گلگت بلتستان کے عوامی منتخب نمائندے کس قدر بے اختیار اور بے بس ہیں وزیر تعلیم نے بتادیا۔

سکردو( تحریر نیوز) گلگت بلتستان کے عوامی نمائندے کھٹ پتلی ہونے کے حوالے سے عوام کے ساتھ ساتھ اب خود وزراء بھی کبھی اسمبلی میں کبھی سوشل میڈیا پر کبھی اخباری بیانات میں برملا اظہار کرتے نظر آتا ہے۔ اس پہلے اسپیکر ناشاد کی طرف سے کہا گیا تھا اُنکی حیثیت مینڈک کی طرح ہے اسلام آباد میں اُنکی کوئی شنوائی نہیں ہوتی، اسی طرح میجر امین بھی برملا اظہار کرچُکے ہیں کہ اُنکی حیثیت صرف مراعات کی وصولی تک محدود ہیں،کپٹن شفیع اسمبلی کے فلور پر ہمیشہ کہتے رہے ہیں کہ اراکین اسمبلی بے اختیار ہیں اور خود وزیر اعلیٰ غیرقانونی ٹیکس ختم کرنے کے حوالے سے اقرار کر چُکے ہیں کہ یہ ٹیکس کے خلاف عوام کا ساتھ دینا اُن کے بس میں نہیں۔ اب وزیر تعلیم ابراہیم ثنائی نے سوشل میڈیا پر اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے عوام اور صحافیوں سے کرپشن کے خلاف جہدوجہد کی اپیل کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں،،اسلام آباد میں موجود گلگت بلتستان کے زیر انتظام نیٹکو آفس کے ایک حصے پرپی پی پی کے دور حکومت میں ایک اہم سیاسی شخصیت نے قبضہ کرکے فلنگ اسٹیشن بنا دیا ہے اس معاملے پر تمام اہل قلم اور صحافی برادری خاموش ہے ۔ وفاقی اور مقامی حکومتوں اور ذمہ دار اداروں سے اپیل ہے کہ اس معاملے کی فوری انکوائری کریں اور جی بی کے عوام کو بہت بڑے مالی نقصان سے بچاتے ہوے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں۔
افسوس کی بات ہے جو کام اسمبلی نے کرنا ہے اسے اب عوام اور صحافت کی ذمہ داری لگا دی ہے گلگت بلتستان میں صحافت کے نام پر کام کرنے والے اگر صحافتی امور ذمہ داری سے ادا کرتے تو جھوٹی بیانات کون چھاپے گا یہ ایک سنگین مسلہ ہے کیونکہ اخبارات کی رسیاں مفادات سے پہلے بھی جڑی تھی اور آج بھی ہے یہی وجہ ہے اگر صحافی اس قسم کے اہم ایشوز پر رپورٹ لائیں تو بھی شائع نہیں کرتے۔
حکومت اراکین کو چاہئے کہ اپنے مرعات کیلئے قوم کا وقت اور اپنا عمر ضائع کرنے کے بجائے اب وہ وقت آن پونچا ہے کہ گلگت بلتستان کے حوالے سے عوام کو سچ بولیں اور متنازعہ حیثیت کے مطابق حقوق لینے کیلئے جدوجہد کریں۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc