کیوں اور کیا؟؟ تحریر: سیدحسین

سوال کو علم کی چابی سے تعبیر کیاگیاہے،سوالیہ جملے کی پہچان مخصوص علامت(؟) ہے جو سوالیہ جملے کی آخر میں درج کی جاتی ہے جب تک سوال نہیں ہوگا کسی بھی کام کامقصد اور مطلب سمجھ نہیں آتا، لہذٰ مطالب ومقاصد کو سمجھنے کے لیے سوال لازمی ہے ، آج کل سوال اور سوالیہ جملے اکثر سننے کوملتے ہیں، بلکہ ایک سوالیہ جملہ توہمارے ملک کے ایک سیاسی پارٹی کا نعرہ بن چکا ہے وہ یہ کہ رواں سال ملک کے اعلیٰ عدلیہ نے پانامہ سکینڈل کیس کی سماعت کرتے ہوئے اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف کو وزارت عظمیٰ کے لیے نااہل قرار دیا تو انہوں نے تب سے یہ اپنی تقریر کا جزء لاینفک اور نعرے کے طورپر ہرجگہ استعمال کرنا شروع کیا”مجھے کیوں نکالا؟؟” اسی سے ملتے جلتے کچھ نعرے یا سوالیہ جملے ہمیں اس وقت سننے کو ملے جب ملک کے موجودہ وزیر اعظم جناب شاہدخاقان عباسی صاحب نے ۲۵ اکتوبر کو سکردو بلتستان کو دورہ کیا تو وہاں کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے ان میں بھی سوالیہ لفظ “کیوں؟” کا کثرت سے استعمال ہوا۔ ان میں سے ایک گورنر اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان وزیر اعظم صاحب استقبال کے موقع پر وفاقی وزیر امورکشمیر وگلگت بلتستان برجیس طاہرصاحب کو ساتھ گاڑی میں بٹھانا بھول گئے اور انہیں ایر پورٹ پر ہی چھوڑ گئے تو وزیر موصوف خاصے برہم ہوگئے اور پوچھتے رہے مجھے کیوں چھوڑا؟۔ دوسرا جب طے شدہ شیڈول کے مطابق قومی اور مقامی صحافی حضرات وزیر اعظم کے خطاب سننے پہنچے تو انہیں سکیورٹی کا بہانہ بنا کر ہال میں داخل ہونےسے روکا گیاتو صحافی حضرات بھی پوچھتے رہے ” ہمیں کیوں روکا گیا؟ تیسرا یہ کہ صوبائی حکومت کی طرف سے باربار اعلان ہونے کے باوجودجناب وزیر اعظم کا عوام سے کرنے کے لیے جلسے کا انعقاد نہ ہونے پر عوام کی طرف سے بھی یہی سوال سننے کو ملتا رہا “ہمیں کیوں بلایا گیا؟” چوتھا یہ کہ ڈپٹی کمشنر بلتستان نے کسی معاملے میں معمولی سی تلخی پر کمشنر صاحب کو مکا دے مارا تو کمشنر صاحب بھی پوچھتے رہے ” مجھے کیوں مارا”۔ اور آخر میں وزیر اعظم صاحب کی واپسی کے بعد بلتستان کی عوام کسی حکومتی عہدہ دار ،وزیر،مشیر سے پوچھنے کے بجائے ایک دوسرے سے پوچھتے رہے ” ہمیں کیا دیا؟”۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc