یوم سیاہ کشمیر اور بھارتی مکروہ چہرہ۔ تحریر:عمرفاروق فاروقی، محکمہ اطلاعات گلگت بلتستان

کشمیر سرزمین کا ایک حسین ترین خطہ ہے جس کو زمین پر موجود جنت سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ یہ وہ وادی ہے جہاں بھارت نے اپنے مکروہ جرائم سے انسانیت کو شرما دیا ہے ۔ اس وادی میں برسوں سے انسانیت کا قتل عام جاری ہے ،انسانی حقوق کی پامالی ہے ، اور ایسے ایسے مظالم ڈھایے جارہے ہیں جس کا یہاں ذکر ممکن نہیں ۔انسانیت کے قاتلوں کو انسانیت کی قدر نہیں اور ان مظلوم انسانوں کو صرف اس وجہ سے شہید کیا جارہا ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور اپنی آزادی کی بات کرتے ہیں ۔ ظالموں کے اس ظلم اور بربریت پرانسانیت سسک رہی ہے اور انسانی حقوق کے علمبردار خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں ،جی ہاں یہ ہے مقبو ضہ جمو ں کشمیر ،اور آج 27 اکتوبر کا دن ہے یہ وہ سیاہ ترین دن ہے جب غاصب بھارتی افواج نے 27 اکتوبر 1947کو جموں کشمیر کے علاقے سرینگر میں اُتر کر مظلوم کشمیری بھائیوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے ،قتل عام کیا، معصوم بچوں کو بھی نہ بخشا گیا، خواتین کی عزتیں لوٹی گئیں اور کشمیریوں کو گھروں سے بے دخل کرکے زمینوں پر قابض ہوگئے اور اب تک وہی انسانیت سوز سلوک جاری ہے ۔کشمیری اس بدترین ظلم اور ستم کے خلاف ہر سال اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں اور اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ عالمی دنیا کشمیر میں ہونے والے مظالم کی طرف بھی نظر اُٹھا کر دیکھ لے،گزشتہ 70سالوں سے کشمیری قوم اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہی ہے اور اپنے حق خود ارادیت کیلئے اب تک لاکھوں انسانی جانیں قربان ہوچکی ہیں لیکن غاصب بھارتی حکومت روز اول سے عالمی قوانین کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے مقبوضہ کشمیر پر قابض ہے ،کشمیر پر بھارتی فوج کے اس جبری قبضے کو کشمیری عوام نے روز اول سے نہ تسلیم کیا ہے اور نہ ہی ان جابروں کے سامنے کمزوری دکھائی ہے ،بلکہ کشمیریوں نے ہر محاذ پر اپنے موقف کا دفاع کیا ہے اور بھارت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے ۔گزشتہ دو سالوں سے نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد کشمیریوں پرظلم و ستم اور قتل و غارت گری کا بازار پھر گرم کیا گیا ہے کنٹرول لائن پر گزشتہ کئی سالوں سے بھارت بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کررہی ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ کشمیری شہید ہوچکے ہیں اس کے علاوہ سیالکوٹ ورکنگ باونڈری اور کشمیر کے مختلف دیہی آبادیوں میں مقیم کشمیریوں کو عرصہ دراز سے بھارتی فوج نشانہ بناکر شہریوں کو شہید کررہی ہے لیکن بدقسمتی سے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس ظلم و بربریت پر خاموش ہیں ۔عالمی طاقتیں اپنی اس خاموشی کو توڑ دیں اور کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالی کا نوٹس لیکر بھارت کو متنبہ کرے اور ریاست جمو ں وکشمیر کے معصوم اور مظلوم عوام کو بھارتی ناجائز تسلط سے آزاد کرائیں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حق خود ارادیت دلائیں ۔مقبوضہ کشمیر میں کشمیر کی عوام 1947سے بھارتی جبر و تسلط کے خلاف برسر پیکار ہے اور پاکستان شروع دن سے وادی میں بھارتی مظالم کے خلاف کشمیریوں کی اخلاقی مدد کررہا ہے اور ہر دور میں پاکستان نے اقوام متحدہ کو کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا ہے اور ہر فورم پر کشمیر کی حق خود ارادیت کی حمایت میں آواز بلند کیا ہے ۔حالیہ کچھ ہفتے پہلے پاکستان کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اقوام متحدہ کے سامنے کشمیرکی آزادی اور وہاں کے معصوم عوام پر ہونے والے انسانیت سوز رویوں اور مظالم کے خلاف آواز اُٹھاتے ہوئے واضح کیا ہے اقوام متحد ہ اب کشمیر پر ہونے والے مظالم سے انکھیں نہ چرائے اور کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق خود ارادیت دیا جائے ۔70 سال گزر گئے وادی خون سے لت پت ہے بے گناہ شہری روز مررہے ہیں لیکن بھارت نے سیکورازم کا لبادہ پہن کر ریاستی دہشت گردی کے ذریعے کشمیریوں کے حقوق غصب کئے ہوئے ہیں ،بھارت وادی میں مظالم کو چھپا کر آزادی کی جنگ لڑنے والے کشمیریوں کو ماورائے عدالت قتل کررہا ہے اور بے گناہ شہریوں کو جیلوں میں بند کرکے سزائیں دے کر در بدر کیا جارہا ہے اور اپنا مکروہ چہرہ چھپانے کیلئے عالمی برادری کے سامنے غلط اور من گھڑت کہانی داغ کر گمراہ رہا ہے ۔مقبوضہ کشمیر کی عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے ہر سال یوم سیاہ کشمیر کے موقع پر گلگت بلتستان کی عوام بھی اس دن کو مناکر بھارت کا خون خوار اور بدنما چہرہ دنیا کے سامنے لاتے ہیں ۔گلگت بلتستان کے تمام دس اضلاع میں یوم سیاہ کو منایا جاتا ہے اور کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی جاتی ہے اور کشمیر میں بھارت کے غاصبانہ قبضہ اور ظلم و جبرکے خلاف ریلیاں نکالی جاتی ہیں ۔گلگت بلتستان کی عوام اور حکومت مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف ہیں اور کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی حمایت کرتے ہیں اور کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بھی مذمت کرتے ہیں ۔وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے صوبہ بھر میں ہر سال کی طرح اس سال بھی یوم سیاہ کشمیر کے موقع پر بھارت کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکال کر کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی حمایت کے ساتھ ساتھ عالمی برادری کو فوری طور پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کرنے پر زور دینے کے عزم کا اظہار کیا ۔گلگت بلتستان کی قوم اپنے کشمیری بھائیوں کے بنیادی انسانی حقوق اور آزادی کیلئے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc