عبد الحمید خان بمقابلہ مقامی چور..

عبد الحمید خان کے مطابق اُنہوں نے بیس سالوں تک ہندوستان کی خفیہ ایجنسی راء سے ماہانہ 25 ہزار یورو جو آج کی شرح قیمت میں 4950000 پاکستانی روپیہ بنتا ہے. لیتے رہے۔ بقول اُنکے اُن کو یہکثیر رقم گلگت بلتستان میں دہشت گردی کیلئے ملتا تھا۔ لیکن اُنہوں ان پیسوں کو دہشت گردی کے بجائے لوگوں کی فلاح اور فلاحی کاموں پر خرچ کیا۔ اب اُس نے غذر میں کس قسم کے فلاحی کام کئے ہیں جسکا مجھےکم ازکم علم نہیں۔لیکن سوشل میڈیا پر اُن کے اوپر لعن طعن کی بارش ہورہی ہے۔ ہر کوئی اُنکو مختلف ناموں سے پُکار کر دل کی بڑاس نکال کر ایک بار پھر الحاقیوں کے پپا میجر بروان کی یاد تازہ ہو رہی ہے۔ جب اس نے کہا تھا کہ گلگت لداخ کے لوگ شعور سے خالی فقط ایک جنگجو قوم ہیں۔
اگر ایسا نہیں تو ذرا دماغ کے دریچوں کو ایک پل کیلئے کھول کر غور کریں کہ ایک شخص جو دشمن ملک سے پیسہ لے رہا تھا اسکو ریاست پاکستان نے بغیر کسی عدالتی ٹرائل کے معاف کرکے آذادی دے دی اور اُس کے معافی نامے کو قبول بھی کر لیا. مگر آپ نوحہ کناں کیوں؟۔اب ذرا تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں اور لعن طعن کی توپوں کا رُخ موڑ دیجئے۔ بلکہ سوال ہے کہ اس قسم کے لوگوں کو گریبانوں سے پکڑنے کیلئے کب کونسی منبر سے کس عالم دین یا مولوی نے فتویٰ جاری کیا؟ شائد کوئی ریکارڈ نہیں۔
گلگت بلتستان میں سرکاری فنڈز ایک طرح سے ایک منافع بخش صنعت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس بات کا اقرار سابق وزیر تعمیرات نے بھی گزشتہ دنوں کی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں پروفیشنل ڈاکٹر وزیر تعمیرات بننے کو ترجیح دیتے ہیں، ٹھیکدار وزیر خزانہ بن جاتے ہیں، حافظ قرآن اپنے بھائیوں کی ٹھیکداری کے کام پر لگا کر ٹھیکے تقسیم کرواتے ہیں، شاعر اہلبیت کی سیاسی گاڑی ٹھیکداروں کے دھکے سے چلتی ہے۔ مذہبی اہم شخصیات ہو یا اعلیٰ تعلیم سب کسی بڑے ٹھیکدار کے دسترخوان پر مہمان بننے کو اپنے لئے اعزاز سمجھتے ہیں۔ پس یوں سمجھ لیجئے کہ ٹھیکیدار ہونا معاشرے میں عزت دار ہونے کی سند سمجھی جاتی ہے۔
گلگت بلتستان شائد دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں ٹھیکدار بینک میں ذیادہ پیسہ ہونے کا فخر عوامی محلفوں میں کھلے عام کرتے ہیں۔ دوسری طرف معاشرے میں آوے گا آوہ بگڑا ہوا ہے۔ معاشرہ ترقیاتی کاموں کا قبرستان بنا ہوا ہے۔ کہیں پُل اور کہیں سرکاری عمارتیں زمین بوس ہورہی ہے، سڑکوں کو پشتوں پر کھڑا کرکے ایک سال کے اندرتہس نہس ہوجاتی ہے، بجلی گھروں کی تعمیرات کا سال مکمل نہیں ہوتے واٹر چینل اور عمارت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونا معمول کی بات ہے لیکن نوٹس لینے والا کوئی نہیں۔
لیکن معاشرے میں وہی ٹھیکیدار قابل احترام بھی ہے اور معزز بھی۔ کیا کسی کو معلوم ہے کہ گلگت بلتستان میں ماضی سے لیکر حال تک ٹھیکوں کی تقیسم کے سرکاری طریقہ کار پر کس قدر عمل درآمد ہوتا رہا ہے؟ کیا کسی کو معلوم ہے کہ چیف انجینئر جس کا کام چیک اینڈ بیلنس ہے وہ اپنے دفاتر میں ٹھیکے تقیسم کر رہا ہوتا ہے اور سرکار انکو ایوارڈ سے نوازتے ہیں۔گلگت بلتستان میں عوام کے نام وفاق سے حاصل ہونے والے سالانہ اربوں کے پراجیکٹس پر چند کروڑ خرچہ کرکے چند خاندان عوام کے پیسوں سے امیر ہوتے جارہے ہیں اور یہی لوگ سیاست کے نام ہر عوام کو نچاتے بھی ہیں۔ کیا کسی نے الحاج صاحب سے سوال کیا کہ جناب کل جس پیٹرول پمپ کو الیکشن لڑنے کیلئے آپ نے گروی رکھا تھا آج اچانک قرضے ادا ہو کر لائف اسٹائل ایک دم کیسے تبدیل ہوگیا؟ کیا کسی نے ایک اور الحاج سے پوچھا کہ آپ پہلے اسٹیج اداکار پھر معمولی سرکاری کلرک کے بعد سیاست میں انٹری مارتے ہی ارب پتی کیسے بن گیا؟ ۔کیا کسی نے سوشل میڈیا پر لوگوں کو گالیاں دینے میں مشہور زمانہ اے کلاس ٹھیکدار الحاج صاحب سے پوچھا کہ آپ ہی ارب پتی بننے کی اصل راز کیا ہے؟۔شائد کسی میں تڑ نہیں کہ اس قسم کے سوالات اُٹھائیں ورنہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ گلگت بلتستان ایک طرح سے کرپٹ لوگوں کیلئے شداد کا بہشت ہے جہاں چند خاندان عوام کے پیسے ہڑپ کرکے عوام پر راج کرکے مسجد مدرسے کو اچھا چندہ دیتے ہیں۔
اب ذرا سوچیں کہ عبد الحمید خان سے بڑا مجرم تو ہمارے آس پاس ارد گرد موجود ہیں جنکو سلام کرنے اور ہاتھ ملانے کو ہم اپنے لئے اعزاز سمجھتے ہیں۔ یہ حال پورے گلگت بلتستان کا یقینا ہوگا لیکن راقم جن کے بارے علم رکھتا تھا فقط اُن کا یہاں تذکرہ کیا ہے۔
خدارا منافقت کی دنیا میں رہ کر امام حسین علیہ السلام کا ذکر کرکے ثواب حاصل کرنا چھوڑ دیجئے کیونکہ امام حسین سچ اور حق کا پیکر ہے اور اگر واقعی میں امام حسین کے پیروکار ہیں تو حسین(ع) کی طرح ڈٹ جانا سیکھو۔ یہ مت دیکھو کہ میرے ساتھ کیا ہوسکتا ہے بلکہ یہ دیکھو کہ جو میں کہہ رہا ہوں یا لکھ رہا ہوں اور سچ اور حقیقت پر مبنی ہے یا نہیں۔ اگر سچ اور حقیقت پر مبنی ہے تو رکاوٹیں اور مسائل آپکی مقدر کا حصہ سمجھ لیجیے جسکو سہہ لینے کا جگر پیدا کرو پھر قلم اَٹھاو۔

نوٹ : مذہبی سیکٹرمیں ہونے والے کرپشن کی داستانوں پر انشاللہ پھر کبھی اللہ نے توفیق دی تو قلم اُٹھاوں گا.

تحریر: شیر علی انجم

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc