اقوام متحدہ کا کردار۔ تحریر: محمد عثمان حسین

نسل پرسطی وطنیت وقومیت اور دنیا پر برتری حاصل کرنے کے سلسلے میں بڑے قوموں کے درمیان رقابت نے دنیا کو پہلی عالمی جنگ کے بعد 1939 میں دوسری مرتبہ تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کر دیا تھا. چھ سال تک بڑی قوتیں اپنے اتحادی ممالک سمیت کرائے کے سپاہیوں اور تباہ کن اسلحہ کے زریعہ انسانیت کو بربادی کا پیغام دیتے رہے.بلا آخر ہیروشما اور ناگاساکی پر امریکی ایٹمی حملے سے تصادم تو ختم ہوگیا لیکن تاریخ کے اوراق سے امریکہ کی طرف سے انسانیت پر ہونے والا ظلم مٹانا ممکن نہیں رہا.دنیا انسانیت کے ساتھ ناروا سلوک پر امریکہ کو دہشت گرد کہنے کی جرآت تو نہیں رکھتی لیکن اس جنگ کو جنگ عظیم کے نام سے ضرور یاد کرتی ہے.لاکھوں جانوں کے ضیاء اور اقتصادی بربادی کو دیکھ کر انسانیت بلبلا اٹھی تو دوسری جنگ عظیم کے فاتحین نے امن برقرار رکھنے کیلئے ایک تنظیم قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا.25 اپریل 1945 سے جون 1945 تک سان فرانسیکو میں پچاس ملکوں کے نمائندوں کی ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ایک بین الاقوامی ادارے کے قیام پر غور کیا گیا.اور ایک منشور مرتب کیا گیا. جس کو چارٹر آف اقوام متحدہ کہا جاتا ہیں اس چارٹر پر 26 جون 1945 کو دستخط ہواتھا لیکن اقوام متحد ہ 24 اکتوبر 1945 میں معرض وجود میں آئی .اقوام متحدہ کا نام امریکہ کے سابق صدر روز ویلٹ نے تجویز کیا تھا. اقوام متحدہ کا 26 صفصات پر مشتمل چارٹر اس کے بنیادی اصول , مقاصد اور تنظیمی ڈھانچے کی وضاحت کرتا ہے. اقوام متحدہ کے بنیادی مقاصد میں آئندہ نسلوں کو جنگ کی تباہ کاریوں سے بچاکر قوموں کے باہمی تنازعات کو پر امن طور پر حل کروانا شامل ہے. انسانوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ آذادی وخودمختاری کا احترام اور مزہب وجنس کی بنیاد پر امتیازات کے بغیر انسانی حقوق کو تسلیم کرواناہے. ہرسال ستمبر کے مہینے میں یو این کا سالانہ اجلاس امریکہ کے شہر نیویارک میں ہوتا ہے . رواں سال بھی یواین کا باقاعدہ سالانہ اجلاس 19 سے 25 ستمبر تک ہواجس میں تنظیم کا بنیادی مقصد امن پر بھرپور توجہ مرکوز رکھی گئی. یواین کے 72 واں سالانہ اجلاس کے ایجنڈے میں تعلیم ,ماحولیاتی تبدیلی اور اقتصادی مسائل شامل تھے .اقوام عالم کا 72 واں اجلاس اس لیے بہت اہمیت کا حامل تھا کیونکہ موجودہ حالات میں دنیا کا امن خطرے سے دوچار ہے.مشرقی وسطی خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہیں .امریکہ کی نئی جارجہ پالیسی اور شمالی کوریا سے تعلقات ,مزہبی بنادوں پر فلسطین ,کشمیر اور اب برما میں مسلمانوں پر دل سوز مظالم اقوام متحدہ سے بہت سی امیدے وابستہ کی ہوئےتھے ایک بار پھر سرد جنگ شروع ہوچکی ہے جو بہت تیزی سے تیسری عالمی جنگ کی سبب بننے جارہی ہے یواین میں تمام رکن ممالک کو یکساں حیثیت حاصل ہونے کی باتیں صرف دعواوں تک محدود ہوچکے ہے. اقوام متحدہ پر سپر پاور ممالک کا تصلد قائم ہوچکاہے.سپر پاور ممالک کی اجاراداری نے اس دفعہ بھی اقوام متحدہ کو صرف قراردادوں کی حد تک محدود کرکے رکھا. جس پر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ چھوٹے رکن ممالک کا اقوام متحدہ پر اعتماد ختم ہوتا جارہا ہے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc