گلگت بلتستان بچاؤ تحریک کاسکردو میں احتجاجی مظاہرہ ،عبوری صوبہ مسترد،آئین ساز اسمبلی کا مطالبہ۔

سکردو(پریس ریلیز)گلگت بلتستان بچاؤ تحریک کے زیر اہتمام یادگار چوک سکردو پر گلگت بلتستان کے آئینی حقوق، سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی اور قدیمی تجارتی راستوں کی بحالی کیلئے احتجاجی مظاہرہ ہوا ۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے عوامی ایکشن کمیٹی کے ترجمان محمد علی دلشاد نے کہا کہ گلگت بلتستان کو تنازعہ کشمیر کی تناظر میں خودمختار اسٹیٹس کے علاوہ حکومت پاکستان کے پاس صوبائی حیثیت دینے کا کوئی قانونی اور اخلاقی جواز نہیں ۔حکومت پاکستان آرٹیکل 257 میں تبدیلی کے ذریعے صوبائی سیٹ کا خواب دیکھ رہا ہے ۔گلگت بلتستان کے عوام پچھلے بہتر سالوں self empowerment کیلئے دربدر ہورہے ہیں یہاں کے قدرتی وسائل پر بیرونی دراندازی خطے کی باسیوں کے احساس محرومی واستحصال کی سب سے بڑی وجہ ہے ۔گلگت بلتستان مقدمہ کشمیر کا اولین حصہ ہے اور 20 اپریل 1927ء کو مہاراجہ ہری سنگھ نے ریاست کشمیر 84471 مربع میل کی خودمختاری کو بیرونی دراندازی اور مداخلت سے محفوظ رکھنے کیلئے اسٹیٹ سبجیکٹ رول لاگو کیا تھاجسے اقوام متحدہ نے اپنے مختلف قراردادوں میں کشمیر کی خودمختار اسٹیٹس کے ساتھ برقرار رکھنے کا حکم جاری کیا جا چکا ہے ۔اس کے باوجود ایک طرف پاکستان کا عدلیہ سمیت پارلیمان اور اسٹبلشمنٹ گلگت بلتستان کو متنازعہ کشمیر کا حصہ گردانتے ہیں دوسری جانب خود مختار اسٹیٹس اور اسٹیٹ سبجیکٹ رول کی خالاف ورزی کرتے ہوئے یہاں کے قدرتی وسائل کا بندر بانٹ کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حیثیت کا اعلان سے خطے میں استحصالی نظام مزید مضبوط ہونگے عوام مزید احساس محرومی کا شکار ہونگے البتہ ریاست پاکستان کیلئے یہاں کے قدرتی وسائل پر ہاتھ صاف کرنے کا موقع میسر ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کا تنازعہ کینسر کی موزی مرض کی طرح ہے جسے جتنا چھیڑے اتنا ہی مزید پیچیدگی بھڑتی جائے گی ۔ریاست پاکستان اس مرض کی باربار ناتجربہ کار کمپوڈرز کے زریعے جراحت کر کے مشکلات میں اضافہ کرنے کے بجائے بین الاقوامی ماہرین جراحت نے جو ھدایات دی ہیں ان پر عمل درآمد کریں ۔جس سے ملک کی بنیادیں مضبوط ومستحکم ہوگی ۔ احتجاجی مظاہرے سے مولانا حسن جوہری،شبیر مایار سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا اور آذاد کشمیر کےوزیراعظم فاروق حیدرکو تنبیہ کی کہ وہ دھرتی سے غداری نہ کریں۔ مقررین کا کہنا تھا کہ چند بکے ہوئے کشمیریوں نے ہمیشہ گلگت بلتستان کے عوام کی خواہشات کا سودا کیا ہے۔گلگت بلتستان کے عوام کسی صورت بھی استصواب رائے کے حق سے دستبردار نہ ہونگے۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc