خیر النساء کی میت اور بچے رحم کے طالب!!

مقبوضہ کشمیر کے ضلع لداخ کے نواحی علاقہ بیوقدنگ سے 26 اگست کو لاپتہ ہونے والی تین بچوں کی ماں 30 سالہ خیر النساء زوجہ غلام عباس کی لاش بلتستان کے ضلع گنگچھے کے علاقہ چھوربٹ تھوقموس کے مقا م پر دریائے شیوک سے دو روز قبل ملی ہے ۔ علاقے دونوں اطراف ایک دوسرے کے عزیزو اقربا آباد ہیں اور خونی لکیر لائن آف کنٹرول (ایل اور سی) نے جدا کیا ہوا ہے ۔ لداخ سے اطلاع ملنے کے بعد بلتستان میں 24 اگست سے عزیز و اقربا تلاش میں تھے ۔
مقامی سوشل میڈیا اور ذرائع کے مطابق اہل علاقہ نے میت کو دریا سے نکال کر نماز جنازہ پڑھنے کے بعد میت اسسٹنٹ کمشنر چھوربٹ کے حوالے کردی ہے ، جنہوں نے لاش کو ڈسٹرک ہیڈکوارٹر ہسپتال پہنچا دیا ، جہاں سے میت سکردو پہنچادی گئی ہے اور لاہور واہگہ بارڈر کے راستے میت کو لداخ لے جانے پر غور کیا جارہاہے ۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ مرحوم خاتون کے ورثاء کا گائوں لائن آف کنٹرول (ایل او سی ) کی دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں چھوربٹ فرانو کے مقام سے صرف دو سے تین کلومیٹر دور ہے ۔
مقامی سوشل میڈیا کے مطابق اگر میت واہگہ بارڈر کے راستے ورثاء تک پہنچانے کی کوشش کی گئی تو میت پہلے راولپنڈی ، پھر لاہور ، وہاں سے بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے مختلف شہروں کے راستے ورثا تک پہنچادی جائے گی ، ایک اندازے کے مطابق مجموعی طور پر 5ہزار کلومیٹر کافاصلہ طے کرنا ہوگا اور اس سفر میں مزید کئی دن بلکہ ایک ہفتہ بھی لگ سکتا ہے ۔ اس کی بجائے دونوں ممالک کے حکام انسانی ہمدردی کی بنیاد پر میت کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی )سے ورثا کے حوالے کی جائے ۔
پاکستان کےزیر انتظام گلگت بلتستان کے ضلع استور کی وادی گریز (قمری منی مرگ)تحصیل شونٹر کا 8 سالہ معصوم بچہ عابد شیخ والد نزیر شیخ 8 جولائی 2019ء کو اسکول سے گھر جاتے ہوئے دریائے کشن گنگا میں ڈوب گیا اور 9 جولائی کو گائوں سے تقریباً 20 کلومیٹر دور وادی گریز اچھورا(مقبوضہ کشمیر )میں دریائے کشن گنگا کے کنارے سے لاش ملی اور مقامی عوام نے لاش نکالنے کے بعد عظیم انسانی ہمدردی اور جذبے کا مظاہرہ کرتے ہوئے کفن اور دیگر انتظامات کئے، عوام اور مقامی انتظامیہ کا جذبہ قابل تحسین تھا۔
دوسری جانب ورثا اور سوشل میڈیا میں دو طرفہ آواز اٹھی ، جس کو پاکستان اور بھارت کی حکومتوں نے سنا اور 11جولائی کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر لائن آف کنٹرول (ایل او سی)کے راستے ورثا کے حوالے کی گئی ، جو قابل تحسین عمل تھا اور یہ غالباً 73 سال میں پہلی بار ایسا ہوا ہے۔ ابتداء میں عابد شیخ شہید کی میت بھی واہگہ بارڈر یا آزاد کشمیر ٹٹوال سے ورثا تک پہنچانے پر غور کیا ، مگر دونوں حکومتوں کو رحم آیا۔ آج بھی خیرالنساء کی میت اور اس کے تین معصوم بچے رحم کے طالب ہیں ۔ دونوں ممالک کی حکومتیں میت اور ورثاء کو مشکل میں ڈالنے کی بجائے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر میت کو ایل او سی سے ورثا کے حوالے کردی جائے ۔
تحریر: عبدالجبارناصر

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc