آئینی صوبہ سے عبوری صوبہ تک

آئینی صوبے کی غبارے سے ہوا نکل چکی ہے اور اب عبوری صوبہ کی لال بتی کے پیچھے عوام کو لگانے کی کوشش بھی مدھم ہو رہی ہے، آئین کی آرٹیکل ون میں تبدیلی کرکے گلگت بلتستان کو مستقل طور پر پاکستان میں ضم کرنے کا شوشہ بھی گلگت بلتستان کی عوام کی طرف سے سخت رد عمل کے سامنے آنے کے بعد دم توڑ گئی ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماء شیرین رحمان کی اس انکشاف کے بعد کہ راولپنڈی میں آئی ایس آئی میس میں عسکری کمان کی پاکستان کے آئین کی آرٹیکل 257 اور 258 میں ترمیم کے ذریعے گلگت بلتستان کو عبوری طور پر پاکستان میں ضم کرنے کی تجویز کو سیاسی جماعتوں کی شدید رد عمل کے پیش نظر موخر کر دی گئی ہے، اس بارے میں پاکستان مسلم لیگ کی رہنماء مریم نواز نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کا مسئلہ سیاسی ہے جسے پارلیمنٹ میں حل ہونا چائیے۔پی پی پی کے چئیرمین بلاول بھٹو نے یہ کہہ کر کہ گلگت بلتستان کی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق گلگت بلتستان کی عوام کو ہے، پاکستان کی سیاسی قیادت اور عسکری کمان کو چونکا دیا ہے اور انہی دنوں آل پارٹیز کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کی سیاسی معاملات اور انتخابات میں ملٹری اسٹپلشمنٹ مداخلت سے گریز کریں۔
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی اس بیان کے بعد کہ گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنایا جائے گا، گلگت بلتستان کی عوام کو حقیقت سمجھ آگئی ہے کہ یہاں کے عوام کو ایک بار پھر لولی پاپ دی جا رہے ہے، کسی بھی ملک کا صوبہ بننے کے لئے ضروری ہے کہ وہ خطہ اس ملک کا حصہ ہو، گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ بنانے سے پہلے گلگت بلتستان کا پاکستان کا آئینی اور جغرافیائی حصہ بننا ضروری ہے، جبکہ گلگت بلتستان، پاکستان کا آئینی و جغرافیائی حصہ ہی نہیں۔ پاکستان کی آئین کی آرٹیکل ون میں پاکستان کی جغرافیہ کا ذکر ہے، اس ضمن میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ اگر کوئی خطہ پاکستان میں ملے تو سے بھی آرٹیکل ون میں ترمیم کرکے شامل کیا جائے گا۔ لیکن گلگت بلتستان کے بارے حکومت پاکستان کا موقف واضع ہے کہ یہ خطہ ریاست جموں و کشمیر کی اکائی ہے اور متنازعہ خطہ ہے جبکہ حکومت پاکستان اس تنازعے میں ریاست جموں و کشمیر کا وکیل ہے، وکیل اپنی موکل کی ملکیت کو اپنی ملکیت کیسے بنا سکتی ہے اور وکیل دوران کیس موکل کی ملکیت کو اپنے نام انتقال کرنے کی کوشش کرے تووہ مقدمہ ہار جائے گا۔ حکومت پاکستان کو اس بات کا ادراک ہے لہذا یہ فیصلہ ہوا ہے کہ آئین کی آرٹیکل ون کو نہیں چھیڑا جائے گا بلکہ آئین کی آرٹیکل257 اور258 میں ترمیم لائی جائے گی۔
آرٹیکل 257 کا تعلق پہلے سے ہی ریاست جموں و کشمیر سے ہے اور اس آرٹیکل کی روشنی میں آزاد کشمیر کو ریاستی سیٹ اپ دی گئی ہے، اور اس اآرٹیکل کے اندر لکھا جائے گا کہ گلگت بلتستان جوکہ تنازعہ کشمیر کی اکائی ہے اسے عبوری صوبائی طرز پر چلایا جائے گا۔ جبکہ آرڈر 258 صدارتی حکم نامہ سے متعلق ہے اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ عبوری صوبہ کو صدارتی حکم نامہ کے ذریعے گلگت بلتستان میں نا فذکیا جائے گا۔ آئین کی آرٹیکل257 اور258 کو دوبارہ ترمیم کے ساتھ لکھتے وقت دو سے تین بار گلگت بلتستان استعمال ہوگا اور اسی کو کہا جائے گا کہ گلگت بلتستان کو آئین میں شامل کیا گیا اور عوام کو آئینی حقوق مل گئی۔ گلگت بلتستان سے تین یا چار لوگوں کو بطور مبصر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی دی جائے گی تاکہ عوام میں یہ تاثر پیدا ہو کہ ہمیں حق نمائندگی حاصل ہو چکی ہے۔
حکومت پاکستان نے کشمیری قیادت کو اس معاملے میں اعتماد میں لی ہے اور یقین دھانی کر ائی ہے کہ اس عبوری سیٹ اپ سے تنازعہ کشمیر متاثر نہیں ہوگا اور نہ ہی اقوام متحدہ کی قرار دادیں متاثر ہوگی، حکومت پاکستان کی کشمیر پالیسی میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ گلگت بلتستان بدستور تنازعہ کشمیر کا حصہ رہے گا،اس سیٹ اپ سے حکومت پاکستان کو گلگت بلتستان میں تیزی سے ابھرتی ہوئی قومی شعور اور احساس محرومی کو وقتی طور پر دبانے کا موقع ملے گا، اور عوام بالخصوص نئی نسل کے اندر پیدا ہونے والی قومی تشخص و آزادی کی سوچ سبوتاژ ہوگی اور یہ تاثر بھی ختم ہوگا کہ کشمیری قیادت گلگت بلتستان کے بد خواہ ہیں اور حقوق میں رکاوٹ ہے۔کشمیر قیادت نے بھی حکومت پاکستان کی اس عبوری موقف اور ایکشن پر خاموش رہنے کا عندیہ دیا ہے۔حکومت پاکستان کو اس طرح کی ہنگامی اور غیر مقبول اقدامات کی ضرورت کیوں پیش آئی، یہ ایک اہم نکتہ ہے اس کا جواب وزیر خارجہ شاہ محمود کی ٹی وی تاک شو سے ملتا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں قومی حقوق کی جد و جہد منظم اور مستحکم ہو رہی ہے جس کے پیچھے بیرونی ممالک کا ہاتھ ہے۔ عسکری کمان کی پاکستان کی حزب اقتدار و اختلاف کی جماعتوں کو چھری تلے جمع کرکے عبوری صوبہ کا اعلان ہوتے ہی گلگت بلتستان کی عوام کی شدید رد عمل سامنے آیا ہے، گلگت بلتستان کی سیاسی، مذہبی و قومی رہنماؤں اور کارکنوں نے عبوری صوبے کو سٹیٹ سبجیکٹ رولز کی بحالی کے ساتھ قبول کرنے کی شرط رکھی ہے۔ تحریک انصاف عبوری صوبہ کو گلگت بلتستان کی نجات کا راستہ سمجھتی ہے، پی پی پی اور مسلم لیگ ن اس فیصلے کو پی ٹی آئی کی الیکشن جیتنے کا سیاسی چال سمجھتی ہے، مذہبی جماعتوں کی طرف سے ملا جلا رد عمل سامنے آئی ہے جبکہ گلگت بلتستان کی قومی جماعتوں نے عبوری صوبہ کو گلگت بلتستان کی قومی تشخص اور خود مختاری کے خلاف سازش قرار دے کر مسترد کر دی ہے۔ سول سوسائیٹی اور سوشل میڈیا ایکٹیوس عبوری صوبے کو گلگت بلتستان کو حاصل رعایات کو ختم کرنے اور یہاں کی وسائل تک رسائی حاصل کرنے کا حکومتی حربہ سمجھتے ہیں۔ عوامی رائے یہ ہے کہ عبوری صوبہ پی ٹی آئی کی سردیوں میں منعقد ہونے والی انتخابات میں کامیابی کے لئے عوام کو پلائی جانے والی شوربہ ہے جس میں ووٹرز کی بدن گرم کورکھنے کے لئے بھنگ اور شہد کی ملاوٹ عبوری طور پر کی گئی ہے۔

تحریر: انجینیر منظور پروانہ

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc