شگر آرٹس کونسل کی محفل مسالمہ ۔

ماہ محرم کے گزرتے گزرتے شگر آرٹس کونسل کے زیر اہتمام ایک کل بلتستان محفل مسالمہ راہی ھاوس سکردو میں منعقد ہوئی جس کی صدارت گلگت بلتستان کے نامور سکالرز درجنوں کتابوں کے مصنف صدارتی ایوارڈ یافتہ جناب محمد حسن حسرت نے کی جبکہ کراچی سے آئے ہوئے خطیب آل محمد اور دلربا شاعر و ناثر علامہ علیم رحمانی اور خوبصورت لحن کے مالک شاعر نادم شگری مہمان خصوصی تھے ۔ مسالمے کی نطامت کے فرائض بلتستان کے ادبی افق پر ابھرتے ہوئے خوبصورت لہجے کے شاعر و کمپیئر جناب نسیم ادا نے نبھائے ۔ مخصوص نشستوں پر جلوہ افروز ان حضرات کے علاوہ احسان علی دانش، افضل روش، یوسف کھسمن، طالب مجروح، نسیم ادا، ابراہیم جعفری، انور آغا، علی محمد خالص، فدا محمد راہی، جمیل شیخ ، نثار یاور، موسی برہان، کاظم اثر، خادم حسین تبسم، جواہر بھٹو ، عقیل کامل، ہمایوں شگری، حسنین غازی اور حامد رضا نے سید شہدا امام عالی مقام اور ان کے بہتر جان نثاروں کی جرات و بہادری کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے منظوم سلام پیش کئے ۔ اس محفل مسالمے میں کواردو سے تعلق رکھنے والے شاعر یوسف کھسمن اور شگر کے نسیم ادا نے نئے لہجے اور نئی آہنگ میں جیسے کلام کہے انہیں سن کر سامعین کی داد آسمان چھونے لگی۔ انہیں سننے کے بعد صدر محفل حسن حسرت نے کہا کہ بلتستان کے نوآموز شعرا کو سن کر خوشگوار حیرت ہوئی ۔مجھے ملک کے اندر بہت سارے شہر میں مختلف ادبی کانفرنسوں، مذاکروں اور مشاعروں میں جانے کا اتفاق ہوا مگر میرے گلگت بلتستان کے شعرا کے خیالات، بندشیں، روانی اور ادائیگی کسی شہر کے شاعر سے ہرگز کم نہیں ۔ شگر کے شعرا نے سکردو میں محفل سجا کر میزبانی کی ہے حقیقت میں میزبانی کا حق ہم رکھتے تھے مگر شگر کے شعرا نے پہل کر کے اس سعادت کے خود حقدار ٹھہرائے ۔ سید شہدا مولا حسین کی عظیم قربانی کی یاد میں محافل و مجالیس کا سلسلہ تب شروع ہوا جب بلتستان میں شمع اسلام فروزاں ہوئی ۔ آج بلتستان کی روایتی اخوت و محبت بھی انہی محافل و مجالیس کی دین ہے ۔ محرم الحرام میں علمائے کرام اور ذاکرین واقعہ کربلا پر روشنی ڈالتے ہیں تو عوام کی دین شناسی مضبوط ہوجاتی ہے ۔مہمان خصوصی کراچی کے نامور خطیب علامہ علیم رحمانی نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ ایک مدت کے بعد سکردو میں بلتستان بھر کے اچھے شعرا کو ایک ساتھ دیکھ کر اور سن کر خوشی ہو رہی ہے ۔میری دلی تمنا تھی کہ ایسا موقع ملے آج خدا کے فضل سے یہ تمنا پوری ہوئی، اس موقع پر شعرا نے سلام عقیدت پیش کیا ان کا نمونہ کلام یہ ہے ۔
حسنین غازی
ہائے افسوس ہے غازی زمانے کے ستم گر نے
علی کے لا ڈلوں پر ہائے کیسا ظلم ڈھایا ہے
پڑھو اشعار رو رو کر جدا اب ہوگیا قاسم

ہمایوں شگری
میں جب تلک در مولا سے یوں لپٹ کے رہا
منافقت سے میرا رابطہ بھی کٹ کے رہا
میں پہلے اپنے خدا سے ہہت ہی دور تھا پر
علی کے ذکر سے یہ فاصلہ سمٹ کے رہا

خادم حسین تبسم
اسلامی چھوسی کھیود پو نہ ان پو نی نبی ان
گا رگوسپی وخینگ چھوس پو لا سترونگ کھن پو علی ان

علی محمد خالص
یاری اذانہ نا سکوری لے سنینگ نہ مک
یاری رگالوکھپو سنینگ پینگ سکیدید نی سیک پا سیک
یاری صفت نہ ستودکھا زیربا تھوکپا چک
نی کھے مید ہلچو لا اونید غدر پو حسین

افضل روش
چھدکھا گوید کرب و بلا ہلتا نہ خدا یودپن زیرے
دا رگی فقلہ حسین زبوانا خدا یودپن زیرے
میدزیرے زیربونگلا سا یودپن خدا زیربا فوغید
کھراغی کھا یانی حسین ربیا نہ خدا یود پن زیرے

کاظم اثر
شہدائی رگو بونگ کھڑق نہ بیانینگ نو ریلے تھنگ لا ردن مید بیاسے فنگ سے
یاری نےنے چو لا یانگ تھونگسے سناونوے کھا نہ قتلگاہ چھونگ لے علی اکبر

نثار حسین یاور
نفسی گورگیال چن ہرتوئیکھا رگیالفی دے بخچن پو حر
نیس پونی بخشش سنینی نا ژلفی دے بخچن پو حر

جمیل شیخ
حسین بعد علمدار اس خوشی میں جئے
نبی کی ہو بہو تصویر اب بھی زندہ ہے
نہ جانے شام غریباں گزر گئی کیسے
سکینہ پہن کے زنجیر اب بھی زندہ ہے

محمد جواہر بھٹو
حسین یاری پو نہ پو سونگفی ہلژھمہ رگو لا سلام
رسولی بوسہ ہرتانے بیاسپی دے کھسو لا سلام

عقیل کامل
تھوس لوکھپو یاری تھونگسے کھڑیلے یود زگوسے خنم پو یا حضرت عباس
دنیا بگیالے یود تھونگسے یاری جاہ و حشم ہو یا حضرت عباس

طالب مجروح
یانگ لا تم چک سونگ اینا ہائے کوانا رگیالمو یل زیرے
زینیبی تھیق لوکھپو لا تریس ژامژے شخ مید رگل زیرے

فدا راہی چھورکہ
بیاژھن تھینگ چس بیاسے نین ژھن پو گونچس کربلاینگنو
بو چو گونسید کھراغی بلتھود نہ رگوفچس کربلائینگنو
انور حسن آغا
ستروق پو سکورے چھوس پو اپوچوے یانی سی خسون چوکس مظلوم حسینا
فرن پو حغی دنیا گانینگنو یانی سی تھون چوکس مظلوم حسینا

موسی برہان
ژھیو رگالوکھسی نا علی چھنگ تھونگسے میدپا دوکپی مین
نایا حسینی ماتمینگ برانگ ردونگسے میدپا دوکپی مین

نسیم ادا
رگو نورینگ یا بنگلا کھڑق سید کھرقفہ نا ہلچے کھا حسین
سنینگ پو سنینگ تھونگ کھن ژالے گوید تھون مہ چک سنیکہ حسین
مید پا رف رف نہ براق عرشی پہ یار مک لا تھونید
شخفا لا ہلتاسنہ خچسین رینگچن نبی سینیکہ حسین

یوسف کھسمن
لے کھیری خسون لوکھپو کھیانی سی حسین نہ لوخ مہ بیوس
لے کھیری دوک لنگپو کھیانی کوفہ پونگ نہ ژوخ مہ بیوس
لے کھیانی شخ مید بیاسے زہرائی سنینگ پو ژھیر مہ چوک
ہلوکسے مک چھو فیق مہ بیا کھیانی یزید لا روخ مہ بیوس

احسان علی دانش
زمانے کے ستم پر آج بھی زنجیر باقی ہے
حسین ابن علی کے خون کی تاثیر باقی ہے
یہ زینب نے کہا بھائی تو خون میں سو گئے لیکن
مجھے کوفے میں جانا ہے میری تقریر باقی ہے
وہ انداز تخاطب دیکھ کر زینب کا کونے میں
ستم گر کہہ اٹھے کہ پیکر شبیر باقی ہے

نادم شگری
حسینی مینگ فسوسے مک چھو ژھرینگنو لانگسے دوگید
بتولی لقفیسی کھا لینمی غدیانگنہ گانگسے دوگید
علی نہ آل علی تھیمبہ چن زگو تھیم پو لا جو
دی ننگپو ژینگنو تھونید ژون خوجی کھا سکیانگسے دوگید

علیم رحمانی
علاج غم ھے یہ ھردم حسین کاغم
دکھوں کی چوٹ کامرھم حسین کاغم
یذیدیت کی خوشی مرگئی یذید کے ساتھ
جہاں میں دین کازندہ بھرم حسین کاغم

اس محفل مسالمے کے اختتام پر گلگت بلتستان کے استاد شاعر مرحوم پروفیسر حشمت علی کمال الہامی اور مزاح کے شاعر وزیر راہی کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی ۔

تحریر ۔ احسان علی دانش

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc