متنازعہ ٹیکس.تحریر : محمد عثمان حسین

گزشتہ چند دنوں سے گلگت بلتستان کے مقامی اخباروں اور عوام الناس نے ٹیکس کا لفظ بہت عام کیا ہوا ہے . اس بابت لفظ ٹیکس کی گلگت بلتستان میں شہرت پر روشنی ڈالنا مناسب سمجھا. ٹیکس انگریزی لفظ ہے جو لاطینی زبان کا لفظ ٹیکسو سے نکلا ہے . اردو میں اس کو محصول کہتے ہے.جس سے مراد حکومت یا کسی ادارے کی جانب سے عوام پر ایک مخصوص مقدار میں رقم مقرر کرنا ہے جو کہ وہ ملک کے نظم ونسق چلانے کیلے قومی خزانے میں جمع کرواتے ہے. اگر کوئی شخص ٹیکس جمع نہ کرے تو اسے مجرم تصور کیا جاتا ہے. گلگت بلتستان میں گزشتہ چند دنوں میں لفظ ٹیکس کے عام ہونے کی وجہ حکومت کی طرف سے متنازعہ علاقہ گلگت بلتستان پر جبری ٹیکس کا نفاز ہے. اس حوالے سے مختلف سیاسی پارٹیوں کا ردعمل پرنٹ میڈیا کے زریعے جاننے کا موقع بھی ملا. گزشتہ دنوں حکمران جماعت مسلم لیگ ن نے آل پارٹیز کانفرس کا انعقاد کیا لیگی رہنماؤوں کا کہنا تھاکہ 70 سال سے وہ کوئی ٹیکس نہیں دے رہے ہے اگر ٹیکس کے خلاف تاجر حضرات عدالت سے روجوع کرے تو وہ تاجروں کے ساتھ ہے. سابق حکمران جماعت پیپلز پارٹی کا کہنا ہے چونکہ مسلم لیگ حکومت میں ہیں اگر چاہے تو ٹیکس کا فیصلہ واپس لے سکتی ہیں.. تحریک انصاف گلگت بلتستان نے اپنی روایتی سیاست کو برقرار رکھتے ہوئے APC میں شرکت نہیں کی. پی ٹی آئی کی کال پر متنازعہ صوبہ گلگت بلتستان کے مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے ہوئے جس سے پی ٹی آئی کی قیادت نے عوام کو یہ پیغام دیا کہ ٹیکس کا نفاز جبر ہے اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق متنازعہ علاقے پر ٹیکس نافذ نہیں کیا جاسکتا. یہ سب تو سیاسی جماعتوں کی کارگزاری تھی. جو کسی بھی موضوع کو لیکر اپنی سیاست چمکانے کیلئے ہر وقت میسر ہیں. دوسری جانب انجمن تاجران گلگت بلتستان نے بھی 25 اکتوبر کو پورے صوبے میں شٹر ڈون ہڑتال کی اپیل کی تھی جس پر حکومت اور انجمن تاجران کے نمائندوں میں مزاکرات کے بعد ہڑتال معطل ہونے کی اطلاعات تھی لیکن اب انجمن تاجران کی طرف سے ہڑتال کرنے کی خبرے گردش کر رہی ہیں. ٹیکس ریاست کی بقا ء کے لیے ضروری ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گلگت بلتستان کے غیور عوام ٹیکس دینے پر راضی کیوں نہیں. گلگت بلتستان کی عوام ٹیکس کو جبری ٹیکس اسلیے کہتی ہے کیوں کہ گلگت بلتستان ایک متنازعہ علاقہ ہے. بین الاقوامی قوانین کے مطابق متنازعہ علاقے پر ٹیکس عائد نہیں کیا جاسکتا .جب بھی علا قے کہ عوام نے ریاست پاکستان کے ساتھ وفاداری کا حق نبہاتے ہو ئے پاکستان کی قومی اسمبلی و سینٹ میں نمائندگی اور علاقے کی معد نیات پانی جنگلات اور CPEC میں حصے کی بات کی ہے ریاست کے حکمران گلگت بلتستان کے عوام کو یہ بات یاد دلاتے ہیں کہ گلگت بلتستان ایک متنازعہ خطہ ہے.اگر حقوق دیتے وقت علاقے کی متنازعہ حیثیت حکمرانوں کویاد رہتی ہے تو ٹیکس لگاتے دقت کیوں نہیں.اسلیے گلگت بلتستان کی عوام نے فیصلہ کیا ہوا ہےکہ جب تک آئینی حقوق نہیں ملتے کسی بھی قسم کا ٹیکس نہیں دیاجائے گا. …اک طرز تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک.. اک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے.. ( فیض احمد فیض)

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc