دیامر بھاشا ڈیم میں انجینئر عامر بشیر چوہدری کا تاریخی دور

دیامر بھاشا ڈیم ملکی ترقی، سلامتی اور خوشحالی کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے، اس پروجیکٹ پر 80 کی دہائی سے کام ہورہا ہے، کئی بار افتتاح ہونے کے باوجود بدقسمتی اس اہم میگا پراجیکٹ پر کام کا آغاز نہیں ہوسکا، مسلم لیگ نواز کے دور حکومت میں بھی اس اہم منصوبے پر کام ہوا جس کے بدولت زمین کی خریداری کا مرحلہ خوش اسلوبی سے پایہ تکمیل تک پہنچ گیا، بنیادی طور پر دو شخصیات جناب عامر بشیر چوہدری جنرل منیجر دیامر بھاشا ڈیم پروجیکٹ اور جناب بریگیڈیئر ر شعیب تقی جنرل منیجر اے ایل اینڈ آر کا مرکز کردار رہا، انہوں نے دن رات محنت کر کے اہم مسائل کو حل کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت وقت کو بہترین تجاویز بھی پیش کیں جو کاریگر ثابت ہوئیں اور ڈیم پر تعمیری کام کا باقاعدہ آغاز ہوا، 15 جولائی 2020 کو ملک کے اہم ترین شخصیات کا ڈیم سائٹ کا دورہ ہوا جس میں وزیراعظم،آرمی چیف وفاقی وزیر آبی وسائل، وفاق وزیر امور و کشمیر و گلگت بلتستان، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی آئی ایس پی آر چیئرمین واپڈا سمیت دیگر اہم شخصیات اس دورے میں موجود تھے، اس موقعے پر وزیراعظم پاکستان نے چیئرمین واپڈا اور اس کے ٹیم کو دل کھول کے داد دی جس کا کریڈٹ جناب عامر بشیر چوہدری اور ٹیم کو جاتا ہے،عرصہ دراز سے فائلوں کی نظر ہونے والا منصوبہ 15 میگاواٹ تانگیر ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر جنرل منیجر عامر بشیر چوہدری نے زاتی دلچسپی لی اور دن رات تگ ودو کے بعد ایگزیکٹو کمیٹی آف دی نیشنل اکنامک کونسل یعنی ایکنک سے باقاعدہ منظور کروائی اور اس پے کام کا باقاعدہ آغاز ہوچکا ہے، عامر صاحب نے ہر ایماندار اور مخلص کنٹریکٹر کی حوصلہ افزائی کی کرپٹ اور غیر فعال کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کی اور مختلف انکوائری سے قومی خزانے کو شدید نقصان سے محفوظ رکھا، یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس نے متاثرین ڈیم کو بھی بہترین انداز میں مطمئن کرایا، جس کا ثبوت حالیہ ریسیٹلمنٹ پیکج کی منظوری ہے، ساڑھے تیرہ ارب سے زائد رقم کی منظوری میں ان کا کردار مرکزی رہا اور ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کو منتقل ہونے والی چیک پر عامر بشیر صاحب ہی کے سائین موجود ہیں۔ انہوں نے اپنے زاتی پیسوں سے ریجنل ہیڈکوارٹر ہسپتال چلاس کے لئے قیمتی مشینری کا تحفہ دیا، اپنے زیر اثر اکثر ملازمین کے لئے ایک مسیحا کا کردار ادا کرتے رہے، مجبور اور لاچار لوگوں کو اپنی بساط کے مطابق نوکریاں بھی دی اور مالی امداد بھی دیتا رہا، ان کی انہی خدمات کے بدولت انہیں ممبر واٹر کے پوسٹ پر ترقی دی گئی ہے جو چیئرمین واپڈا کے بعد سب سے زمہ دار عہدہ ہے، 14 ستمبر 2020 کو آپ زندگی کے 60 بہاریں دیکھنے کے بعد سبکدوش ہوجائیں گے، ان کا دور واپڈا کے تاریخ کا بہترین دور تصور کیا جاتا ہے، امید ہے اسے ممبر واٹر کے پوسٹ یا چیف ایگزیکٹو آفیسر کی پوسٹ پر ایکسٹینشن دی جائے گی تاکہ دیامر بھاشا ڈیم پر جاری کام میں رکاوٹ نہ آجائے۔ جناب جنرل منیجر یہ آپ کے لئے اعزاز ہے کہ 60 سال کا ایک سنہرا دور گزارنے کے بعد ایک پائی کا خرد برد کا الزام اور انکوائری کے بغیر ریٹائر ہونا یقیناً حب الوطنی کی عظیم مثال ہے۔ نیک خواہشات اور عمر درازی کے لئے دعا گو ہیں۔

 

تحریر۔ عبدالھادی ودود

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc