دیامر یوتھ مومنٹ اور تتہ پانی متبادل روڈ تحریک

شاہراہ قراقرم پاکستان کے شمال میں واقع وہ عظیم راستہ ہے جو وطن عزیز کو چین سے ملاتاہے۔اسے ”قراقرم ہاٸی وے اور شاہراہ ریشم بھی کہتےہیں۔
یہ دنیا کی عظیم پہاڑی سلسلوں کوہ قراقرم،ہندکش اور ہمالیہ کو عبور کرتی ہوٸی درہ خنجراب کی 4693 میٹر بلندی سے ہوکر چین کے صوبہ سنکیانگ کو پاکستان کے شمالی علاقوں سے ملاتی ہے۔یہ شاہراہ دنیا کی بلند ترین بین الاقوامی شاہراہ ہے۔
شاہراہ قراقرم بیس سال کے طویل عرصے کے بعد یعنی 1986 میں مکمل ہوا ہے،اور اسے پاکستان اور چین نے ملکر بنایاہے۔اس کی تعمیر کرتے ہوٸے 810 پاکستانی اور 82 چینوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔اس کی لمباٸی 1300 کلومیٹر ہے۔یہ شاہراہ چینی شہر کاشغر سے شروع ہوتاہے اور خنجراب،سوست،پسو،عطإآباد،کریم آباد،علی آباد،ہنزہ،نگر،گلگت،دینور،جگلوٹ،تھلچی،گونرفارم،بونرفارم،چلاس،ڈاسو،شتیال،پٹن،بشام،مانسہرہ،ایبٹ آباد،ہری پور ہزارہ سے ہوتے ہوٸےحسن ابدال کے مقام پر جی ٹی روڈ سے ملتی ہے۔
شاہراہ قراقرم دنیا کے ان راستوں میں سے ایک ہے جن کی سیاسی،معاشرتی اور ثقافتی اہمیت انتہاٸی زیادہ ہے۔شاہراہ قراقرم کے مشکل پہاڑی علاقے میں بناٸےگٸے ہے اس لیے اسے دنیا کا آٹھواں عجوبہ بھی کہتےہیں۔
شاہراہ ریشم پر صرف اشیاٸے ضرورت اور خوردنوش کی خرید وفروخت نہیں ہوتی ہیں۔بلکہ اس تاریخی شاہراہ نے افکار،نظریات،اساطیر،عقاٸد ،آدب،آرٹ،زبانوں اور ثقافتوں کی اتصال میں انتہاٸی اہم کردار ادا کیا۔
اس شاہراہ کی سیاسی اہمیت اپنی جگہ، اس پر واقع اہم ترین قومیں اور جغرفیاٸی وحدتیں اپنی جگہ انتہاٸی اہمیت کی حامل ہیں۔بھاشہ ڈیم اور ”سی پیک “ جیسا میگا پراجیکٹ کی وجہ سے اس کی اہمیت میں مزید اضافہ ہواہے۔
لکین گلگت بلتستان کی باسیوں کی بدقسمتی سمجھے یا ایک سوچی سمجھی سازش سمجھے یہ روڈ ہمارے قومی ادارہ FWO کے زیرنگرانی میں ہیں۔جس کی وجہ سے کوٸی قدرتی آفت مثلاً سیلاب،زلزلہ وغیرہ میں یہ روڈ بہت بری طرح متاثر ہوتاہے۔
پچھلے دنوں پاکستان میں بارشوں کا نہ روکنے والا سلسلہ شروع ہوا جس سے بالعموم پورا پاکستان اور بالخصوص گلگت بلتستان کے روڈ لیڈ سلاٸیڈنگ کے زد میں آیا۔
اور اوپر یہ سیزن بھی سیاحوں کا سیر وتفریح کا تھا۔
ان دنوں کی سلاٸیڈنگ کی وجہ سے 8 کے قریب لوگ کوہستان میں ہلاک ہوٸے اور 4 لوگ گلگت بلتستان میں ہلاک ہوٸے۔
یہ بارشیں گلگت بلتستان کےلیے تب وبال جان بن گٸے جب لینڈ سلاٸیڈنگ کی وجہ سے راٸیکوٹ تتہ پانی کی مقام پر روڈ مکمل طور پر بلاک ہوگیا جس سے آمدرفت معطل ہوگیا۔
ہنزہ،استور،غزر،دیامر،گلگت،جگلوٹ اور فیری میڈوز میں سیاحوں کی بڑی تعداد محصور ہوکر رہےگے، یہ سب کچھ تتہ پانی راٸیکوٹ میں متبادل روڈ کی تعمیر نہ ہونے کی وجہ سے ہوا ہے۔ اس سارے سٹوری کو سمجھنےکےلیے تتہ پانی کے بارے میں بھی جاننا ضروری ہیں۔

تتہ پانی چلاس سے بزریعہ روڈ گاڑی پہ ایک گھنٹے کے مسافت پہ دیامر کی حدود میں واقع ہیں۔اور یہ جگہ فیرومیڈوز جانے والوں کی پارکنگ ہیں، یہاں سے سیاح فیری میڈوز جاتےہیں۔چلاس سے جب آپ سفر کرتے تو تتہ پانی تک روڈ داٸیں طرف ہوتاہے جب تتہ پانی کراس کرتے تو آگٸے شنگریلا ہوٹل روڈ پہ آٸےگی شنگر یلا سے دو قدم آگٸے راٸیکوٹ پل پہ پہنچےگٸے ۔

جب سے قراقرم بنا تب سے یہ جگہ گلگت بلتستان کے عوام کےلیے پریشانی کاسبب بنا ہیں اور اس جگہ پہ گورنمنٹ آف پاکستان کی ہر سال ایک خطیر رقم ضاٸع ہوتی ہے۔
اس جگہ پہ صرف بارش کے وقت لینڈ سلاٸیڈنگ نہیں ہوتی بلکہ ہلکا سے ہوا آنے سے بھی اوپر سے پھتر آکر روڈ بلاک ہوجاتاہے، بعض اوقات سخت گرمی میں بھی یہ روڈ کٸ کٸ دن بند ہوتاہے۔اس کی وجہ یہ وہاں نمی بہت زیادہ ہیں دوسری بات اس جگہ پہ پورا پہاڑ مٹی کا تودہ ہیں۔جو پانی جذب کر کے کسی بھی وقت آلاو بن جاتاہے۔
اس مسلے کو حل کرنے کےلیے ارباب اقتدار مل بیٹھ گٸے تو ایک دن کا کام ہیں، اور ہر سال جو رقم ضاٸع ہوتی وہ بھی قومی خزانے کو جاٸےگی۔

اس روڈ کو محفوظ بنانے کےلیے پہلا حل یہ ہےکہ گوہر آباد پل پہ شاہراہ قراقرم موڑ کر متبادل روڈ تعمیر کرنے چاہیے جس سے روڈ پہ سفر کرنے والے ہزاروں مسافر بھی محفوظ ہونگے اور ”ایف ڈبلیو او“ والوں کی جان بھی چھوٹ جاٸےگی۔
متبادل روڈ کے حوالے سے پچھلے سال سے دیامر یوتھ مومنٹ کی کاوش قابل تحسین ہیں۔اور خاص کر شبیر احمد قریشی مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں پورے جی بی والوں کی توجہ اس اہم ایشو پہ توجہ دلانے میں کسی حدتک کامیاب ہواہے۔اور اس کے ساتھ پورے گلگت بلتستان کے مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے شخصیت بھرپور ساتھ دینٕے کی یقین دہانی بھی کرایاہیں۔اور حقیقت بھی یہی ہےکہ یہ کسی ایک ضلع یا کسی ایک فریق کا مسلہ نہیں بلکہ پورے گلگت بلتستان کا اجتماعی ایشو ہیں۔
پچھلے دنوں میں خود بھی سوات سے سفر کرکے تتہ پانی کے مقام بہت بری طرح پھنس چکا تھا۔اور چار دن بعد کھول گیاتھا،اس لے میں خود اس بات کا آٸینی شاہد ہوں اس وقت گلگت بلتستان کے لوگوں اور پاکستان سے آٸے ہوۓ سیاحوں پہ کیا گزار رہی تھی۔عورتوں،بچوں اور بوڑھوں کے حالت دیکھ کر میرے زہن میں یہی سوالات چل رہےتھےکہ۔

یااللّٰہ! آخر گلگت بلتستان کے عوام کب تک تتہ پانی کےموت کی کنواں سفر کرتے رہیں گے؟
وہ منتخب نماٸندے جن کو ووٹ دیکر مرکز تک پہنچایا،کب تتہ پانی کے مقام پر متبادل روڈ تعمیر کرکے عوام کو پرامن سفر کرنے کےلیے اقدامات کریں گے؟
کب تک یہاں کے عوام ”ایف ڈبلیو او“ اور ”این ایچ اے“ کے اختلاف کی بنیاد پر مرتے رہیں گے یا ڈر ڈر کر کے زندگی گزاریں گے؟
کیا FWO کو موردالزام ٹھرانے سے تتہ پانی روڈ کا مسلہ حل ہوگا؟
کیا صرف دیامر یوتھ مومنٹ اور سوہنی دیامر کی محنت سے تتہ پانی کا متبادل روڈ بن جاٸےگا؟
بالکل نہیں:
عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہیں پورے گلگت بلتستان کے عوام کو اس مسلے کے حل کےلیے ایک ہونے کی ضرورت ہیں۔خدا را تمام تعصبات وتفرقات کو بالاطاق رکھتے ہوٸے دھرتی ماں کی بقا کےلیے ایک ہونے کی ضرورت ہیں۔یہ گلگت بلتستان دھرتی ماں ہماری بقاہے۔جب دھرتی ماں مرجاٸے تو ہمارے رہنے کا کوٸی اسباب نہیں ہے۔
گلگت بلتستان والے سنی،شعیہ،دیوبندی،اسماعیلی اور نوربخشی ایک چمن کےپھول ہیں۔
ہمیں اس اصول پہ عمل کرکے شاہراہ قراقرم تتہ پانی کی مقام کو موت کنوں سے نکال کر متبادل روڈ تعمیر کرکے محفوظ شاہراہ بنانے کےلیے کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ کسی ایک فریق کا مسلہ نہیں ہے بلکہ ہم سب کے چمن کا مسلہ ہے۔

 

تحریر۔۔۔۔۔ضیا ٕاللّٰہ گلگتی

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc