ہمیں بھی اپنے وطن سے محبت ہے. تحریر: محمد حسن جمالی

ہر انسان اپنے وطن سے محبت کرتا ہے۔ ہر کوئی اپنی مٹی کے مکینوں کو دوست رک?تا ہے۔ ہر ایک کی یہ تمنا اور آرزو ہوتی ہے کہ میرا وطن ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو،میرے وطن کے جوان باشعور ہوں،میرے وطن کا شہر، قصبے اور علاقے پر امن ہوں، میرا وطن علم کی روشنی سے جھگ مگا اٹھے، میرے وطن میں کوئی غریب نہ رہے، میرے وطن میں انصاف کی بالادستی ہو،میرے وطن کے حکمران پڑھے لکھے باصلاحیت ہوں،وہ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھہ اچھی مدیریت، سیاست اور ملک چلانے کی صلاحیت بھی ان میں پائی جاتی ہو،وہ وطن کی خاک اور وطن کے مکینوں سے پیار کرتے ہوں، اپنے ملک کو ترقی کی چوٹی پر دیکھنا ان کی دلی آرزو ہو، میرے وطن میں رہنے والے اتحاد واتفاق اخوت وبھائی بھائی بن کر رہیں،ان میں ایک دوسرے کی جان، مال، عزت اور آبرو کی حفاظت کرنے کی غیرت پائی جائے، ان میں یہ حس طاقتور اور مضبوط درخت کی شکل اختار کرے کہ اسلام ہمارا قلعہ ہے جس کے زیر سایہ آنے والے بہرحال محترم ہیں، ان کی جان سے کھیلنا بالکل جائز نہیں، جزئیات اور چند فروعات میں پائے جانے والے اختلافات کو پہاڑ بنانے کے بجائے وہ اصول مشترکہ کی چھتری تلے جمع ہوجائیں، وہ ایک دوسرے کے عقائد اور نظریات پست افکار کے حامل افراد کی زبانی سننے کے بجائے خود سے تحقیق کرلیں یا ایک دوسرے کے تعلیم یافتہ افراد سے دریافت کرلیں، وہ ایک دوسرے کے مکتب کو گوگل پر سرچ کرکے سمجھنے کی کوشش کرنے کے بجائے ان کے مذہب ومکتب کے اصلی منابع ومآخذ کتابوں کو غور سے پڑھیں اور اس طریق سے دوسروں کے مکتب کو سمجھنے کی کوشش کریں، میرے وطن کی فوج پولیس اور اداروں میں کام کرنے والے افراد ایماندار ہوں،میرے وطن کے اداروں میں افراد کی بھرتی کا معیار علم،قابلیت اور باصلاحیت ہونا ہو، میرے وطن میں عوام کو عزت اور کرامت کی زندگی میسر ہو، میرے وطن میں بڑوں کا احترام اور چھوٹوں سے پیار ومحبت کرنے کا رویہ عام ہو، میرا وطن دہشتگردی، شراب، فحاشیت وعریانیت،منافقت، چاپلوسی،رشوت ربا، ناانصافی، ظلم وبربریت، انا پرستی،خود خواہی،مفاد پرستی جیسی لعنتوں سے پاک ہو، میرے وطن کا پڑھا لکھا طبقہ حق اور باطل کی پہچان،اہل حق واہل باطل کی شناخت علمی دلیل کی بنیاد پر حاصل کرے،میرے وطن کے تعلیمی اداروں میں نونہالوں کو علم کی روشنی کے ساتھ تربیت اسلامی کی غزا بھی ملے، میرے وطن کے تعلیمی درسگاہوں میں بچوں کو رسمی تعلیم کے ساتھ فکری مضبوطی کا انتظام بھی ہو،میرے وطن میں حقوق دیہاتی اور شہری تفریق کے بغیر سب کو مساوی طور پر ملیں۔ ہر پاکستانی کے دل میں یہ خواہشیں موجزن ہوتی ہیں.مگر جب وطن عزیز پاکستان کی موجودہ صورتحال پر نظر کرتے ہیں تو ہر طرف سے ہمیں مایوسی کا منہ دیکھنا پڑتے ہیں ۔وطن کی باگ ڈور ایسے افراد کے ہاتھوں میں ہے جنہیں نہ وطن کی فکر ہے اور نہ ہی اس کے مکینوں کی۔ انہیں نہ پاکستانی جوانوں کے مستقبل کی سوچ ہے اور نہ ہی ملک کی ترقی کی۔ ہاں جس چیز کی فکر ان کے ہمیشہ دامنگیر رہتی ہے وہ اپنے مفادات کی فکر ہے۔ اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کی سوچ میں تو وہ صبح شام غرق رہتے ہیں مگر قومی مفادات کے لئے منصوبہ بندی کرکے پاکستانی قوم کو رفاہ اور آسائش سے بھرپور زندگی فراہم کرنے کے بارے میں سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔
وطن عزیز میں مفاد پرست افراد برسر اقتدار ہونے کی وجہ سے قوم کا حال اور مستقبل تاریک ہوتے جارہے ہیں۔ ملک کی ثروت اور دولت چند خاندان کی عیاشی میں صرف ہورہی ہے مگر بے چارے عوام روزبروز بڑ?تی مہنگائی کی وجہ سے پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ حقوق کی تقسیم کی بات کی جائے تو پاکستان میں علاقائی, رنگ اور زبان کی تعصبات کی بنیاد پر حقوق تقسیم ہوتی ہیں۔ جب حقوق کی بات آئی تو مجھے پاکستان کو اپنی جانوں سے ذیادہ عزیز رکھنے والے گلگت بلتستان کے وہ لوگ یاد آئے جنہیں انصاف اور برابری کی بنیاد پر حقوق ملنا تو درکنار, پاکستانی حکمران گلگت بلتستان کو پاکستان کا حصہ قرار دینے سے بھی انکاری ہیں۔ ابھی تک حقیقی معنوں میں وہ اس بات پر یقین نہیں رکھتے ہیں کہ خطہ گلگت بلتستان پاکستان کا ایک اہم خطہ ہے, اگر چہ وہ یہ ضرور جانتے ہیں کہ جب بھی پاکستان پر کڑا وقت آیا گلگت بلتستان کے جوانوں نے ساتھ دیا ۔کرگل جنگ میں بے شمار جوانوں نے اپنے لہو پاکستان کی حفاظت کی راہ میں پیش کیا ۔ بلتستان کے غیور لوگوں نے کرگل محاذ پر پاکستان کے اصلی دشمن بھارت کے غنڈوں سے لڑنے والی پاک فوج کی ہر طرح سے مدد کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ یہ بات جو لکھنے جارہا ہوں کوئی سنی سنائی بات نہیں اور نہ ہی یہ کسی کتاب میں لکھی ہوئی کہانی نقل کر رہاہوں بلکہ یہ بات حقیقت پر مبنی ہے اور اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوا حال ہے۔ جس وقت کرگل جنگ عروج پر تھی بندہ اپنے گاؤں کھرمنگ کندرک میں تھا۔ ہندوستان کی طرف سے ہرروز گولے داغے جاتے تھے۔ ٹھیک چار بجے گولہ باری شروع ہوتی۔ وقفہ وقفے میں گولے چلتے۔ کبھی تو پانچ چھے گولے ہر دو تین منٹ کے بعد ہمارے گاؤں کے پہاڑوں پر لگتے اور ہمارے گاؤں سمیت کرگل محاز ایریاز کے باشندوں نے پہاڑوں کے نیچے اپنی مدد آپ کے تحت غاریں بناکر گولہ باری شروع ہونے سے پہلے یعنی چار بجے سے پہلے ان غاروں میں اپنے بال بچوں کو لے کر پہنچ جاتے۔ یہی غاریں لوگوں کی واحد پناگاہ ہوتی تھیں۔ چنانچہ ہمارے گاؤں کے کچھ جوان غار کے دروازے پر بیٹھ کر پہاڑوں سمیت اونچے مقامات پر لگنے والے اور کھیتوں و گاؤں پر گرنے والے گولے گنتے رہتے۔ آٹھ سے لیکر دس گولے ہمارے گاؤں کے اطراف میں آگرنا روز کا معمول تھا۔ اس سے ہمارے کرگل محاز ایریاز کے لوگوں کی فصلیں تباہ ہوئیں، مویشیوں اور درختوں کو شدید نقصان پہنچا۔ ہمارے شہر سکردو سے متصل سڑکیں اور راستے کئی ہفتے بند رہے جس کے سبب اشیاء خورد ونوش کی ترسیل کا سلسلہ بالکل منقطع رہنے کی وجہ سے عوام کو بڑی پریشانیاں ہوئیں۔ اس کے علاوہ بہت ساری مشکلات سے ہمارے کرگل محاز ایریاز کے لوگوں کو سامنا کرنا پڑے اور انتہائی بے سروسامانی میں عوام نے رات دن گزارے۔ لیکن راقم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اتنے سارے مسائل اور مشکلات میں گرفتار رہنے کے باوجود لوگوں کے محاز پر جنگ میں مصروف پاک فوج سے محبت اور ہمدردی کا عالم یہ تھا کہ گھروں میں کچھ نہ ہونے کے باجود ہر گاؤں سے لوگوں نے بحسب استطاعت کھانے پینے کی چیزیں جمع کیا، چندے جمع کئے۔ ہر گاؤں سے ایک ذمہ دار شخص کو معین کیا گیا اور جمع شدہ کھانے پینے کے اشیاء کو اس کے حوالے کرکے محاز پر پاک فوج کے لئے ارسال کیا گیا، جن میں قابل ذکر چیزیں یہ تھیں آٹا گھی، اخروٹ، خشک خوبانی، بادام اور دوسری چیزیں۔
اور یقین کیجئے یہ چیزیں لینے کے لئے جو ذمہ دار افراد گھروں میں جاتے ہر کوئی خوشی اور مسکراہٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے جو چیز اپنے پاس ہوتی اسے ذمہ دار افراد کو دیتے اور ساتھ ہی پاکستان کی فوج کی کامیابی وسلامتی اور استحکام پاکستان کے لئے دعائیہ جملے اپنی زبان پر جاری کرتے، اسی سے اندازہ کریں کہ گلگت بلتستان والے پاکستان سے کس قدر محبت کرتے ہیں، یہ تو بطور نمونہ لکھا ہے اسی طرح جو فداکاریاں اور قربانیاں پاکستان کی سلامتی اور اس کی محافظت کی راہ میں گلگت بلتستان کے غیور جوانوں نے پیش کی ہیں وہ بہت ذیادہ ہیں۔ گلگت بلتستان کے تقریبا تمام مساجد امام بارگاہوں اور مختلف مذہبی وغیر مذہبی پروگراموں میں لوگ استحکام پاکستان کے لئے ضرور دعا کرتے ہیں, گلگت بلتستان پاکستان کے لئے قدرتی دفاعی حصار بھی ہے۔ قدرتی حسن و خوبصورتی کے علاوہ دنیا کے بیش قیمت معدنی دولت کے ذخائر سے یہ علاقہ مالا مال ہے۔ مگر ہماری حکومت نے شروع سے اب تک گلگت بلتستان کو نظر کرتی آرہی ہے، الیکشن کے دوران گلگت بلتستان کے عوام سے ہمارے حکمران بالواسطہ یا اپنے نمک خواروں کی وساطت سے طرح طرح کے وعدے کرتے ہیں، ترقی کے خواب دکھاتے ہیں مگر بعد میں وہ ان کو نہ صرف بھول جاتے ہیں بلکہ یہ ماننے کے لئے بھی وہ ذہنی طور پر تیار نہیں ہوتے ہیں کہ گلگت بلتستان والے بھی پاکستانی شہری ہیں، اس سے بڑی ناانصافی اور کیا ہوسکتی ہے ۔
گلگت بلتستان والے اپنے وطن عزیز پاکستان کو بہت چاہتے ہیں ان کی زبان پر ایک ہی شعار ہے کہ ہمیں بھی اپنے وطن سے پیار ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے حکمران گلگت بلتستان کے آئینی حیثیت کی تعیین میں مزید تاخیر نہ کریں۔ گلگت بلتستان کو بھی قومی دہارے میں شامل کرکے دوسرے صوبوں کی طرح اسے بھی حقوق دینے میں لیت ولعل سے کام نہ لیں۔ گلگت بلتستان کے عوام کو صرف وعدوں سے خوش رکھنے کی سوچ سے بالاتر ہوکر اس کی ترقی کے لئے اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کریں۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc