تما م افرادِ معاشرہ کو سماجی آذادی کو سمجھنے کی ضرورت ہے جب تک ہمیں سماجی آذادی حاصل نہ ہو اسووقت تک ہمیں معنوی آذادی یعنی باطنی لحاظ سے اور اپنی روح کے اعتبار سے آذادی ممکن نہیں اگر سماجی اور معنوی دونوں اعتبار سے آذاد ہے تو اسے آذادی کا نام دیاجاسکتاہے بصورت دیگر آذادی کے نعرے لگانا بے علم وعمل کے مترادف ہے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc