گلگت بلتستان بھر میں کامیاب شٹر ڈاون ہڑتال نے حکمرانوں کو عوام کے سامنے ڈھیر کردیا،جبری ٹیکس کا فیصلہ معطل۔

سکردو( تحریر نیوز ) گندم سبسڈی ہو یا کسی بھی قسم کے ٹیکسز سے استشناء گلگت بلتستان کے عوام پر کسی احسان کانہیں بلکہ متنازعہ حیثیت کے تحت مجبوری ہے لیکن گلگت بلتستان کے حکمران چونکہ قومی سوچ سے ذیادہ ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں اس وجہ سے گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کے باوجود یہاں کے عوام کو بے پناہ مسائل درپیش ہیں ۔ متنازعہ حیثیت کی وجہ سے یہاں تمام تر قدرتی مواقع ہونے کے باوجود نہ ہی انڈسٹریز لگایا جارہا ہے اور نہ ہی یہاں کے عوام کو اچھی تعلیم اور بہتر طبی سہولت میسر ہیں صرف یہ نہیں بلکہ سی پیک سے ایشائی اور افریقی ممالک کے عوام تک مستفید ہونگے لیکن گیٹ وے ہونے کے باوجود گلگت بلتستان میں ایک بھی صنعتی زون نہیں بنایا جارہا ہے،یہاں کے وسائل پر بھی عوام کو حق ملکیت حاصل نہیں بلکہ عوامی املاک پر بھی خالصہ سرکار کی غلط تشریح کرکے قبضہ کیا جارہا ہے۔ دوسری طرف عوام کو یہ حق بھی حاصل نہیں کہ وہ اپنے بنیادی حقوق کیلئے آواز بلند کریں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کونسل کی جانب سے نافذ کردہ اس جگا ٹیکس کو ختم کرنا عوام کیلئے اچھا پیغام ہے اور عوام چاہتے ہیں کہ گلگت بلتستان مملکت پاکستان کا پانچواں آئینی صوبہ بن جائے یہاں کے عوام کو بھی دیگر صوبوں کی طرح وفاق سے حقوق ملے ۔ سول سوسائٹی کے کچھ اراکین کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے مقامی حکمرانوں کے بجائے عوام کی آواز پر لبیک کہہ کر اچھی روایت قائم کی ہے کیونکہ اس وقت گلگت بلتستان کے حکمرانوں کو لوٹ مار کے علاوہ عوامی مسائل اور خطے کی قومی شناخت سے کوئی غرض نہیں یہی وجہ ہے کہ حکومت نے بلتستان کے کرپٹ ترین ٹھیکہ داروں کے ساتھ ملکر شٹرڈوان ہڑتال کو ناکام بنانے کی کوشش کی اور سکردو میں بڑا جلسہ کرنے کا بھی ارادہ رکھتے تھے لیکن عوامی عدم توجہی کے سبب اور ناکامی کا منہ دیکھنا پڑھا۔  بلتستان یوتھ الائنس کے رہنماوں نے اس موقع پر کہا کہ اب وہ وقت آن پونچا ہے کہ گلگت بلتستان کے سیاست دان بشمول علمائے کرام عوام سے سچ بولیں اور متنازعہ حیثیت کی بنیاد پر قومی حقوق کی جدوجہد کیلئے کوششیں تیز کریں کیونکہ وموجودہ حالات میں کہیں سے بھی ایسا نہیں لگتا کہ وفاق پاکستان مسلہ کشمیر سے ستبردار ہوکر گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ بنائیں اس حوالے سنگین قسم کے قانونی پیچیدگیاں ہیں جو مملکت پاکستا ن کیلئے کشمیر کاز کے حوالے سے مسائل پیدا کرسکتا ہے۔ پیپلزپارٹی سکردو کے کچھ رہنماں نے اس حوالے سے کہا کہ پیپلزپارٹی نے ہر دور میں گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کے مطابق حقوق کا مطالبہ کیا ہے نون لیگ کا یہ الزام بلکل غلط ہے کہ پیپلزپارٹی کے دور میں ٹیکس نافذ کرنیکافیصلہ ہوا تھا اگر ایسا ہوا تو بھی موجودہ حکومت عوام کیلئے سڑکوں پر کیوں نہیں نکلے اس مطلب یہ ہوا ہے غیرقانونی ٹیکس نافذ کرنے میں نون لیگ بھی برابر کے مجرم تھے جسے عوامی طاقت نے ناکام بنا دیا۔
انجمن تاجران گلگت بلتستان نے حکومت کو تبیہہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس معطلی کے حوالے سے جلداز جلد نوٹفیکشن جاری نہیں کیا تو شٹرڈاون کا سلسلہ جاری رہے گا۔

About admin

One comment

  1. بچہ بچہ کٹ مرے گا گلگت صوبہ نہیں بنے گا

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc