یکم نومبر 1947کی آذادی کے بعد گلگت بلتستان میں عبوری ریاستی نظام کی تشکیل کیلئے کس نے کیا کردار اْدا کیا اور کون اس نظام کے خلاف سازشوں میں ملوث تھے، سب پتہ چل گیا۔

اسلام آباد( خصوصی رپورٹ) انقلاب گلگت بلتستان کے روح رواں فاتح گلگت بلتستان کرنل مرزا حسن خان اپنی کتاب شمشیر سے زنجیر تک میں طلوع آذادی کے بعد عبوری حکومت کی تشکیل کے حوالے کچھ یوں بیان کرتے ہیں( میں شاہی گروانڈکے جھمیلے سے نکل کر سکاوٹ لائن میں آئے تو کرنل کمانڈنگ کے بنگلے میں سب افسر اور گلگت کے معززین جمع تھے اُنہیں جیسے چُپکے سے کسی نے دعوت دیکر بُلایا گیا تھا یہی حال پریڈ گرونڈ کا بھی تھا جو کہ لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ مجھے کہا گیا کہ مجلس مشاورت یا انقلابی کنونشن کی ہنگامی میٹینگ تھی جو عبوری حکومت کی تشکیل کیلئے بلائی گئی تھی۔کمرے میں داخل ہوا تو جملہ حاضرین کے درمیان انگریز افسر بھی مدعو تھے۔ میرے رفیق اس کار خیر میں اپنا ہاتھ بٹانا چاہتے تھے اور اپنے مہرے آگے لانا چاہتے تھے۔ علاقہ بھر کے کرم فرماوں کی اس بڑی بن بلائی غیرنمائندہ جماعت میں نے کبھی پہلے نہیں دیکھی تھی۔ہرابولہوس اس میں مدعو تھااور اگر موجود نہ تھے تو صرف بونجی گیریژن کے انقلابی افیسر،جو کچھ تو بھوپ سنگھ والی پڑی میں مورچے سنبھالے ہوئے تھے اور کچھ خود بونجی میں محمد خان جرال اور نادر علی خان کے ماتحت میرے انتظار میں رہ گئے تھے۔ انگریز اس میٹینگ میں بڑھ چڑھ کر بول رہے تھے اور باقی اُنکے ہاں میں ہاں ملائے جارہے تھے کیوں نہ اسکاوٹ افیسر تو اس تربیت میں پل کر جوان ہوئے تھے۔ میرے لئے اخلاقی چیلنج تھا کہ اکیلا کس طرح اس جمہوری علم پر ردعمل کرتا ہوں۔وہ ہنزا کے مرحوم میر جمال خان صاحب کو اس عبوری حکومت کی صدرات پیش کرنا چاہتے تھے۔۔ بس یہ تھی اُنکی تمنا اور اُنکی دعا،اگر اس تجویز پرعمل ہوتا تو صرف انگریز اور میروں کے لواحقین کا بھلا ہوتا۔تمام علاقہ فیوڈل نظام کے تحت آتا اور راقم رفتہ رفتہ پش پردہ چلا جاتا۔کوئی وثوق کے ساتھ نہیں کہہ سکتا تھا کہ اس کے بعد پاکستان کے بارے میں اُن کا کیا رویہ ہوتا کیونکہ میر آف ہنزہ نے اس واقع سے ایک ماہ بعد Instrument of Accession پر دستخط کئے تھے جبکہ اس سے صرف تین ماہ پہلے مہاراجہ کے ساتھ وفاداری کا اعلان بھی کرچُکے تھے۔یہ ایک ماہرانہ منصوبہ اور نامعقول چال تھی جس کی تائید سوائے گلگت کے عوام کے جو باہر گراونڈ میں نعرے مار رہے تھے،کمرے میں موجود سب نے جمہوری طریقے سے کی تھی، راقم نے اسے تدبر سے رد کردیا اور پستول نکالیا اور مرحوم راجہ شاہ رئیس خان جو گلگت کے ہی ایک شریف بزرگ اور راجہ خاندان کے فرد تھے صدربنا دیا۔ اُن سے دیگر میر اور راجے خار کھاتے تھے کیونکہ اُن کے خاندان اور راقم کے خاندان میں قدیم سے تعاون تھا۔سعید دورانی اس انقلابی حکومت میں میرے ڈپٹی مقرر ہوئے لیفٹنٹ غلام حیدرکو ان علاقوں میں پولٹیکل ایجنٹ مقرر کردیا اور بابر سعید درانی کے نیچے کوارٹر ماسٹر مقرر ہوئے،اُنہیں عملا انقلاب کے دوران فوج کو رسل پہنچانے کے مشکل فرائض اُنکی مرضی سونپے گئے تھے اور حاضرین کی اس تجویز کو اُنہوں نے پسند کیا تھا۔ملک اور قوم کی ہمدرد،اس مجلس مشاورت نے میری کسی تجویز کو رد کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی تو مجھے اُن کے دل جوئی کی خاطریہ تجویز ماننی پڑی کہ سول فوجی دونوں معاملات میں دونوں انگریز افسر میرے مشیر ہونگے، جب تک مجلس مشاورت برخاست نہیں ہوئی تھی،میں نے یہ زہر چُپکے سے پی لیااور میٹنگ کے برخاست ہوتے ہی ان دشمنان ملت کو اُن کے بنگلے میں نظربند کردیااور اسکاوٹس ہی کا پہرہ بٹھا دیا تاکہ یادگار رہے۔ راقم حسب سابق مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جو بھی کہیں مقرر ہوئے ،تعجب ہے کہ خود اپنے کاندھوں پریہ بوجھ ڈالتے وقت کسی نے مجھ سے تعرض نہیں کیا۔جیسا کہ عرض کیا ہے اس مجلس مشاورت کا دل رکھنا میرا فرض ہوگیا تھا اس لئے میٹنگ کی برخاستگی کے فورا بعد انگریزوں کی گرفتاری کا حکم دیا، اور اُنہیں اسکاوٹ سرداروں سے گرفتار کروایاجو اُنہیں ساتھ لے آئے تھے اور میرے مشیر مقرر کروا رہے تھے۔ انقلاب بغیرسازشوں کے کامیاب نہیں ہوتے ہیں جانی دوستوں کے آستینوں میں بڑے بڑے سانپ پلتے ہیں سردست کوئی بڑا سانپ ہماری گرفت سے باہر نہ تھا لیکن رینگتے دشمنوں کی کبھی کمی بھی نہیں تھی۔ اس نامعقول مجلس کی ابدی برخاستگی سے پہلے ایک پیغام راقم کی ہی ڈیکٹیشن پر میرے نام نہاد مشیروں نے حکومت پاکستان کو بھیجا تاکہ سول امور میں ہماری مدد کیلئے ارتباطی افسر بیجھ دیں جو ہمارے اور اُن کے درمیان رابطہ رکھنے کا ذریعہ بنے۔ اس سے مدعا گلگت کے عوام کو یہ دکھانا تھا کہ اکیلے نہیں ہیں بلکہ ایک ملک ہماری پشت پر ہے،ہم سب کچھ کشمیر کو اس سے ملانے کیلئے کررہے تھے اپنا کوئی مطلب اس کے سوا کچھ نہ تھا۔ لیکن بعد میں یہ پولٹیکل ایجنٹ عملا ان علاقوں کا مالک بن بیٹھا اور ہماری انقلابی جدوجہد کی تحریک خود بخود دم گھٹ کر رہ گئی۔ اس کے پس پردہ میرے ان دوستوں کا بڑا ہاتھ تھا جو ہر دور سے فائدہ اُٹھاتے رہے تھے، اس کے بعد جب پولٹیکل ایجنٹ آگیا اور راقم گلگت سے دو سو میل دور جنوب میں دشمن سے لڑرہا تھاتو۔۔ اونٹ خیمے میں اور ساربان باہر۔۔۔ راقم کی غیر حاضری میں تمام انقلاب دشمن عناصر نے اتحاد کر لیا اور پولٹیکل ایجنٹ کی حامی بھر کر خوشنودگیاں جیت لی تھء اور اُنہیں اب ملکر اس سر پھرے سے نپٹنا باقی رہ گیا تھا۔ کرنل کمانڈنگ کے بنگلے کے باہر پریڈ گراونڈ میں فضا البتہ راقم کے حق میں تھے۔ عبوری حکومت کے اعلان سے لوگوں میں جوش خروش کا ایک نہ تھمنے والا جذبہ بیدار ہوگیا تھالوگ راقم اور شاہ ریئس کی ذمہ داریوں کا سُن کر بہت خوش تھے لیکن بند کمرے سے باہر نکلنے والوں کے سینوں میں سنانپ لوٹ رہے تھے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ آج گلگت بلتستان میں یوم آذادی تو بڑے پرجوش انداز میں سرکاری سطح پر مناتے ہیں لیکن جنگ آذادی کے اہم کرداروں کی زندگیوں پر روشنی ڈالنے اور اُس آذادی کے خلاف سازشوں میں ملوث عناصر کے بارے میں کچھ لکھنے بولنے سے میڈیا بشمول عوام قاصر نظر آتا ہے یہی وجہ ہے کہ انقلاب گلگت بلتستان کو ہر دشمن گلگت بلتستان نے اپنی مرضی سے پیش کیا اور اس عظیم تاریخی انقلاب کے کرداروں کو پس پشت ڈال کر صرف دن منانے کی حد تک محدود کیا ہوا ہے ۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc