دیامر بھاشہ ڈیم“ اور ”گریجویٹس الائنس دیامر“

دیامر بھاشہ ڈیم پاکستان کے شمالی علاقہ گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں تعمیر ہوگی پہلی مرتبہ اس منصوبے کی تجویز 1980 کے دہائی میں زیر غور آئی تھی دیامر بھاشہ ڈیم کی فیزیبلٹی رپورٹ پہلی مرتبہ 2004 میں تیار کی گئی سن 2005 سے 2008 کے عرصے میں دیامر بھاشا ڈیم کی فیزیبلٹی اور ڈیزائنگ پر کام شروع ہوا سن 2008 میں ایکزیکٹیو کمیونٹی آف نیشنل اکنامکس نے ڈیم کی تعیر کی باقائدہ منظوری دی تھی ۔دیامر بھاشہ ڈیم کا افتتاح سب سے پہلے اس وقت کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے سنہ 1998 میں کیا تھا۔ سنہ 2006 میں جنرل (ر) پرویز مشرف نے دیامر بھاشہ ڈیم کی تعمیر کا اعلان کیا۔
دیامر بھاشہ دیم کا ایک اور افتتاح سنہ 2011 میں اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کیا تھا اور یوں حال ہی میں وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب عمران احمد خان نیازی نے 15 جولائی 2020 کو افتتاح کیا اور دیامر بھاشہ ڈیم کی تعمیر کا کریڈٹ لینے والے پانچواں حکمران بننے میں کامیاب ہوئے۔ دیامر بھاشہ ڈیم کو انجئنرنگ کی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو دنیا کا سب سے بلند RCC ڈیم ہوگا جس میں 81 لاکھ ایکڑ فیٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہوگی اس میں ہمہ وقت 6.40 میلین ایکڑ فیٹ پانی موجود رہے گا۔دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر سے 16500 لوگوں کو روزگار ملےگا جبکہ 4500 میگاواٹ سستی بجلی پیدا کرنے میں مدد ملے گی ملک میں پیدا ہونے والے پانی کی موجودہ قلت کو بھی ختم کیا جاسکے گا جبکہ 12 لاکھ ایکڑ فیٹ اراضی کو زراعت کیلئے استعمال میں لایا جائے گا ملک میں سیلابوں سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنے میں مدد ملے گا۔دیامر بھاشا ڈیم کے تعمیر سے ضلع دیامر کے تقریباٙٙ تیس دیہات مجموعی طور پر 2200 گھرانے زیر آب آئنگے ضلع دیامر کے بہت بڑا حصہ متاثر ہوگا ۔مئی 2020 میں واپڈا کی جانب سے دیامر بھاشا ڈیم کا تھیکہ فوج کے زیر انتظام چلنے والا ادارہ FWO اور چین کی کمپنی پاور چائنہ کو دیا گیا ۔دیامر بھاشا ڈیم ملکی ترقی کا اہم ترین میگا پروجیکٹ ہونے کے ساتھ ملک سے بے روزگاری کے خاتمے کیلئے اہم سنگ میل ثابت ہوگا اس اہم منصوبے کے تعمیر کیلئے اہلیان دیامر کے قربانیاں قابل فراموش ہے تمام تر قربانیوں کے باوجود دیامر کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو نظر انداز کرنا نا انصافی ہے ۔تمام تر ناانصافیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے دیامر کے گریجویٹس نے اصولی موقف کے تحت 20 جون 2020 کو گریجویٹس الائنس دیامر کا بنیاد رکھا
جس کا مقصد دیامر کے بے روزگار پڑھے لکھے نوجوانوں کو ان کے جائز حقوق دلوانا ۔عموماٙٙ اعلٙی حکومتی اعوانوں میں یہ ابہام اور غلط تصور پایا جاتا ہے کہ دیامر میں پڑھے لکھے نوجوانوں کی کمی ہے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہےحقیقت یہی ہے دیامر میں ہزاروں کی کی تعداد میں پڑھے لکھے نوجوان موجود ہیں۔ دیامر کے نوجوان دیامر بھاشہ ڈیم جیسے اہم منصوبے کی تعمیر و تکمیل میں اپنے صلاحیتوں کو بروے کار لاسکتے ہیں۔لیکن اس کے باوجود
دیامر بھاشہ ڈیم منصوبے میں واپڈا کے جانب سے پڑھے لکھے نوجوانوں کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے
دیامر کے نوجوان خدادا صلاحیتیں سے مالا مال ہیں۔مگر ایک بےبنیاد پروپیگنڈے کے تحت دیامر کے پڑھے لکھے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
دیامر بھاشہ ڈیم میں ملازمتوں کا اولین حق دیامر کے عوام کا ہے 2010 کے تحریری معائدے کے تحت ملازمتوں میں دیامر کے مقامی گریجویٹس کو ترجیحی بنیادوں پر ان کا حق ملنا چاہئے
تاکہ علاقے سے بے روز گاری اور احساس محرومی کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔ وگرنہ جب معاشرے میں غربت، بے روزگاری، رشوت ستانی،اقربا پروری، ناانصافی بڑھ جائے تو افراد حسد اور تعصب ، حرص و ہوس اور اسی نوع کی کم زوریوں،اخلاقی گراوٹ کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ معاشرے میں نفرت، غم وغصہ اور مایوسی جنم لیتی ہے جس کے نتیجے میں افراتفری اور نفسانفسی پر وان چڑھتی ہے۔لہزا حکومت کو مسائل کے فوری حل کیلئے دیر نہیں کرنا چاہئے امید ہے حکومت وقت “گریجویٹس الائنس دیامر“ والوں کے مطالبات سنجیدگی سے حل کریگی
گریجویٹس الائنس دیامر اداروں سے افہام و تفہیم اور باہمی تعاون سے علاقے کے مقامی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی پرامن جہدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔اور اپنے حقوق کے حصول تک پرامن جدوجہد جاری رکھے گی۔

تحریر
اسحاق شریف

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc