فرقہ واریت کی خاتمے کیلئے کس قسم کے ٹھوس اقدمات اُٹھانے کی ضرورت ہے ،ڈاکٹر وزیر تعمیرات نے حیران کُن فلسفہ پیش کردیا۔

گلگت (نامہ نگار) مہذب معاشروں میں مذہبی انتہا پسندی اور فرقہ واریت کی خاتمے کیلئے عوام کی ذہنی نشونما کی جاتی ہے اورسرکاری سطح پر شعور اور بیداری کیلئے اسلامی اور جدید سائنسی علوم کی پرچار کے ذریعے معاشرتی اور دینی ذمہ داریوں کا احساس دلاتے ہیں۔لیکن بدقسمتی سے گلگت بلتستان کی حکومت آج تک تین مسجدوں کے اماموں کو ایک پلیٹ فارم لانے میں ناکام رہے مگر حکومت نے کبھی اپنی کاتاہیوں کو تسلیم نہیں کیا بلکہ اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے اخبارات میں ایسے ایسے بیانات دیتے ہیں جو آج کے اس تعلیم یافتہ معاشرے میں خود اُن کیلئے شرمندگی کا باعث بنتے ہیں۔
ویسے تو جب سے سی پیک آئی ہے گلگت بلتستان کے حوالے سے بیانیہ تبدیل ہوگیا ہے لیکن وزیر تعمیرات گلگت بلتستان ڈاکٹر محمد اقبال نے میڈیا بریفنگ میں گلگت بلتستان میں فرقہ واریت کی خاتمے کیلئے ایک انوکھا منظق پیش کرتے ہوئے خطے میں فرقہ واریت کی خاتمے کیلئے کھیلوں کے میدان آباد کرنے کااعادہ کیا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ گلگت بلتستان کے عوامی نمائندے ہمیشہ عوام کے سامنے اپنی محدود ذہنیت کو واضح کرتے ہیں کیونکہ مذہبی انتہاپسندی اول تو گلگت بلتستان کے عوام کا مسلہ نہیں بلکہ ماضی میں طاقتور عناصر ضرورت کے مطابق پرموٹ کرتے رہے ہیں مگر قوموں کی ذہنی تربیت کیلئے تعلیم اور روزگار خاص اہمیت رکھتی ہے جسکا گلگت بلتستان میں فقدان ہے اوربدقسمتی سے گلگت بلتستان میں آج تک جدید علوم سے آراستہ کوئی تعلیمی ادارہ قائم نہیں کئے جاسکے جہاں نئی نسل کو کھیل کود کےساتھ ساتھ علم کی زیور سے آراستہ ہوسکے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc