بلتستان کے واحد ایف سی پی ایس اور کوالیفائیڈ گائنا کالوجیسٹ ڈاکٹر ندا فاطمہ کو سرکار نے زہنی ازیت پہنچا کر ملازمت چھوڑنے پر مجبور کیا جارہا عوام میں سرکار کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جارہا ہے

سکردو(نامہ نگار) سکردو ڈسٹرکٹ ہسپتال کا واحد ایف سی پی ایس گائنا کالوجیسٹ ڈاکٹر ندا فاطمہ کو سکردو ڈسٹرکٹ ہسپتال سے ڈسٹرکٹ ہسپتال گنگ چھے تبادلہ کرنا زیادتی ہے سکردو ڈسٹرکٹ ہسپتال میں دیگر جو گائنا کالوجیسٹ موجود ہے وہ سب ڈپلومہ ہولڈر ہے اور واحد ایف سی پی ایس گائنا کالوجیسٹ ڈاکٹر ندا فاطمہ کو تبادلہ کرنا سکردو اور باقی دو اضلاع کھرمنگ اور شگر کے خواتین مریضوں کے ساتھ ناانصافی ہے سکردو کے کئی خواتین نے میڈیا کو بتایا کہ سکردو ڈسٹرکٹ ہسپتال میں کئی ایسے اپریشن کیا ہے جو اسلام آباد کے علاوہ سکردو ڈسٹرکٹ ہسپتال میں اپریشن کرنا ناممکن تھا اور اس کے باوجود ڈاکٹر ندا فاطمہ واحد ایف سی پی ایس ہونے اور اپنی قابلیت کی وجہ سے بڑے بڑے اپریشن کرسکا ورنہ اس مہنگائی کے دور میں اسلام آباد جاکر علاج کرنا پڑتا تھا یاد رہے ڈاکٹر ندا فاطمہ لاہور جنرل ہسپتال میں گائنا کالوجیسٹ اور امنہ میڈیکل کالج لاہور میں اسٹنٹ پروفیسر گائنی ریگولر سرکاری ملازمت چھوڑ کر بلتستان میں اپنے غریب ماں بہنوں کی خدمت کرنے کا عزم لیکر سرکاری ریگولر ملازمت کو خیر باد کہہ کر بلتستان کا انے کا صلہ ان کو زہنی ازیت پہنچا کر لاہور دوبارہ جانے پر مجبور کیا جارہا ہے اور اب تک ان کو کنٹریکٹ پر رکھا ہوا گزشتہ دو سالوں سے اور ریگولر کرنے کیلئے صوبائی حکومت کوئی ٹھوس اقدامات بھی نہیں اٹھا رہا ہے اور بار نار خپلو تبادلہ کیا جارہا ہے اور صوبائی حکومت مقامی ڈاکٹروں کو مراعات دینے کے بجائے ان کو دوبارہ شہروں میں جانے پر مجبور کیا جارہا ہے

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc