راء سے ماہانہ پچیس ہزار یور لیتا رہا، قوم سے معافی مانگتا ہوں، حقوق پاکستان نے دینا ہے. عبد الحمید خان

گلگت (ٹی این این ) دو دہائیوں سے خود ساختہ جلاوطن اور کعلدم قوم پرست بلاورستان نیشنل فرنٹ کے چیرمین عبد الحمید خان نے سال دو ہزار اُنیس میں خود کو ریاستی ادارے کے حوالے کیا تھا، آچانک منظر عام پر آگیا. گلگت میں مخصوص صحافیوں کو پریس بریفنگ کے بعد جاری پریس ریلیز کے مطابق اُنہوں نے الگ ریاست کی نظرئے کو غلط قرار دیکر قوم سے معافی مانگ لی ہے. اُنہوں نے انکشاف کیا کہ ہندوستان کی خفیہ ایجنسی راء ہر ماہ 25 ہزار یورو انکو گلگت بلتستان میں امن خراب کرنے کیلئے دیتے تھے لیکن انہوں ان پیسوں کو فلاحی کاموں پر لگایا کبھی خطے کی امن خراب کرنے کی کوشش نہیں کی. انکا مزید کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کو حقوق کسی اور ملک سے نہیں بلکہ پاکستان سے ہی ملنا ہے لہذا پاکستان کے قوانین کے مطابق حقوق کی حصول کیلئے جہدوجہد کرنا چاہیے.
اُنہوں نے اپنی واپسی کو قبول کرنے پر آرمی چیف وزیر اعظم پاکستان اور مقتدر حلقوں کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا ہے میرا ملک سے باہر جانا کوئی سیاسی مفاد نہیں تھا لیکن محسوس کیا ہے کہ پاکستان کے پرچم تلے ہی ہم سیاسی جہدوجہد کو آگے بڑھانا ہے.
اُنکی اچانک منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ہنگامہ کھڑا ہوگیا ہے. سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بُک پر صارفین جہاں عبد الحمید خان کو ڈبل ایجنٹ قرار دے رہا ہے وہیں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اُنکی طرف سے ملکی میڈیا پر گلگت بلتستان مسلسل بدنام ہوتے رہے پرامن جہدوجہد کرنے والوں پر بھی راء کے ایجنٹ جیسے الزامات لگتے رہے لہذا عبد الحمید خان گلگت بلتستان کا مجرم ہے. کچھ سوشل میڈیا صارفین نے یہاں تک لکھا ہے کہ عبد الحمید خان گروپ کی جانب سے گلگت بلتستان میں سی پیک کے خلاف سازش کرنے اسلحہ برآمد ہونے جیسے میڈیا ٹرائل بس گلگت بلتستان کی میڈیا ٹرائل ہی تھا تاکہ حقوق کی بات نہ کریں ورنہ انہیں کسی عدالت میں پیش کرکے سزا ملنی چاہیے تھی.

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc