وزیر اعظم کا دورہ سکردو . تحریر: شریف ولی کھرمنگی

بات کچھ یوں ہے کہ کرپشن کیسز پر نا اہل قرار پانے والے کے جانشین وزیر اعظم سے مقامی کونسل نمائندوں نے اسلام آباد میں ملاقات کی, جس میں انہیں پتہ چلا کہ چار صوبوں اور ان کی اسمبلیوں کے علاوہ بھی ملک میں ایک اسمبلی اور کونسل موجود ہے. کونسل کا خوش قسمت چیئرمین بھی موصوف وزیر اعظم صاحب خود ہیں. یعنی لکی ڈرا کے تحت قائد کی نا اہلی پر وہ ملک کا وزیر اعظم بننے کے ساتھ ساتھ ایک نامعلوم علاقے کے کونسل کے سب سے بڑے عہدے پر بھی فائز ہو چکا تھا. یہ بھی ہمارے لوگوں کیلئے حیرت کی بات نہیں , کیونکہ موجودہ انتہائی ممنون صدر مملکت صاحب بھی اپنی ملاقات کے دوران (غالبا اسمبلی ممبران سے) تقریر کرتے ہوئے آدھ گھنٹے تک بلوچستان پر بھاشن دیتے رہے اور تقریر کے بعد ان کو پتہ لگا کہ جن سے مخاطب ہیں وہ بلوچستان کے اسمبلی ممبران نہیں بلکہ چار صوبوں کے علاوہ بھی آئینی حیثیت کے بغیر ایک علاقہ ہے جسکا نام بلوچستان سے ملتا جلتا ہے…. خیر خبروں کے مطابق نا اہل وزیر اعظم کے جانشین وزیر اعظم سے ملاقات میں گلگت بلتستان کونسل ممبران نے روائتی جوش و خروش کیساتھ تعارف وغیرہ کرچکنے کے بعد سب سے بڑا مطالبہ ان کے سامنے رکھ دیا. عوام کو بھی ایسی خبروں سے حد درجہ دلچسپی ہوتی ہے کہ وزیر اعظم علاقے کے دورے پر آئیں. چاہے کسی کام سے آئے یا گلگت بلتستان کے پرفضا مقامات پر اچھی اچھی تصویریں لینے کیلئے. جیسا کہ جنکا حافظہ سلامت ہے انہیں بہتر یاد ہوگا کہ سابق نا اہل وزیر اعظم کئی بار کے دوروں میں ایک ایسے روڈ کا بار بار فیتہ کاٹ کر عوام سمیت اسمبلی و کونسل ممبران کا دل جیت گئے تھے , جس روڈ کیلئے تب بجٹ بھی مختص نہیں کیا گیا تھا.
اس بار کونسل ممبران کی بھی سب سے بڑی خواہش یہی تھی کہ ان کے مطالبے پر چیئرمین صاحب کونسل اجلاس کی صدارت کریں, کیا پتہ پھر کب کون نا اہل قرار پائے اور تب تک ان کی حیثیت کیا رہ جائے….. بہر حال سکردو کا دورہ کرنا طے ہوگیا. اور چیئر مین صاحب کا فقید المثال استقبال کرنے کی تیاریاں شروع ہوگئیں.
تقریبا ایک ماہ قبل , مقامی رہنماؤں نے آپس میں سر جوڑ لئے…. خوب سوچا,بہت سوچا اور پھر جب کوئی خاص بات اور کام ان کے دورے پر ہوتا دکھائی نہیں دیا…. تو ایک پلان ترتیب دیا….
ٹیکس, جوکہ تقریبا سال پہلے سے باقاعدہ لیا جا رہا تھا, اسے ہتھیار بنایا…. اخبارات میں کسی نے حق میں اور کسی نے مخالفت یا لاچارگی کے بیانات جاری کرنا شروع کردیئے…. دیکھتے ہی دیکھتے عوام اور تاجر طبقہ بھی کود پڑے… شور شرابا, احتجاج, میٹنگ اور بیانات…. کام, جو حکومتی لوگ چاہتا تھا ہو گیا….. کچھ بیانات, کچھ تقاریر کرچکنے کے بعد دلاسے اور ہمدردیاں دکھانے شروع کردیئے. ایک آل پارٹیز کانفرنس کا شوشا چھوڑا اور اپنے کنٹرول میں آنیوالے لوگوں کومختلف طبقات کے نمائندے کے طور پر بلائے گئے … ان سے وعدہ کرکے خوش کیا کہ جب تک وزیر اعظم آکر واپس نہ جائے ٹیکس نہیں لیا جائیگا….اور وزیر اعظم سے بھی اعلان کرایا جائیگا یعنی کتنے دن تک ٹیکس نہیں لیا جائیگا….. !!!
بس پھر کیا تھا خوش و خرم ہوگئے…وزیر اعظم سے ملاقات کی ضد واپس, ہڑتال کی کال واپس, اعلان ہوا کہ وزیر اعظم کے آنے پر احتجاج کرنا تو دور کی بات, حکمران جماعت کیساتھ ملکر انکا فقید المثال استقبال کیا جائیگا…اعلان کرنے پر انکے حق میں ریلی نکالی جائے گی…. اور یوں وزیر اعظم پاکستان اور چیئرمین گلگت بلتستان کونسل کا یہ تاریخی دورہ, سکردو روڈ کا (غالبا پانچویں بار) فیتہ کاٹنے, قراقرم یورسٹی سکردوکیمپس کے نئے نام کی افتتاح کرنے , اور ایک ماہ پہلے اخبارات میں تیز آنچ پر تیار شدہ گرماگرم ٹیکس کی خبر کو واپس لینے کے مسحور کن اعلانات کیساتھ کامیاب قرار دیا جائیگا. اسوقت سب سے بڑے ایشوز میں علاقے کی آئینی حیثیت کا تعین, سی پیک میں بلتستان ریجن ( پانچ اضلاع بشمول استور) کیلئے پراجیکٹس اور دیگر امور کیلئے بہت زیادہ کام کی ضرورت ہے اور بھاری اکثریت کیساتھ قائم حکومت چاہیں تو کام کروا بھی سکتی ہیں, مگر تاحال ان پر کوئی قابل قدر آواز اٹھانے کی ضرورت محسوس کرتے دکھائی نہیں دے رہے. ان امور اور دیگر ایشوزپر کیا کچھ عملا کام , اعلانات اور وعدے وعید ہونگے وہ زیادہ دن نہیں فقط دو دن دور ہیں….

 

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc