ہم کہیں گے حالِ دل اور آپ فرمائیں گے کیا۔ تحریر: شریف ولی کھرمنگی

گزشتہ روز وزیراعظم پاکستان جناب شاہد خاقان عباسی نے سکردو کا دورہ کیا۔ دورے سے ایک روز قبل ہی ہم اس نتیجے تک پہنچ چکے تھے کہ پہلے سے تیار شدہ تین امور پر دورہ کامیاب قرار پائیگا۔ اور ہوا بھی بالکل ویسے ہی۔ بلتستان یونیورسٹی کا بننا بلاشبہ ایک بہت ہی بڑا سنگ میل ہے اورعشروں تک عوام کی طرفسے مطالبہ کرتے رہنے کے بعد اس جماعت کی طرفسے اس کام کا آغاز کیا جانا یقینا قابل تعریف ہے۔ اس سلسلے میں سیاسی لوگوں کو کریڈٹ دینا ضرور بنتا ہے ، مگر ان تمام محرکین اور شخصیات کو سب سے زیادہ کریڈٹ جاتی ہے جو اس سلسلے میں گراونڈ روٹ لیول سے کوشاں رہے۔ جن کا تذکرہ پہلے بھی اپنی تحریر میں کرچکا ہوں۔ کیونکہ ان میں سے کئی شخصیات کے ساتھ بہت بار مختلف مراحل میں شامل گفتگو رہے۔ البتہ سیاسی اشتہار بازی اور کریڈٹ گیم میں قراقرم یونیورسٹٰی کیمپس کو قربان کرنے کو کوئی بھی معقول آدمی اچھا عمل نہیں سمجھتا، نہ ہی یونیورسٹی کا افتتاح کیڈٹ کالج کے ہال میں کرنے کا کوئی تک بنتا تھا۔ بہر حال کڑوڑوں روپے کے اس منصوبے میں اٹھارہ بیس اسٹاف کیمپس کے علاوہ بھی منظور کروا لیتے تو اس پراجیکٹ میں کوئی کمی تو نہیں آجاتی، البتہ بڑھتی آبادی اور ضروریات کیلئے کیمپس کی موجودگی بھی ایک آسرا رہ جاتا۔ خیر یہ معاملہ چونکہ نئی نسل کی تعلیم و تربیت کا ہے اور پریزنٹیشن ڈیٹیل سے بہت ساری چیزیں واضح ہوگئیں ، اسلئے اس معاملے میں انکو کریڈٹ نہ دینا زیادتی کہلائے گی۔
چھے مرتبہ افتتاح کے بعد بالآخر سکردو روڈ کا بھی ایک مرتبہ پھر سے افتتاح کیا گیا ، اور اس بار عام لوگ اسے ٹوپی ڈرامہ اسلئے نہیں کہہ سکتے کیونکہ اب خبروں کے مطابق ایف ڈبلیو او کی مشینیں اور ہیوی لوڈرز پہنچ چکے ہیں۔ میں توقع کررہا تھا کہ شاید خاقان عباسی صاحب اس موقع پر اپنے خطاب میں کہہ دیں کہ ہمارے قائد محترم(نا اہل) کے ہاتھوں اسکا پہلے ہی افتتاح ہو چکا ہے ، اسلئے بس کام شروع کیا جائے بار بار افتتاح کرنےکی ضرورت نہیں۔ کیا ہی خوبصورت بات ہوتی۔ مگر شاید اخلاقی جرات اس وقت کم پڑجاتی ہے جب اپنا نام لکھوانےکا بنا بنایا موقع ہاتھ لگےمگر کسی اور کا نام لگ جائے، چاہے چھے مرتبہ اسکے نام کی تختی بنی ہو، اور اس سے بڑے تقاریب میں انکی نقب کشائی کی جاچکی ہوئی ہو۔ خیر وہ چھے افتتاحی بورڈز بھی کہیں کسی آثار قدیمہ کے مرکز میں رکھ دینا چاہئے تاکہ آئندہ نسلوں کی معلومات میں اضافے کا باعث بنے۔
اپنی پیشگوئی میں اس بات کا بھی ذکر کیا تھا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران بہت زیادہ مشقت اور تیزآنچ پر گرم شدہ معاملہ یعنی غیر آئینی علاقہ گلگت بلتستان پر ٹیکس کے نفاذ اور اسکی واپسی کے معاملے کا مطالبہ بھی بہت زیادہ اہمیت کا حامل جان بوجھ کر بنایا گیا ہے۔ جس کا بعینہِ ویسے ہی اعلان کرایا گیا جیسا کہ ہم سمجھ رہے تھے، اور سکریٹری خارجہ کے زیرنگرانی قائم کمیٹی کے فیصلے تک ٹیکس کے معاملے کو معطل کئے جانے کا اعلان کیا گیا۔ البتہ لوکل گورئمنٹ، میونسپل کمیٹی سمیت عوام سے اشیائے ضروریہ، موبائل و انٹر نیٹ سروسز وغیرہ پر جو ٹیکس لئے جاتے رہے ہیں ان کیساتھ کیا ہوگا کوئی تفصیل نہیں، نہ ہی تحریری نوٹیفیکیشن میں کن کن شعبوں کے ٹیکس کو معطل کرنے کی کوئی یقین دہانی کی گئی۔
ان تین ایشوز کے علاوہ جو ایشو تقریر میں اٹھایا گیا وہ ٹمبر کا تھا، جس پرعباسی صاحب نے ایک لطیفہ بھی سنا دیا، کہ ان کے حلقہ انتخاب غالبا شانگلہ مری، میں بھی ٹمبر کا مسئلہ ہوتا رہتاتھا، لیکن ان کے بقول اب اس بارے میں کسی قانون کی ضرورت ہی نہیں رہی، کیونکہ وہاں کے لوگوں نے جنگلات کو کاٹ کر ٹمبر ہی تقریبا ختم کردیئے ہیں۔
ہم سوشل میڈیا پر آئے روز جن ایشوز کو عوامی اور بہت زیادہ ضروری قراردیتے رہے، ان میں سے کسی پر گفتگو کرنے کو مناسب نہیں سمجھا، یا انکو بتایا ہی نہیں گیا۔ ان امور میں سے سب سے اہم ترین مسئلہ آئینی حقوق کا مسئلہ ہے۔ پتہ چلا کہ کونسل کی طرفسے پیش کردہ قرارداد میں مسئلہ کشمیر سے جوڑ کر بتایا گیا تھا۔ لیکن وزیر اعظم نے اسے اہمیت نہیں دی یا کشمیر کا نام پڑھ کر چونک گئے ۔ دوسرا ایشو سی پیک کا تھا، جس کے بارے میں موصوف نے کہا کہ اس سے خطے کی تقدیر بدل جائیگی ، مگر اہل بلتستان کیلئے تو سی پیک سے گزرنے والی گاڑیوں کے دھوئیں بھی دیکھنا نصیب نہیں ہوگا۔ نہ قرارداد میں کونسل ممبران نے لکھنا ضروری سمجھا اور نہ ہی ان کو ویسے بتایا گیا ہو۔ زمینوں کو خالصہ سرکار قراردینے کا ایشو بھی اہم تھا لیکن اسکو بھی اہمیت نہیں دی گئی، نئے اضلاع کی انتظامی امور کو بھی پس پشت ڈال دیا گیا۔ اور اسی طرح دیگر بہت سارے معاملات ہیں جن پر عملا کام ہونے کی ضرورت ہے لیکن نہ لفظا بھی نہیں کہلایا گیا یا ان تک نہیں پہنچایا گیا۔
البتہ اس موقع پر ہماری توقعات کے بالکل برعکس عوامی اجتماع نہیں ہوا ۔ تیار شدہ جلسہ گاہ اور کرسیاں وزیر اعظم کی راہ تکتی رہ گئیں۔ یہی نہیں بلکہ مقامی پارٹی بڑوں کی بھی بڑی تعداد جو لوگوں کی منت سماجت کرکے تیار کرنے،جلسہ گاہ، ٹرانسپورٹ وغیرہ کا انتظام کرنے میں لگے ہوئے تھےان سب کی بھی سبکی ہوگئی اور انہیں وزیر اعظم کی ایک جھلک دیکھنا بھی نصیب نہیں ہوا جو کہ بطور سیاسی پارٹی کے چھلانگیں لگانے والوں کے انکا بنیادی حق تھا، افسوس آئینی حقوق کیساتھ ان کا یہ حق بھی اس موقع پر چھین لیا گیا۔ مگر شاید یہ لوگ پھر بھی بہت سارے مفادات کے حاصل ہونے کی امید پر جانفشانی کیساتھ نعرے لگاتے اور سوشل میڈیا پردن رات ایک کرتے رہیں گے۔ مقامی صحافیوں کو بھی ہر بار کی طرح اس بار بھی بڑے ایونٹ سے پاسز ملنے کے باوجود دور رکھا گیا، جوکہ ان کے لئے سوچنے کی بات ہے کہ آخر حکومتی جماعت کی ہر بات پر واہ واہ کرتے رہنے سے پاس ہی مل سکتا ہے مگر انٹری ملنے کی کوئی گارنٹی نہیں مل جاتی۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc