متنازعہ گلگت بلتستان میں غیرقانونی ٹیکسز کی نفاذ کے خلاف گلگت میں ایک بار پھر تاریخی دھرنے کی تیاریاں عروج پر۔

گلگت( تحریر نیوز) گندم سبسڈی دھرنے کی طرح ایک بار پھر گلگت میں پہیہ جام کی تیاریاں عروج کو پونچ گئی، تفصیلات کے مطابق انجمن تاجران کی آل پارٹیز کانفرنس میں ظالمانہ ٹیکس نظام گلگت بلتستان میں نافذ کرنے کے اجتماعی احتجاج، ہڑتال اور دیگر ممکنہ اقدامات ٹیکس کے نفاذ کے خلاف عوام کو متحرک کرنے پر غور کیا گیا ہے۔ اس کانفرنس میں عوامی ایکشن کمیٹی کے چیرمین مولانا سلطان ریئس اورعوامی ایکشن تحریک کے چیرمین صدر سپریم اپلیٹ کور بار احسان علی ایڈوکیٹ نے متفقہ طور پر تحریک کے کامیابی کے لئے کردار ادا کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اس کے علاوہ جے یو آئی، جماعت اسلامی، تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی،تحریک اسلامی، دمیٹلز، منرلز اینڈ جیمز ایسوسی ایشن، اور دیگر تمام پارٹیوں کے زمہ داران نے بھی شرکت کی اور آگے کے لائحہ عمل کے لئے باقاعدہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ جو عوامی احتجاج، ہڑتالوں، اور حکومت کے ساتھ مزاکرات کے لائحہ عمل پر بھی فیصلے کرنے کی مجاز ہوگی۔

دوسری طرف سکردو میں انجمن تاجران سکردو کی جانب سے منعقد آل پارٹیز اجلاس کو ناکام بنانے میں حکمران جماعت کے اراکین نے اہم کردار ادا کیا اور وزیر اعظم کے دورے کا بہانہ بنا کر احتجاج کو موخر کیا ہے، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وزیر اعظم کی آمد کے موقع پر عوام ظالمانہ ٹیکس نظام کے خلاف سڑکوں پر لے آتے لیکن حکومتی اراکین  بڑی چالاکی سے انجمن تاجران اور دیگر پارٹیوں کو رہنماوں کو مامو بنانے میں کامیاب ہوئے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc