اُنیس سنتالیس میں انقلاب گلگت کے دوران گلگت بلتستان شیعہ ریاست کی بنیاد کا مخمصہ کیا تھا؟، حقائق سے پردہ چاک ہوگیا۔

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) بلتستان سے تعلق رکھنے والے نامور مصنف اور عالم دین مولانا حق نواز جنکا تعلق مکتب اہل سنت اہل حدیث طبقہ فکر سے ہے، نے اپنی نئی تصنیف جنگ آذادی گلگت بلتستان اور کشمیر میں جہاں بہت سے تاریخی حقائق سے پردہ فاش کیا ہے وہیں اس پروپیگنڈے کی غبارے سے ہوا نکال دی ہے جس کی بنیاد پر دشمن گلگت بلتستان اس خطے کے عوام کو لڑا کر آج تک حقوق کی جدوجہد سے دور رکھنے کیلئے تقسیم در تقسیم کیا ہوا ہے۔ مصنف قائد اہل سنت گلگت بلتستان مکتب دیوبند قاضی نثار احمد اور مرحوم پروفیسر عثمان علی خان کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ جب وہ مذکورہ کتاب لکھنے کیلئے اجازت طلب کرنے کی غرض سے ان ملاقات کیا تو معلوم ہوا کہ مرحوم پروفیسر عثمان علی خان کرنل حسن کو ہیرو تو کیا بطور ایک مجاہد بھی قبول کرنے کیلئے تیار نہیں تھے۔ وہ ایک خط کا حوالہ دیکر یہ سمجھ رہا تھا کہ کرنل حسن خان چونکہ اس خطے کو شیعہ ریاست بنانے کا ارادہ رکھتے تھے جس میں انہیں کامیابی نہیں ملی لہذا اسے ہیرو بنا کر پیش کرنا چاہئے اور نہ ہی اسکے بارے میں کوئی کتاب لکھنے کی ضرورت ہے۔
مصنف مزید لکھتے ہیں کہ مرحوم پروفیسر عثمان علی خان جو خود ایک مشہور اور معروف شخصیت کے حامل ایک عظیم انسان تھے انکا کرنل حسن خان کے بارے میں کتاب لکھنے سے منع کرنا تعجب کی بات تھی۔ وہ نہ صرف کرنل حسن خان کے مخالف تھے بلکہ میجر بروان کو انقلاب گلگت کا بانی سمجھتے تھے۔ مصنف مزید لکھتے ہیں کہ کئی بار کی ملاقاتوں کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ مرحوم وہی گھسی پٹی باتیں جو حسن خان کے حوالے سے انگریز،ڈوگرہ اور پاکستان مخالف قوتوں کی طرف سے گھڑی ہوئی تھی انہی باتوں پر یقین کر بیٹھا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ انگریز اور ڈوگروں کے ایجنٹوں کیلئے کرنل حسن خان کے ہر قسم کا کردار ناقابل برداشت تھے۔ اللہ تعالی نے اپنی مہربانی سے حکمت کے ذریعے ان کرداروں کے ایک اہم کردار کو ہمارے سامنے غیرمتوقع طور پر ظاہر کردیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ گلگت بلتستان کو آذاد کرانا انگریزوں کے عزائم کو خاک میں ملانا کتنا بڑا تھا جرم تھا مجھے یقین ہی نہیں آیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ کتاب کو سطور بسطور پڑھنے سے معلوم ہوجائے گا کہ فرقہ کے نام پر آپس میں لڑانے والے کون تھے اور ہیں، کیونکہ اُس نقلی خط کو میں نے اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے۔
مزید معلومات کیلئے کتاب کا مطالعہ کیجئے۔

 

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc