اعلیٰ حکام سیپ سکولوں میں 18 سے 20 سال سروس کرنے والے اساتذہ پر رحم کریں پی ٹی ائی سکردو

سکردو(پ ر) پاکستان تحریک انصاف ضلع سکردو کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل حسن صبا نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ چیف سیکرٹری سیکرٹری تعلیم ڈائریکٹر ایجوکیشن بلتستان سکردو سیپ سکولوں میں 18 سے 20 سال سروس کرنے والے اساتذہ پر رحم کریں آخر سکردو کے شہریوں کے حقوق سلب کیوں ہوتے ہیں؟ سابق وزیر تعلیم ابراہیم ثنائی جنہوں نے گانچھے میں 65 دیہات نہیں 65 سکولوں کو ریگولر لسٹ میں شامل کیا گیا ہے جبکہ سکردو حلقہ 1،2،3 کے7 نمائندے کونسل اور اسمبلی میں موجودگی کے باوجود سکردو حلقہ ایک دو تین کے سیپ سکولوں کے اساتذہ ریگولر لسٹ سے باہر کر دیا گیا ہے جوکہ سابق نمائندوں کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے ابراہیم ثنائی کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے گانچھے کے تمام سیپ سکولوں کو لسٹ میں شامل کیا اخلاقی طور پر ان کا فرض بنتا تھا کہ متذکرہ بالا اساتذہ کرام کو بھی لسٹ میں شامل کر لیتے لیکن بدقسمتی سے نہیں ہوا جس کے سبب متاثرہ اساتذہ در در انصاف کے لئے سرگرداں ہیں اگر مذکورہ بالا اساتذہ کو انٹرویو میں شامل نہیں کیا گیا تو راست اقدام ان کا بنیادی حق ہے بدقسمتی سے کوئی بھی جائز کام احتجاج جلسہ جلوسوں کے بغیر کسی کو نہیں ملتا ہے انہوں نے مزید کہا کہ سال 2017،18 میں ڈائریکٹر بابر خان نے SAP بلڈنگ اور SAP سکولوں کا باقاعدہ چھان بین کرکے کمیونٹی بلڈینگ این جی او بلڈینگ کو الگ کیا گیا اور اس چھان بین میں سیپ سکول اولڈینگ ٹوق، پٹوال حسین آباد بیافو وغیرہ کیٹگری A میں شامل رہا اس کے بعد موجودہ ڈائریکٹر ایجوکیشن نبی شاہ نے دوبارہ چھان بین کرکے از سرنو انکچر A,B,C,D ترتیب دیا انکچر اے تک ایک لسٹ مرتب کیا گیا جس میں انکسچر A میں سیپ بلڈینگ اور سیپ ٹیچرز کو رکھتے ہوئے سیپ سکول ٹوق، پٹوال، بیافو حسین آباد شامل رکھا جبکہ بلترتیب کیٹگری A,B, C میں این جی او بلڈینگ اور کمیونٹی سنٹر وغیرہ مرتب کئے ۔13 دسمبر 2019 میں سیپ ٹیچرز ایکٹ جی بی اسمبلی میں قرارداد منظور ہونے کے بعد محکمہ ایجوکیشن نے مورخہ 26 جون 2020 کو 14 سکولوں کی حتمی فہرست بغرض انتقال ڈپٹی کمشنر سکردو کو ارسال کئے اور اس فہرست میں مذکورہ بالا سکول موجود ہیں دلچسپ امر یہ ہے کہ مذکورہ تمام سکول محکمہ تعلیم کے نام تصدیق بھی ہوا ہے انتقال تصدیق ہونے کے بعد مورخہ 22 اگست کو انٹرویو کے لئے کال لیٹر جاری کرنے سے پہلے 18 اگست کو اچانک سکردو ٹاون کے 6 سکولوں کو حتمی فہرست سے ہی خارج کر دیا گیا یہاں ڈائریکٹر ایجوکیشن کی بد نیتی کھل کر عیاں ہو رہی ہے ۔مذکورہ سکولوں میں موجود اساتذہ دراصل این ای پی پروجیکٹ میں بھرتی ہونے والے ٹیچرز ہے جن کی سروس اب 18 سے 20 سال ہوئے ہیں

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc