جو ملک بیچ کے کھاۓ،وہ معزز ٹھہرے

حیران کن اور معجزانہ فقرہ یہ ہے کہ اتنی کرپشن کے بعد بھی کیسے یہ ملک اپنے ٹوٹے ہوے پنجوں پر کھڑا ہے؟ جہاں قدم بہ قدم ہر آدمی پاک دھرتی کو لوٹتا ہوا نظر آتا ہے۔ہر کوئی موقعے کی تلاش میں رہتا ہے کہ اس ملک کے پر اتارنے میں،میں بھی اپنا حصہ ڈالوں۔بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اب لوٹ مار اور کرپشن اس ملک کی جنریشن ٹو جنریشن جینز کے زریعے ٹرانسفر ہوتی جارہی ہے۔ہمارے معاشرے میں ایک کہاوت رقم کی جاتی ہے”جیسے آپ ویسے آپکی نسل”.جو انسان اپنے نقل و حمل میں اچھے قردار کا مالک ہو اس کی آنے والے نسل بھی خداداد صلاحیتوں کی مالک ہوتی ہے،اور اس کی ذات میں ملک و قوم کے لیے حوصلہ افزاء صفات موجود ہوتی ہیں،جو کہ ملک اور قوم سے ہمدردی اور محبت کی صورت میں نظر آتی ہیں۔لیکن المیہ یہ ہے کہ مملکت پاکستان میں رہنے والے نہ خود کو اس ملک کا سمجھتے ہیں اور نہ ہی ملک کو اپنا سمجھتے ہیں،جس کی وجہ سے آج خداداد پاکستان خستہ اور تباہی کے کنارے پر آکھڑا ہوا ہے۔

جہاں تک میرا اپنا خیال ہے پاکسان کو تباہی کے دہانے پر لانے میں دو قوتوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے ایک “کرپشن” اور دوسرا اس ملک کے “جاہل مولوی”۔جب اپنوں میں ہی غدار،مکار،منافق پیدا ہو جائیں تو میدان میں کھڑا شیر بھی کتوں سے ہار جاتا ہے۔پاکستان کی صورت حال بھی کچھ ایسی ہے۔جتنا نقصان اس ملک کو ان دو قوتوں نے پہنچایا ہے شاید ہی کسی اور قوت نے ہی پہنچایا ہو؟۔شاید ہی اس لیے قائد اعظم کا کہا ہوا قول سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ واقع بانی ملت اس ملک کو سیکولر اسٹیٹ بنانا چاہتے تھے۔فرمایا تھا کہ “آپ اپنی مسجدوں ،مندروں ،کلیساوں میں آزادی سے جاکر عبادت کر سکتے ہیں،کسی کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپکا تعلق کس مذہب،طبقہ اور رنگ و نسل ہے”۔اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ آج پاکستان مکمل طور پر ایک مذہبی ریاست بن چکی ہے،جاہل مولویوں کا بول بھالا ہے،ملک مذہب کے شکنجے میں ایسے پھس کر رہ گیا ہے کہ دور دور تک چھٹکارے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ پاکستان اب کے تمام مذاہب،رنگ و نسل اور ذات کا ملک نہیں رہا بلکہ اس ملک پے کچھ خاص لوگوں کی اجارہ داری قائم ہو چکی ہے،جنہوں نے ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کر کھڑا کیا ہے۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مولوی حضرات نے اپنے مفادات اور ضروریات کی خاطر اسلامی تعلیمات کو مسغ کر کے اسکا ایک نیا روپ دھاڈ لیا ہے،جسکی وجہ سے لوگوں تک دین اسلام کی تعلیمات سہی معنوں میں پہنچنے سے قاصر ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان میں مختلف مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے،ایک دوسرے کے گردن کاٹنے کے لیے برسرے پیکار ہوگئے ہیں،اور اپنے ہی مذہب کو دوسرے مذہب پر فوقیت دیتے ہیں۔ماضی میں بھی ان جاہل مولویوں کی وجہ سے پاکستان کو بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑھا ہے اور اب بھی ملک نقصان اٹھا رہا ہے۔فرقہ واریت،انتشار،افراتفری اور دوسرے مذاہب کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کرنا انہی جاہل مولویوں کی پیداوار ہے۔اگر کوئی ان کے بارے میں آواز اٹھاتا ہے تو کفر کے فتوئ لگا کر ہراساں یا یلغمار کرتے ہیں یا پھر غیر مسلم قرار دینا ایک معمولی سی بات ہوگی۔مدارس سے لیکر مسجد تک بچوں کے ساتھ جنسی ذیاداتیاں جو کہ نا قابل بیان ہیں جسکو بیان کرتے ہوۓ قلم بھی آنسو روتی ہے اور ایسے لوگوں پر بار بار لعنت کرتی ہے۔ایک اسلامی ریاست میں ایسے نا قابل بیان فعل عمل میں لاۓ جا رہے ہیں جس پر شیطان پر رشک کرتا ہے اور اپنا باپ مناتا ہوگا۔

پاکستان کو تباہی اور بربادی کے دوسرے پہلو کو بیان کرتے ہیں جس نے پاکستان کو 73 سالوں سے تباہی کے اس کنارے پے لایا ہے جس کو واپس اصلی شکل میں لانا کافی مشکل ہوگیا ہے۔اس ملک میں کرپشن کا رجحان اتنا بڑھ گیا ہے کہ ایک آدمی کو سانس لینے پر بھی رشوت دینی پڑتی ہے۔رشوت،ملاوٹ،بے ایمانی،کام چوری،کاہلی اور pleasurism کی ایسی لت لگ گئی ہے کہ اس کا نشہ اترنے کا نام نہیں لے رہا۔دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ شاید ہی پورے پاکستان میں ہزاروں میں ایک بندہ ہو جو دل جمی کے ساتھ اپنی ذمہ داری نبھاتا ہو،جو ٹھیک وقت پر آفیس یا دیگر کاموں پے جاتا ہو،ٹریفک کے قوانین کی پاسداری کرتا ہو،اشیاءے خوردنی میں ملاوٹ نہ کرتا ہو،اپنے کام سے جی نہ چوراتا ہو،ملک کے قانون کو قانون اول مانتا ہو اور اس ملک کا اپنے آپ کو محب مانتا ہو۔یہ ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے اور آج بھی ہو رہا ہے اس ملک کے نوکر شاہی لوگ پاکستان کو لوٹ کر اسکا خزانہ بیرون ملک منتقل کرتےہیں،جو وقتی طور پر پاکستان میں ہوتے ہیں لیکن وہ اصل میں پاکستانی نہیں ہوتے۔اسکی مثالیں آپکو ماضی کی کتابوں میں بھی ملنگے اور آج بھی دیکھنے کو مل رہی ہیں۔

ستم ظریفی اس بات کی ہے کہ یہ ملک تو سب کا ہے لیکن اس ملک کا کائی نہیں ہے۔کرپشن آج نسل در نسل ہماری نسلوں میں پروان چڑ رہی ہے۔ایک چھوٹا بچہ بھی بازار جاتا ہے تو قیمت وصول کر کے جاتا ہے۔ہم نے اپنی نئ نسل کو بھی اسی کام پر لگا دیا ہے جس کو ہم دہائیوں سے کرتے آرہے ہیں۔اس ملک میں امیر دن بہ دن امیر سے امیر تر ہوتا جارہا ہے اور غریب تین وقت کی روٹی کے لیے ترستا ہے اور سر پے چھت کے لیے موسموں کی پرواہ کیے بغیر لہو پسینہ ایک کرتا ہے،اور ذلت ومحرومی کی ذندگی بس کرے پر مجبور ہے۔جس معاشرے میں نا انصافی اور ظلم کا بول بالا ہو،جس معاشرے میں مظلوموں پر ظلم کے پہاڈ ڈھاے جاتے ہوں اس معاشرے کی حثیثت فقط ایک خستہ مکان کی سی ہو جاتی ہے جس میں بیٹھنے والا خود موت کو دعوت دیتا ہو۔معاشرے ظلم و جبر اور نا انصافی کی بنیاد پر قائم نہیں ہوتے بلکہ مساوات کی بنیاد پے قائم ہوتے ہیں۔

لیکن افسوس اس بات کا بھی کہ ہمارا معاشرہ پھر بھی انہی لوگوں کا حامی ہے جو ملک کو غیروں کے ہاتھوں بھیج دیتا ہے۔انہی لوگوں کو عزت و احترام سے نوازا جاتا ہے جو اس ملک کی بربادی کے ذمہ دار ہیں۔اس ملک میں غریبوں کے لیے تو قانون بناے جاتے ہیں لیکن امیروں کے لیے کوئی قانون نہیں۔ان کو پوچھنے والا کوئی نہیں۔ملک کو تباہی کے راستہ پے لا کر یہ لوگ بیرون ملک جائدادیں بناتے ہیں اور اپنا پورا سرمایہ ملک سے باہر لے جاکر اپنے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچاتے ہیں،اور انہی لوگوں کو ہمارا معاشرہ معزز اور قابل احترام سمجھتا ہے۔

 

از قلم؛اعجاز علی بومل

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc