سفر ناران کاغان (قسط نمبر 2)

بیسل:
شاہراہ کاغان پر لولوسر سے 10 کلومیٹر اور بابوسر سے تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر بیسل کا مقام ہے۔سطح سمندر سے 10600 فٹ بلندی پر واقع اس سرسبز جگہ پر ہر طرف سرسبز ہی سرسبز ہیں۔لولوسر اور گیٹی داس کی طرح کاغان کے اس حصے میں بھی درخت ناپید ہیں۔دور دور تک درخت نظر نہیں آتےہیں۔یہاں مشرق سے ”پربی ناڑ“ اور مغرب سے ”سیداللہ ناڑ“ نالہ آکر دریا کنہار میں ملتےہیں۔بیسل کے مقام پر پہلے آبادی بہت کم تھی۔اور یہاں کے مقامی لوگوں کا کہناہیں کہ ماضی میں یہاں پہ افغان لوگ زیادہ تعداد میں پاٸے جاتےتھے۔اس وقت بھی اطراف میں اب بھی افغان خانہ بدوشوں کے بہت سے جھونپڑی اور خیمے کے آثار نظر آتےہیں۔
لکین اب ”بیسل“ کے مقام پر خیبرپختونخواہ سے زیادہ گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کے لوگوں کے ہوٹلزہیں۔اور چلاس کے لوگوں نے کاغان کے پشنی باشندوں سے کافی زیادہ رقبے پر محیط علاقہ خرید کر ہوٹل بنایاہیں اس لیے ملک کے دیگر حصوں سے آنے والے سیاحوں کےلیے آرام دہ کمرے، کھانا وغیرہ کی بہترین سہولت میسر ہو۔پنڈی ، لاہور جیسے دور دراز سے آنے والے اکثر سیاح یہاں پر آرام کرکے، دوسرے دن لولوسر اور بابوسر کےطرف روانہ ہوتےہیں۔اس وقت بیسل میں تندوری پراٹھ،بہترین چاٸے اور جنرل سٹور کی سہولت بھی موجودہیں۔گلگت بلتستان سے آنے والے اکثر سیاح یہاں ڈھرےڈالے نظر آتےہیں۔ بیسل کے مشرق میں ”پربی ناڑ“ کی حسین اور دلکش وادی ہے۔جس کے ابتدا ٕ پر وادی کاغان کی سب سے پری چہرہ جھیل دودی پت سر آرام فرماتی ہے۔
ہم بیسل کے مقام پر پہنچ کر تھوڑے دیر رک کر ہوٹلز اور جگہ دیکھنے کےبعد آگٸے کی طرف سفر جاری رکھے۔
عام طور پر بیسل سیاحوں کے آرام کرنے کےلیے بہترین جگہ ہیں لکین لولوسر اور گٹی داس کی طرح خوب صورت نہیں ہیں جو اپنی خوب صورتی کی وجہ سے سیاحوں کو اپنے طرف کھنچھنے کی باعث بنے۔
ہم اپنے گاڑی سے قدرتی مناظر دیکھتے ہوٸے ناران کاغان کی طرف سفر جاری تھی۔اتنے میں دریاکنہار بالکل سامنے ایک خوب صورت خطہ نظر آیا۔اس خطے کے بارے میں ہمارے ساتھی شیرافضل کے زبانی سنیں۔
سرال۔۔۔۔۔
اس جگہ کو سرال کہتےہیں، سرال ایک مکمل غیر آباد علاقے میں واقع ہے لکین گرمیوں میں یہاں گجر لوگ اپنے مال مویشوں سمیت مختصر مدت کےلیے آتےہیں۔اور یہ ویرانہ آباد ہوجاتاہے۔یہ لوگ جون کے اوٸل یہاں پہنچتےہیں۔اور ستمبر کو واپس کوچ کر جاتےہیں۔موسم گرما کی یہی مختصر سی مدت یہاں سال کا خوب صورت ترین وقت ہے۔جب سبزہ اور پھول اپنی بہار دکھلاتےہیں۔ورانہ سارا سال یہاں برف راج کرتی ہے۔سرال کی یہ مختصر کہانی ماموں شیرافضل کے زبانی سنا ہم نے، ہمارے اس کہانی کی بیچ میں فاٸدہ اٹھاتے ہوٸے چھوٹے ماموں شیر بہادر اور بھاٸی عطإاللہ نے ویڈیو اور تصویریں بنایا۔
یہاں تھوڑے دیر انتظار کے بعد پھر اپنے گاڑی میں بیٹھ کر آگٸے کے طرف ٹریول جاری رکھا۔میں نے گاڑی کے شیشے نیچے کرکے کوٸی بھی خوب صورت اور اچھی جگہ دیکھا اس کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرنے کی بھرپور کوشش کیا اور گپ شپ جاری تھا ساتھ میں مرحوم عبدالغفور چلاسی کے شنا کلام چل رہےتھے گاڑی ڈراٸیو شیر بہادر کرتے تھے۔اتنے میں ہم ایک اور خوب صورت جگہ پہنچےاس جگہ کا نام سڑک کے کنارے بورڈ پہ لکھا تھا۔
ویلکم ٹو جلکھڈ:____
شاہراہ کاغان پر سرال سے 10 کلومیٹر اور لولوسر سے تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر جلکھڈ کا خطہ آباد ہے۔سطح سمندر سے 10,300 فٹ کی بلندی پر واقع اس بظاہر بےآباد بستی کی آبادی دور دور تک بکھری ہوٸی تھی۔
بسیل کی طرح جلکھڈ میں بھی اب سیاحوں کےلیے ہوٹلنگ سسٹم متعارف کروایاگیاہے۔یہاں پر کرایہ پر ہوٹل کےکمرے کے سہولت بھی موجود ہیں۔چاٸے بوتل اور فروٹ بھی ملیں گے۔ہم نے ویسے بھی یہاں روکنا نہیں تھا ہوٹل،چاٸے خانے،اور دیگر سہولتیوں کا جاٸزہ لیکر ناران کاغان والے سفر جاری کیا۔اب ہم نے راستے میں مشورہ کیا کہ ناران کاغان کے جتنے خوب صورت جھلیں ان کو دیکھیں گے یا سوات سے واپسی میں آکر دیکھیں گے۔سب نے راٸے سوات سے واپسی میں آکر دیکھنے کی دیا۔یہ مشورہ ہمارا ختم نہیں ہوا تھا ہم بٹہ کنڈی کے مقام پہ پہنچے۔
ویلکم ٹو بٹہ کنڈی:_____
بٹہ کنڈی کےمقام پر پہنچے تو وہاں پرسرسبز کھیتوں میں گھرا ہوا آبادی نظر آیا، وہاں ہم تھوڑے دیر رک کر مقامی لوگوں سے بات چیت کیاتو ہمیں پتہ چلا کہ بٹہ کنڈی ناران کے آلو اور مٹر کی ایک اہم منڈی کی حثیت رکھتی ہے۔8700 فٹ بلندی پر واقع بٹہ کنڈی ایک وسیع اور ہموار قطعہ زمین پر واقع ہے۔اور قصبے کے آس پاس سرسبز کھیت اور میدان دور دور تک پھیلے دکھاٸی دیتےہیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہیں کہ بٹہ کنڈی انگریز دور کا ایک اہم پڑاو تھا۔اور یہاں انگریز دور کے فارسٹ اور ریسٹ ہاوس اور یوتھ ہاسٹل انتہاٸی مخدوش حالات میں آج بھی موجود ہیں۔ہم بٹہ کنڈی سے سے آگٸے سڑک دریاکنہار کے ساتھ بتدریج سفر جاری تھی اور آس پاس سبزے میں گھرے گاوں نظر آتے تھے۔لکین بٹہ کنڈی کی پل پہ دو طرفہ گاڑی کراس نہ ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ رش ہوتی ہیں۔جس سے مسافروں کو کافی تکلیف اٹھانا پڑتی ہیں۔
ہمارا بٹہ کنڈی سے اگلا پڑاو ”بڑاواٸی“تھے۔جب ہم بڑاواٸی پہنچے تو وہاں کافی تعداد میں سیاحوں کےلیے بڑےبڑے ہوٹل مین شاہراہ کےساتھ بنے ہوٸے نظر آٸے۔بڑاواٸی کے مختصر سا بازار ہیں_جہاں سیاحوں کی ضروریات کے سامان میسر ہیں۔بڑاواٸی میں PWD کے ایک ریسٹ ہاوس بھی ہیں۔
ہمارا سفر اسی طرح جاری ہیں۔ہمیں رات کو آرام کرنے کےلیے ناران پہنچناتھا۔اس لیے راستے میں جو بھی خوب صورت منظر آتاہیں کچھ دیر رک کر دیکھنا بھی ضروری ہیں اور ساتھ ہی وقت کی قلت کی وجہ سے شام سے پہلے پہلے ناران پہنچنا بھی ضروری ہیں۔
جب ہم ناران بازار کے قریب قریب پہنچے تو ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے راستہ نہیں مل رہاتھا۔تھوڑے انتظار کرنے کےبعد روڈ بھی کھل گیا اور ٹریفک جام ہونے کی وجہ بھی پتہ چلا،اصل میں کوٸی وزیر آیاتھا اس لیے اس کے پرٹکول میں ٹریفک جام ہوگیاتھا۔مغرب کے قریب قریب ہم ناران بازار پہنچ گیا۔
ویلکم ٹو ناران:______
ناران وادی کاغان کا دل ہے۔وادی کاغان کی ٹورازم انڈسٹری کا مرکز و محور اور سیاحوں کا محبوب ترین مقام ہے۔
ناران بازار پہنچ کر میں اور ماموں شیر بہادر چاٸے پینے سڑک کے ساتھ جھونپڑی نما ہوٹل میں بیٹھ گٸے ماموں شیرافضل اور بھاٸی عطإاللہ کمرے کی تلاش میں نکلے۔
اور ہم چاٸے خانے میں بیٹھ کر وادی ناران کے خوب صورت نظاروں میں کھوگیا۔مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ وادی ناران اپنی دلکشی اور خوب صورتی میں اپنی مثال آپ ہے۔ناران بابوسر سے تقریباً 100 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ہمارےگاٸیڈ کا کہناہیں کہ یہاں سردیوں میں خوب برف ہوتی ہے اور گرمیوں میں ناران کاغان کاموسم بہت دلکش اور خوب صورت ہوتےہیں۔شام کو عموماً خنک اور راتیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔مری کے بعد ناران دوسرا سیاحوں کا پسندیدہ سیاح گاہ بن چکاہے۔اس وقت ملک کے دوسرے حصوں سے لوگ کھچاکھچ آتےہیں۔
جب ہم نے چاٸے پی کر فارغ ہوٸے تو کال آٸی آٹین کیا تو ماموں شیرافضل تھے۔انہوں نے کہاں کہ بازار کے نیچے دریا کےساتھ روڈ اس طرف سے آگٸٕے آو ہم نے کمرہ کیاہیں۔کمرے کرایہ پہ تقریبا 3000 میں لیاتھے۔وہ بھی ہوٹل والا جان پہچان والا نکلا ورانہ 6000 ہزار سے کم میں کمرہ نہیں ملتےہیں۔ناران بازار میں تمام اقسام کے ہوٹل موجود ہیں۔اور ہر سال نٸ ہوٹل بھی تعمیر کی جارہی ہیں۔سیزن میں سیاحوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے اکثر یہ ہوٹل بھی کم پڑجاتےہیں۔یہاں کے مقامی لوگوں کا کہناہیں کچھ دن ایسے بھی آجاتےہیں سیاح کو ہوٹلوں میں جگہ نہ ملنے کی وجہ سے گاڑیوں میں رات گزارتےہیں یا پھر خیمے میں رات گزارنے پہ مجبور ہوتےہیں۔عام طور پر اس طرح کے سیزنل میں ہوٹلوں کی کرایہ آسمان سے باتیں کرتے ہیں۔(جاری)

تحریر۔۔۔ضیإاللّٰہ گلگتی

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc